Kalam

 غم ہو گئے بے شمار آقا

بندہ تیرے نثار آقا

بگڑا جاتا ہے کھیل میرا 

آقا آقا سنوار آقا

منجدھار پہ آ کے ناؤ ٹوٹی 

دے ہاتھ کہ ہُوں میں پار آقا

ٹوٹی جاتی ہے پیٹھ میری 

لِلّٰہ یہ بوجھ اُتار آقا

ہلکا ہے اگر ہمارا پلّہ 

بھاری ہے تِرا وقار آقا

مجبور ہیں ہم تو فِکر کیا ہے 

تم کو تو ہے اِختیار آقا

میں دُور ہوں تم تو ہو مِرے پاس 

سُن لو میری پکار آقا

مجھ سا کوئی غمزدہ نہ ہوگا 

تم سا نہیں غم گُسار آقا

گرداب میں پڑ گئی ہے کشتی 

ڈُوبا ڈُوبا، اُتار آقا

تُم وہ کہ کرم کو ناز تم سے 

میں وہ کہ بدی کو عار آقا

پھر منھ نہ پڑے کبھی خزاں کا 

دے دے ایسی بہار آقا

جس کی مرضی خدا نہ ٹالے 

میرا ہے وہ نامدار آقا

ہے ملکِ خدا پہ جس کا قبضہ 

میرا ہے وہ کامگار آقا

سویا کیے نابکار بندے 

رَویا کیے زار زار آقا

کیا بھول ہے ان کے ہوتے کہلائیں 

دُنیا کے یہ تاجدار آقا

اُن کے ادنی گدا پہ مِٹ جائیں 

ایسے ایسے ہزار آقا

بے ابرِ کرم کے میرے دھبّے 

لَا تَغْسِلُھَ الْبِحَار آقا

اتنی رحمت رضاؔ پہ کر لو 

لَا یَقْرُبُہُ الْبَوَار آقا

طلب کا منھ تو کس قابل ہے یا غوث
مگر تیرا کرم کامل ہے یا غوث
دوہائی یَا مُحِیُّ الدِّین دوہائی
بَلا اسلام پر نازل ہے یا غوث
وہ سنگیں بِدعَتیں وہ تیزیِ کفر
کہ سر پر تِیغ دل پر سِل ہے یا غوث
عَزُوْمًا قَاتِلًا عِنْدَ الْقِتَالٖ
مدد کو آ دمِ بِسمِل ہے یا غوث
خدا را ناخُدا آ دے سہارا
ہوا بگڑی بھَنْوَر حائل ہے یا غوث
جِلا دے دیں جَلا دے کفر و اِلحاد
کہ تو محیٖی ہے تو قاتل ہے یا غوث
تِرا وقت اور پڑے یوں دین پر وقت
نہ تو عاجز نہ تو غافل ہے یا غوث
رہی ہاں شامتِ اعمال یہ بھی
جو تو چاہے ابھی زائل ہے یا غوث
غَیُورا! اپنی غیرت کا تَصَدُّق
وہی کر جو تِرے قابل ہے یا غوث
خدا را مرہمِ خاکِ قدم دے
جگر زخمی ہے دل گھائل ہے یا غوث
نہ دیکھوں شکلِ مشکل تیرے آگے
کوئی مشکل سی یہ مشکل ہے یا غوث
وہ گھیرا رشتۂ شرکِ خَفی نے
پھنسا زُنّار میں یہ دل ہے یا غوث
کیے تَرسا و گَبْر اَقطاب و اَبدال
یہ محض اسلام کا سائل ہے یا غوث
تو قُوَّت دے میں تنہا کام بِسیار
بدن کمزور دل کاہل ہے یا غوث
عَدُوّ بد دین مذہب والے حاسد
تو ہی تنہا کا زورِ دل ہے یا غوث
حسد سے ان کے سینے پاک کر دے
کہ بَدتر دِق سے بھی یہ سِل ہے یا غوث
غذائے دِق یہی خوں اُستخواں گوشت
یہ آتِش دین کی آکِل ہے یا غوث
دیا مجھ کو انھیں محروم چھوڑا
مِرا کیا جرم حق فاصل ہے یا غوث
خدا سے لیں لڑائی وہ ہے مُعطِی
نبی قاسم ہے تو مُوصِل ہے یا غوث
عطائیں مُقْتَدِر غَفَّار کی ہیں 
عَبَث بندوں کے دل میں غِلّ ہے یا غوث
تِرے بابا کا پھر تیرا کرم ہے
یہ منھ ورنہ کسی قابل ہے یا غوث
بھَرَن والے تِرا جھالا تو جھالا
تِرا چھینٹا مِرا غاسِل ہے یا غوث
ثَنا مَقْصود ہے عَرضِ غَرض کیا
غرض کا آپ تو کافِل ہے یا غوث
رضاؔ کا خاتِمہ بالخیر ہو گا
تِری رحمت اگر شامل ہے یا غوث


टिप्पणियाँ

इस ब्लॉग से लोकप्रिय पोस्ट

Links hindi

Aamanu

Victorya