संदेश

दिसंबर 21, 2025 की पोस्ट दिखाई जा रही हैं

Naasbi

 اہلِ سنت کے نزدیک نصب (ناصبی) کے مفہوم کی وضاحت اہل سنت کے نزدیک (نصب) کی اصطلاح ایک نئی (بعد میں پیدا ہونے والی) اصطلاح ہے، جس کی کوئی اصل نہ قرآن کریم میں ملتی ہے، نہ نبی کریم ﷺ کی سنت میں، اور نہ ہی کسی صحابی کے قول میں۔ ہاں متقدمین ائمہ کے کلام میں (نصب) کا ذکر ملتا ہے۔ مگر فی زمانہ جو مخصوص مفہوم کے طور پر اس کو استعمال کیا جاتا ہے اُس لحاظ سے ائمہ متقدمین کے کلام میں نہیں ملتا ہے۔  چنانچہ امام علی بن المدینی رحمہ اللہ (م 234ھ) فرماتے ہیں: أخبرنا محمود بن عمر أخبرنا أبو بكر محمد بن إبراهيم الحداد قال حدثنا أبو طلحة قال حدثنا أبي قال سمعت علي بن المديني يقول : من قال فلان مشبه علمنا أنه جهمي ومن قال فلان مجبر علمنا أنه قدري ومن قال فلان ناصبي علمنا أنه رافضي. ہم سے بیان کیا محمود بن عمر نے، ان سے ابو بکر محمد بن ابراہیم الحداد نے، ان سے ابو طلحہ نے، ان سے اُن کے والد نے، وہ کہتے ہیں میں نے (امام) علی بن المدینی کو یہ کہتے ہوئے سنا: جو شخص یہ کہے کہ فلاں (مشبّہ) ہے، ہم جان لیتے ہیں کہ وہ (جہمی) ہے، اور جو یہ کہے کہ فلاں (مجبر) ہے، ہم جان لیتے ہیں کہ وہ (قدری) ہے، اور جو یہ...

Creater

 اس (world) کا ایک (creator) ضرور ہے جس کا انکار ممکن نہیں۔ اس دنیا کا ایک بنانے والا ضرور ہے اور اس کا انکار کرنا ممکن نہیں کیوں کہ یہ دنیا خود بہ خود نہیں بنی بلکہ یہ (دنیا) حادث ہے یعنی یہ پہلے نہ تھی بعد میں اس کو بنایا گیا۔ اور جس ذات نے اس کو بنایا وہ اس دنیا سے پہلے بھی موجود تھا۔  اس کے دلائل ہم اپنے امام سے نقل کرتے ہیں۔ ہمارے امام ابو منصور الماتریدی الانصاری رحمہ اللہ (م 333ھ) فرماتے ہیں: قال أبو منصور رحمه الله : ثم الدليل على أن للعالم محدثاً أنه ثبت حدثه بما بينا، وبما لا يُوجد شيء منه في الشاهد يجتمع بنفسه ويفرق، ثبت أن ذلك كان بغيره، والله الموفق. والثاني أن العالم لو كان بنفسه لم يكن وقتاً أحق به من وقت، ولا حال أولى به من حال، ولا صفة أليق به من صفة، وإذا كان على أوقات وأحوال وصفات مختلفة ثبت أنه لم يكن به، ولو كان لجاز أن يكون كل شيء لنفسه أحوالاً هي أحسن الأحوال والصفات وخيرها فيبطل به الشرور والقبائح، فدل وجود ذلك على كونه بغيره، والله الموفق. شیخ امام ابو منصور رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر اس بات کی دلیل کہ اس عالم کا کوئی پیدا کرنے والا ہے یہ ہے کہ اس کا حا...

Ajib

 « کیا زمین کے نیچے دوسری زمین پر لوگ آباد ہیں »  °°° کبھی لگتا ہے اس جگہ پہلے آیا ہوں جبکہ ایسا نہیں ہوتا اس کی کیا وجہ ہوتی ہے °°° #عجائباتِ_عالم 40  *دائیں طرف* والی تصویر عراق کے ایک صحراء کی ہے جہاں صحراء میں زمین کی گہرائی کے اندر جنگل دریافت ہوا  *بائیں طرف* والی تصویر چائنہ کی ہے جہاں  زمین سے179 میٹر گہرائی میں ایک جنگل دریافت ہوا ہے زیرِ زمین الگ دنیاؤں کا وجود ممکن ہے بلکہ بعض اوقات اس کا ثبوت بھی ملتا ہے مگر وہ لوگ جن کا دنیا کے ذرائع ابلاغ پر قبضہ ہے انہوں نے یہ حقیقتیں چھپا رکھی ہیں  *مثلاً دو سبز رنگ کے بہن بھائیوں کا قصہ مشہور ہے* جو زمین کے اندر سے آئے تھے وہ سبز رنگ کے تھے صرف سبزہ کھاتے تھے ہماری دنیا کی آب و ہوا موافق نہ آنے کی وجہ سے پہلے لڑکی مر گئی پھر چند سال لڑکا زندہ رہا وہ بھی مر گیا اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہٹلر زیرِ زمین دنیا کی کھوج میں فوجیں بھگاتا رہتا تھا جس میں اسے کچھ حد تک کامیابی بھی ملی تھی مزے کی بات ہے کہ حدیث پاک میں بھی اس طرف اشارہ ملتا ہے کہ `اللہ رب العزت کی کچھ مخلوقات ایسی جگہ آباد ہیں جہاں پر سورج کی روشنی نہ...

Israr

 تمام امت مسلمہ کی توجہ چاہتے ہیں  ### کیا آپ اس سنی نوجوان عالم کو جانتے ہیں جس نے یورپ و  امریکہ میں ملحدین کی دھجیاں بکھیر دی ہیں اگر نہیں تو  سنیں  شیخ اسرار رشید امریکہ میں مقیم ایک معروف سنی عالمِ دین، محقق اور داعی ہیں، جو جدید دور میں بالخصوص الحاد (Atheism)، سیکولرازم اور فکری شبہات کے خلاف علمی و عقلی دفاع کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ وہ اہلِ سنت و جماعت کے منہج پر قائم رہتے ہوئے مغربی معاشرے میں اسلام کی نمائندگی کرتے ہیں۔ مسکن: ریاستہائے متحدہ امریکہ منہج: اہلِ سنت و جماعت شناخت: عالم، خطیب، مناظر، محقق زبان: بالخصوص انگریزی (نوجوان نسل کیلئے) علمی و دعوتی خدمات 1. ردِّ الحاد (Atheism) خدا کے وجود، نبوت اور وحی پر ہونے والے ملحدانہ اعتراضات کا عقلی و فلسفیانہ جواب یونیورسٹی کیمپسز اور عوامی فورمز میں اوپن ڈائیلاگ اور Q&A سیشن 2. جدید فکری چیلنجز کا جواب سیکولرازم، لبرل ازم اور مذہب بیزار نظریات پر علمی تنقید مغربی فلسفہ اور منطق کی روشنی میں اسلام کا دفاع 3. نوجوانوں میں فکری رہنمائی وہ نوجوان جو سوشل میڈیا یا مغربی ماحول میں شکوک و شبہات کا شکار ہوت...

Usmani taymur

  بایذید یلدرم کی بیوی کے ساتھ کیا سلوک ہوا؟ سن 1402 میں عثمانیوں اور تیموری لشکر کے درمیان اناطولیہ میں جنگ ہوئی تھکی ہوئی اور پیاسی عثمانی فوج کو امیر تیمور کے نسبتا بڑے لشکر نے شکست دی بایذید اپنے چند سو محافظوں کے ساتھ پہاڑوں کی طرف نکل گیا لیکن تیموری لشکر کے سپاہیوں نے جلد ہی ڈھونڈ نکالا بایذید کے ساتھ اس کی Serbian بیوی ماریہ بھی تھی ایذید یلدرم نے چند سال پہلے Serbia والوں کو Battle of Kosovo میں شکست دی تھی اس کے بعد نیا شہزادہ Serbia کے تخت پر بیٹھا سلطنت عثمانیہ کی باجگزار ریاست ہونے کے ناطے شہزادے نے اپنی بہنوں میں سے ایک کو سلطان بایذید کو پیش کیا اس کا نام ماریہ اولیویرا تھا بایذید نے اس کے ساتھ شادی کی اس کی عمر اس وقت صرف سترہ سال تھی اور نہایت خوبصورت ہونے کی وجہ سے اسے حرم میں اہم مقام حاصل ہو گیا سب سے اہم بات یہ کہ وہ اپنے آرتھوڈوکس عیسائیت پر قائم رہی اس کی حکومتی معاملات میں بھی کافی اثر و رسوخ تھا امیر تیمور کے حملے سے پہلے وہ کئی سال آپس میں ہنسی خوشی رہے ب امیر تیمور کے ساتھ جنگ کا معاملہ پیش آیا تو تاریخ دان سوال اٹھاتے ہیں کہ ایک اہم ترین جنگ میں سلط...

Jahannam

  مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما  کلمہ گویان اسلام کی ایمانی حالت اور جہنم کے دروازے  (1)بعض مذہبی رہنماؤں نے بتا دیا کہ قرآن چالیس پارہ تھا،بہت سے لوگ مان گئے۔کسی نے کہا کہ نماز تین ہی ہے۔بعض وگ مان لئے۔کسی نے کہا کہ میں امام مہدی ہوں۔بعض لوگوں نے قبول کر لیا۔کسی نے کہا۔میں نبی ہوں،بعض لوگ قبول کر لئے۔ (2)حضور اقدس سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اقدس کے بعد ہی لوگ جھوٹے مدعیان نبوت کو مان کر اور زکات کا انکار کر کے اس قدر کثیر تعداد میں مرتد ہو گئے کہ روئے زمین پر صرف تین مسجدوں میں نماز با جماعت ہوتی تھی۔کعبہ شریف،مسجد نبوی اور مسجد جواثی(بحرین) یہ خیر القرون کا حال تھا۔ (3)ہاں،کسی عہد میں اسلام بالکل ختم نہیں ہو گا۔اللہ تعالی ایک جماعت کو حق پر قائم رکھے گا اور وہ طبقہ باطل سے مقابلہ آرائی کرتا رہے گا۔اسی کا نام اہل سنت وجماعت اور سواد اعظم ہے۔ (4)اہل سنت وجماعت مجموعی طور پر حق پر ہی قائم رہیں گے۔ہاں،اس کے بعض افراد غلط راہ پر جا سکتے ہیں،خواہ وہ عوام میں سے ہو یا مذہبی رہنماوں میں سے۔حصرت حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ کا شاگرد واصل بن عطا جو معتزلی بن گیا،وہ عوام...

Nooh

  حضرت نوح علیہ السلام کا اسمِ گرامی یشکریا عبدالغفار ہے اور آپ حضرت ادریس علیہ السلام کے پڑپوتے تھے، آپ کا لقب"نوح" اس لئے ہوا کہ آپ کثرت سے گریہ وزاری کیا کرتے تھے۔چالیس یا پچاس سال کی عمر میں آپ نبوت سے سرفراز فرمائے گئے اور 950سال آپ اپنی قوم کو دعوت فرماتے رہے اور طوفان کے بعد ساٹھ برس دنیا میں رہے تو آپ کی عمر ایک ہزار پچاس سال کی ہوئی۔ مذہبی اختلاف کی ابتداء کب ہوئی؟ مذھبی اختلاف کی ابتداء سے متعلق مفسرین نے کئیں اقوال ذکر کئے ہیں، ان میں سے ایک قول یہ ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے تک لوگ ایک دین پرر ہے، پھر ان میں اختلاف واقع ہوا تو حضرت نوح علیہ السلام ان کی طرف مبعوث فرمائے گئے، دوسرا قول یہ ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے کشتی سے اُترنے کے وقت سب لوگ ایک دین پر تھے۔ جب اللہ پاک نے حضرت نوح علیہ السلام کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا:اے میری قوم! میں تمہیں اللہ کے حکم کی مخالفت کرنے اور اس کے علاوہ کسی اور کی عبادت کرنے پر اللہ کے عذاب کا صریح ڈر سنانے والا ہوں۔ آپ نے اپنی قوم کو عبادتِ الہی کی طرف دعوت دیتے ہوئے فرمایا: اے میری قوم!ایما...

Qaume lut

  قومِ لوط سے ’پرائڈ منتھ‘ تک: فطرت سے بغاوت کا حیاتیاتی اور ارتقائی انجام! - بلال شوکت آزاد انسانی تاریخ میں کچھ جرائم ایسے ہوتے ہیں جو صرف "فرد" کو نقصان پہنچاتے ہیں، اور کچھ جرائم ایسے ہوتے ہیں جو پوری "نوعِ انسانی" (Human Species) کے وجود کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں۔  قومِ لوط کا عمل، جسے آج کل لبرلز LGBTQIA+ کی لبرل اصطلاحات کے پیچھے چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں، کوئی "ذاتی پسند" یا "محبت" کا معاملہ نہیں تھا، بلکہ یہ "حیاتیاتی خودکشی" (Biological Suicide) کی وہ پہلی کوشش تھی جس نے انسانی ارتقاء اور بقا کے بنیادی اصولوں کو چیلنج کیا تھا۔  آج مغرب جس چیز کو "ترقی" اور "آزادی" کہہ کر بیچ رہا ہے، بائیولوجی اسے "Evolutionary Dead-end" (ارتقائی بند گلی) کہتی ہے۔  اگر ہم جذبات اور نعروں سے ہٹ کر، خالص سائنسی اور منطقی بنیادوں پر اس کا جائزہ لیں، تو ہمیں معلوم ہوگا کہ یہ تحریکیں انسانیت کو آزادی دینے نہیں، بلکہ اسے "معدوم" (Extinct) کرنے آئی ہیں۔ سب سے پہلے اس "ہم جنس پرستی" (Homosexuality) کے سائ...

wahabi

  وہابی طائفہ کیا ہے؟ وہابی سلفیّت ایک ایسا گروہ ہے جو اسلام سے نسبت تو رکھتا ہے، مگر اس نے خود مسلمانوں کے خلاف خروج کیا۔ اس نے امتِ مسلمہ کو دو حصّوں میں تقسیم کر دیا: یا تو کوئی کافر و مشرک ہے، یا پھر بدعتی اور گمراہ۔ انہوں نے بدعات کے خلاف جنگ کا نعرہ بلند کیا، حالانکہ ان کے اپنے منہج کی بنیاد ہی ایک نہایت خطرناک بدعت پر ہے، اور وہ ہے بغیر معتبر دلیل کے تکفیر اور تبديع کرنا، نیز تشبیہ اور تجسیم کا عقیدہ رکھنا۔ مسلمانوں کی تکفیر کی بدعت، امت کی تاریخ میں پیدا ہونے والی سب سے خطرناک بدعت ہے، اسی طرح ایسے شخص کو بدعتی قرار دینا جو درحقیقت بدعتی نہ ہو۔ ان کا منہج چند اصولوں پر قائم ہے، جن میں نمایاں یہ ہیں: 1) کتاب و سنت کے ظاہری الفاظ کو اپنے مخصوص فہم کے مطابق لینا، معتبر علماء کی شروحات کی طرف رجوع نہ کرنا، اور نہ ہی اُن صحیح اسناد کو ملحوظ رکھنا جن پر صدیوں سے فقہاء اور محدثین کے مناہج قائم ہیں۔ 2) تکفیر اور تبديع میں اس حد تک توسع اختیار کرنا جس کی مثال مسلمانوں کی تاریخ میں پہلے نہیں ملتی۔ اس فرقے نے اپنی تاریخی مسیر کا آغاز اہلِ طائف پر حملے سے کیا، اور وہاں ایک قتلِ عام برپ...

Mulhid

 دہلی میں ہونے والے کل کے مباحثے کے بعد ملحدین کی جانب سے ایک پرانا سوال نئے پیرائے میں اچھالا جا رہا ہے، اور جس میں ہمارے شوقیہ لبرلز بھی پیش پیش ہیں، وہ یہ ہے کہ: غزہ میں بچوں کو قتل کیا جا رہا ہے، اگر خدا ہے تو پھر کہاں ہے؟ بظاہر یہ سوال جذباتی معلوم ہوتا ہے، مگر جب اسے منطق کے ترازو پر تولا جائے تو ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ جب تمہارے نزدیک خیر و شر کا معیار میجورٹی کی رائے ہے، تو پھر غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک میجورٹی کے ہاتھوں ہو رہا ہے، اسی کی پشت پناہی سے ہو رہا ہے، اور اسی کی جانب سے اسے سیاسی، اخلاقی اور قانونی جواز بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔ تمہاری اپنی منطق کی رو سے تو یہ ظلم، ظلم ہی نہیں ٹھہرتا۔ پس ظلم کا مقدمہ قائم کرنے کے لیے پہلے تمہیں ایک "مطلق انصاف" کے وجود کو ماننا ہوگا، جو خدا کے وجود کو مانے بغیر ممکن نہیں۔ اور اگر اپنی ہی منطق سے روگردانی کرتے ہوئے تم اسے ظلم تسلیم کرتے ہو، تو پھر خدا کے وجود پر سوال اٹھانے سے پہلے انسانیت کے وجود پر سوال اٹھاؤ۔ اتنی سفاکیت، وحشت اور درندگی کے باوجود اگر انسانیت کا وجود مانا جاتا ہے، تو پھر وہ کہ...