Naasbi
اہلِ سنت کے نزدیک نصب (ناصبی) کے مفہوم کی وضاحت
اہل سنت کے نزدیک (نصب) کی اصطلاح ایک نئی (بعد میں پیدا ہونے والی) اصطلاح ہے، جس کی کوئی اصل نہ قرآن کریم میں ملتی ہے، نہ نبی کریم ﷺ کی سنت میں، اور نہ ہی کسی صحابی کے قول میں۔
ہاں متقدمین ائمہ کے کلام میں (نصب) کا ذکر ملتا ہے۔ مگر فی زمانہ جو مخصوص مفہوم کے طور پر اس کو استعمال کیا جاتا ہے اُس لحاظ سے ائمہ متقدمین کے کلام میں نہیں ملتا ہے۔
چنانچہ امام علی بن المدینی رحمہ اللہ (م 234ھ) فرماتے ہیں:
أخبرنا محمود بن عمر أخبرنا أبو بكر محمد بن إبراهيم الحداد قال حدثنا أبو طلحة قال حدثنا أبي قال سمعت علي بن المديني يقول : من قال فلان مشبه علمنا أنه جهمي ومن قال فلان مجبر علمنا أنه قدري ومن قال فلان ناصبي علمنا أنه رافضي.
ہم سے بیان کیا محمود بن عمر نے، ان سے ابو بکر محمد بن ابراہیم الحداد نے، ان سے ابو طلحہ نے، ان سے اُن کے والد نے، وہ کہتے ہیں میں نے (امام) علی بن المدینی کو یہ کہتے ہوئے سنا: جو شخص یہ کہے کہ فلاں (مشبّہ) ہے، ہم جان لیتے ہیں کہ وہ (جہمی) ہے، اور جو یہ کہے کہ فلاں (مجبر) ہے، ہم جان لیتے ہیں کہ وہ (قدری) ہے، اور جو یہ کہے کہ فلاں (ناصبی) ہے، ہم جان لیتے ہیں کہ وہ (رافضی) ہے۔
[شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ والجماعۃ رقم 306]
ان کے اس قول سے صاف ظاہر ہے کہ وہ اس اصطلاح کو نہ معتبر سمجھتے تھے اور نہ ہی اسے پسند کرتے تھے۔
پھر اس اصطلاح کو امام ذہلی رحمہ اللہ (م 258ھ) اور امام ابو زرعہ رازی رحمہ اللہ (م 264ھ) نے ایک دوسرے انداز سے استعمال کیا، جس میں ان دونوں کی طرف سے اس پر کسی قسم کے انکار کا اظہار نہیں ہوتا۔ امام ذہلی نے کہا:
لا تسألوه عن شيء من الكلام ، فإنه إن أجاب بخلاف ما نحن عليه وقع بيننا وبينه وشمت بنا كل ناصبي ورافضي.
ان (امام بخاری) سے علمِ کلام کے بارے میں کوئی بات نہ پوچھو، کیونکہ اگر انہوں نے ہمارے موقف کے خلاف جواب دے دیا تو ہمارے اور ان کے درمیان اختلاف پیدا ہو جائے گا، اور ہر ناصبی اور رافضی ہم پر خوشی منائے گا۔
[مقدمہ فتح الباری 1/462]
اور امام ابو زرعہ رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
إذا رأيت الكوفي يَطْعَنُ على سفيان الثوري وزائدة فلا تشك أنه رافضي، وإذا رأيت الشامي يَطْعَنُ على مكحول، والأوزاعي فلا تَشُك أنه ناصبي.
جب تم کسی کوفی کو سفیان (بن سعید) الثوری اور زائدہ (بن قدامہ الثقفی) پر طعن کرتے دیکھو تو اس میں شک نہ کرو کہ وہ رافضی ہے، اور جب تم کسی شامی کو مکحول (بن ابی مسلم) اور اوزاعی (عبد الرحمن بن عمرو) پر طعن کرتے دیکھو تو اس میں شک نہ کرو کہ وہ ناصبی ہے۔
[طبقات الحنابلہ 1/200]
پھر اس اصطلاح کا استعمال وسیع پیمانے پر پھیل گیا اور یہ لوگوں کے درمیان معروف ہو گیا۔ چنانچہ خطیب بغدادی رحمہ اللہ (م 463ھ) نے (محمد بن الحسین بن خالد) القنبیطی (م 304ھ) کے ترجمے میں نقل کیا:
لو أخذت معاوية على كتفك لقال الناس رافضي، ولو أخذت أنا عليا على كتفي لقال الناس ناصبي !
اگر تم معاویہ (رضی اللہ عنہ) کو اپنے کندھے پر اٹھا لو تو لوگ کہیں گے یہ (رافضی) ہے، اور اگر میں علی (رضی اللہ عنہ) کو اپنے کندھے پر اٹھا لوں تو لوگ کہیں گے یہ (ناصبی) ہے۔
[تاریخ بغداد 3/19 ت - بشار عواد معروف]
اور ان کے اس قول میں [لقال الناس] کا استعمال، اور نصب کو معروف رفض کے بالمقابل ذکر کرنا، اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ اصطلاح لوگوں میں عام ہو چکی تھی اور اس کا مفہوم متعین ہو گیا تھا۔
نصب کی تعریف
نصب لغت میں کسی چیز کو سیدھا کھڑا کرنے اور نمایاں کرنے کو کہتے ہیں۔
إقامة شيء وإهدافه في استواء.
کسی چیز کو قائم کرنا، اسے کھڑا کرنا اور سیدھی حالت میں نمایاں کرنا۔
[مقاييس اللغة 5/434]
ناصَبَ الرَّجُلَ مُناصَبَةً:
اس سے دشمنی کی اور اس کا مقابلہ کیا۔
اور ناصبه الحرب أو العداوة
کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اس کے سامنے جنگ یا دشمنی کو ظاہر کیا اور قائم کر دی۔
[لسان العرب 1/762، القاموس المحيط ص 176]
اور علماء کی اصطلاح میں نصب اور نواصب کی تعریفیں قریب قریب ایک ہی ہیں۔
زمخشری (م 537ھ) کہتے ہیں:
النصب هو بُغْضُ علي وعداوته.
نصب سے مراد علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھنا اور ان سے دشمنی کرنا ہے۔
[الكشاف 4/777]
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ (م 752ھ) لکھتے ہیں:
والنصب بغض على وتقديم غيره عليه.
اور نصب سے مراد علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھنا اور ان پر دوسروں کو ترجیح دینا ہے۔
[مقدمہ فتح الباری ص 459]
نیز فتح الباری میں ایک مقام پر فرماتے ہیں:
هو الانحراف عن علي وآل بيته.
اور اس (نصب) سے مراد علی رضی اللہ عنہ اور اہلِ بیت سے انحراف اختیار کرنا ہے۔
[فتح الباری 10/420]
ان تعریفات کے جائزے سے دو باتیں نمایاں ہوتی ہیں۔
اول: اہلِ سنت کے علماء کی جانب سے نصب کی تعریفیں بہت کم ملتی ہیں، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ سنی معاشرے میں عمومی طور پر اس کا وجود نہایت نادر رہا ہے۔
دوم: لغوی اور اصطلاحی معنی کے درمیان گہرا اور واضح تعلق پایا جاتا ہے۔
اگرچہ بظاہر پہلی نظر میں ان تعریفات کے درمیان کچھ اختلاف محسوس ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے، کیونکہ بعض اہلِ علم نے اسے اس کے اصل مفہوم کے اعتبار سے، جو خاص طور پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے متعلق ہے بیان کیا ہے، اور بعض نے دائرۂ معنی کو وسیع کر دیا ہے، جبکہ حقیقت میں نصب ان تمام معانی کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔
टिप्पणियाँ
एक टिप्पणी भेजें