Creater

 اس (world) کا ایک (creator) ضرور ہے جس کا انکار ممکن نہیں۔


اس دنیا کا ایک بنانے والا ضرور ہے اور اس کا انکار کرنا ممکن نہیں کیوں کہ یہ دنیا خود بہ خود نہیں بنی بلکہ یہ (دنیا) حادث ہے یعنی یہ پہلے نہ تھی بعد میں اس کو بنایا گیا۔ اور جس ذات نے اس کو بنایا وہ اس دنیا سے پہلے بھی موجود تھا۔ 

اس کے دلائل ہم اپنے امام سے نقل کرتے ہیں۔


ہمارے امام ابو منصور الماتریدی الانصاری رحمہ اللہ (م 333ھ) فرماتے ہیں:

قال أبو منصور رحمه الله : ثم الدليل على أن للعالم محدثاً أنه ثبت حدثه بما بينا، وبما لا يُوجد شيء منه في الشاهد يجتمع بنفسه ويفرق، ثبت أن ذلك كان بغيره، والله الموفق.


والثاني أن العالم لو كان بنفسه لم يكن وقتاً أحق به من وقت، ولا حال أولى به من حال، ولا صفة أليق به من صفة، وإذا كان على أوقات وأحوال وصفات مختلفة ثبت أنه لم يكن به، ولو كان لجاز أن يكون كل شيء لنفسه أحوالاً هي أحسن الأحوال والصفات وخيرها فيبطل به الشرور والقبائح، فدل وجود ذلك على كونه بغيره، والله الموفق.


شیخ امام ابو منصور رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر اس بات کی دلیل کہ اس عالم کا کوئی پیدا کرنے والا ہے یہ ہے کہ اس کا حادث ہونا ثابت ہو چکا ہے، جیسا کہ ہم نے بیان کیا، اور اس وجہ سے بھی کہ عالم میں ایسی کوئی چیز نہیں پائی جاتی جو خود بخود جمع ہو جائے اور خود ہی بکھر جائے، پس یہ ثابت ہوا کہ یہ سب کسی دوسرے کے ذریعہ ہوا ہے، اور اللہ ہی توفیق دینے والا ہے۔


دوسری دلیل یہ ہے کہ اگر یہ عالم خود اپنی ذات سے ہوتا تو کوئی ایک وقت دوسرے وقت سے زیادہ اس کا حق دار نہ ہوتا، نہ کوئی ایک حالت دوسری حالت سے زیادہ اس کے لائق ہوتی، اور نہ کوئی ایک صفت دوسری صفت سے زیادہ مناسب ہوتی، حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہ عالم مختلف اوقات، حالات اور صفات پر قائم ہے، تو اس سے ثابت ہوا کہ یہ خود اپنی ذات سے نہیں ہے۔ اور اگر یہ خود اپنی ذات سے ہوتا تو یہ بھی ممکن ہوتا کہ ہر چیز اپنے لیے وہی حالات اور صفات اختیار کرے جو سب سے بہتر اور کامل ہوں، یوں شرور اور قباحتیں سرے سے باقی نہ رہتیں، پس ان کا موجود ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ عالم اپنے غیر کے ذریعے وجود میں آیا ہے، اور اللہ ہی توفیق دینے والا ہے۔


وأيضاً أن العالم نوعان : حي وميت، وكل حي جاهل بابتدائه، عاجز عن إنشاء مثله وإصلاح ما فسد منه وقت قوته وكماله، فثبت أنه كان بغيره، والميت أحق بذلك .


وأيضاً أن العالم لا يخلو كل عين منه إلى ما يحتمله من الأعراض قهراً، وما اعترضه من الأعراض لا قيام لها ولا وجود دونه فثبت بذلك دخول كل واحد منهما تحت حاجة الآخر، فيبطل أن يكون بنفسه محتاجاً إلى غَيْرِ به يُوجد ويقوم، ولا قوة إلا بالله .


وأيضاً أن كل عين مما اجتمع فيه الطبائع المتضادة التي من طبعها التنافر لم يجز أن يكون بنفسه يجتمع ثبت أن له جامعاً، والله الموفق.


اور یہ بھی کہ عالم دو قسم کا ہے: زندہ اور مردہ۔ ہر زندہ اپنی ابتدا سے ناواقف ہے، اور اپنی قوت اور کمال کی حالت میں بھی اپنے جیسی کسی چیز کو پیدا کرنے اور جو اس میں بگاڑ آ جائے اسے درست کرنے سے عاجز ہے، پس ثابت ہوا کہ وہ کسی غیر کے ذریعے وجود میں آیا ہے، اور مردہ تو اس بات کا اور زیادہ مستحق ہے۔


اور یہ بھی کہ عالم کی ہر موجود چیز ان اعراض سے خالی نہیں جو جبرًا اس میں پائے جانے کے قابل ہوتے ہیں، اور جو اعراض اس پر طاری ہوتے ہیں ان کا قائم ہونا اور وجود اس کے بغیر ممکن نہیں، اس سے یہ ثابت ہوا کہ ہر ایک دوسرے کی حاجت میں داخل ہے، پس یہ باطل ہو گیا کہ وہ خود اپنی ذات سے ہو اور اپنے وجود اور بقا کے لیے کسی غیر کا محتاج نہ ہو، اور اللہ کے سوا کوئی قوت نہیں۔


اور یہ بھی کہ ہر وہ ذات جس میں متضاد طبائع جمع ہوں، جن کی فطرت ہی باہمی نفرت اور تضاد پر ہے، اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ خود اپنی ذات سے جمع ہو جائے، بلکہ یہ ثابت ہے کہ اس کا کوئی جمع کرنے والا ہے، اور اللہ ہی توفیق دینے والا ہے۔


وأيضاً أن كل عين محتاج إلى آخر به يقوم ويبقى من الأغذية وغيرها مما لا يحتمل أن يبلغ علمه ما به بقاؤه، أو كيف يستخرج ذلك ويكتسب، فثبت أنه بعليم حكيم لا بنفسه، وبالله النجاة والعصمة .


وأيضاً أنه لو كان بنفسه لكان يبقى به ويكون على حد واحد، فلما لم يملك دل على أنه كان بغيره.


وأيضاً لا يخلو كونه بنفسه من أن كان بعد الوجود، فيبطل كونه به؛ لما كان موجوداً بغيره، أو قبله، وما هو قبله كيف يوجد نفسه مع ما لو كان به قبل الوجود لتوهم أن لا يوجد فيكون عديماً فاعلاً وذلك محال . ويشهد لما ذكرنا أمر البناء والكتابة والسفن أنه لا يجوز كونها إلا بفاعل موجود فمثله ما نحن فيه، وبالله التوفيق .


اور یہ بھی کہ ہر موجود ذات کسی دوسری چیز کی محتاج ہے جس کے ذریعے وہ قائم رہے اور باقی رہے، جیسے غذائیں اور دیگر اسباب، جن کے بارے میں یہ ممکن نہیں کہ اسے خود یہ علم ہو کہ اس کی بقا کن چیزوں پر موقوف ہے، یا وہ انہیں کیسے حاصل کرے اور کما سکے، پس یہ ثابت ہوا کہ وہ خود اپنی ذات سے نہیں بلکہ کسی علیم و حکیم کے ذریعے ہے، اور نجات و حفاظت اللہ ہی کے ساتھ ہے۔


اور یہ بھی کہ اگر وہ خود اپنی ذات سے ہوتا تو خود اسی کے ذریعے باقی رہتا اور ایک ہی حالت پر قائم رہتا، لیکن جب اس پر اختیار نہیں پایا گیا تو اس سے معلوم ہوا کہ وہ کسی غیر کے ذریعے وجود میں آیا ہے۔


اور یہ بھی کہ اس کا اپنی ذات سے ہونا اس بات سے خالی نہیں کہ یا تو وہ وجود کے بعد خود سے ہو، تو یہ باطل ہے، اس لیے کہ وہ پہلے ہی غیر کے ذریعے موجود ہو چکا؛ یا وجود سے پہلے خود سے ہو، اور جو چیز وجود سے پہلے ہو وہ خود اپنے آپ کو کیسے وجود میں لا سکتی ہے، حالانکہ اگر وہ وجود سے پہلے خود سے ہوتی تو یہ وہم لازم آتا کہ وہ موجود نہ ہو اور پھر بھی فاعل ہو، اور یہ محال ہے۔ اور اس پر ہماری بات کی تائید عمارت، تحریر اور کشتیوں کی مثال سے ہوتی ہے کہ یہ سب کسی موجود فاعل کے بغیر نہیں ہو سکتیں، پس یہی مثال ہمارے زیرِ بحث معاملے پر بھی صادق آتی ہے، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔


[کتاب التوحید للماتريدی ص 16]

टिप्पणियाँ

इस ब्लॉग से लोकप्रिय पोस्ट

Links hindi

Aamanu

Victorya