Mulhid

 دہلی میں ہونے والے کل کے مباحثے کے بعد ملحدین کی جانب سے ایک پرانا سوال نئے پیرائے میں اچھالا جا رہا ہے، اور جس میں ہمارے شوقیہ لبرلز بھی پیش پیش ہیں، وہ یہ ہے کہ: غزہ میں بچوں کو قتل کیا جا رہا ہے، اگر خدا ہے تو پھر کہاں ہے؟


بظاہر یہ سوال جذباتی معلوم ہوتا ہے، مگر جب اسے منطق کے ترازو پر تولا جائے تو ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ جب تمہارے نزدیک خیر و شر کا معیار میجورٹی کی رائے ہے، تو پھر غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک میجورٹی کے ہاتھوں ہو رہا ہے، اسی کی پشت پناہی سے ہو رہا ہے، اور اسی کی جانب سے اسے سیاسی، اخلاقی اور قانونی جواز بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔ تمہاری اپنی منطق کی رو سے تو یہ ظلم، ظلم ہی نہیں ٹھہرتا۔ پس ظلم کا مقدمہ قائم کرنے کے لیے پہلے تمہیں ایک "مطلق انصاف" کے وجود کو ماننا ہوگا، جو خدا کے وجود کو مانے بغیر ممکن نہیں۔


اور اگر اپنی ہی منطق سے روگردانی کرتے ہوئے تم اسے ظلم تسلیم کرتے ہو، تو پھر خدا کے وجود پر سوال اٹھانے سے پہلے انسانیت کے وجود پر سوال اٹھاؤ۔ اتنی سفاکیت، وحشت اور درندگی کے باوجود اگر انسانیت کا وجود مانا جاتا ہے، تو پھر وہ کہاں ہے؟ اگر خدا کا انکار محض اس بنیاد پر کیا جائے کہ اس نے مظلوموں کو فوراً بچا کیوں نہ لیا، تو پھر اس دنیا میں ہر اُس شخص، ہر اُس ادارے اور ہر اُس طاقت کے وجود کا بھی انکار لازم آئے گا جس نے انہیں بچایا نہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ان سب کا وجود ہے۔ پس خدائے برتر بھی موجود ہے، البتہ اس کی حکمتِ کاملہ انسانی عقل کے محدود دائرے سے ماورا ہے۔ اس کی سنت یہ رہی ہے کہ وہ انسانوں کو آزماتا ہے، ظالم کو مہلت دیتا ہے، اور پھر یا تو دنیا میں اسے نشانِ عبرت بنا دیتا ہے یا آخرت میں دردناک عذاب کا مزہ چکھاتا ہے۔


کیا محض اس بنیاد پر ڈاکٹروں کے وجود کا انکار کیا جا سکتا ہے کہ عالمی ادارۂ صحت کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں مختلف امراض کے باعث سالانہ تقریباً 48 لاکھ بچے مر جاتے ہیں؟ کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ روزانہ 6300 بچے مر رہے ہیں، ڈاکٹر ہیں تو پھر کہاں ہیں؟ یا اگر وہ سب کو بچا نہیں پا رہے تو ان کا ہونا اور نہ ہونا برابر ہے؟ ڈاکٹر نومولود کا آپریشن کرتا ہے، انجکشن لگاتا ہے، ننھے بدن پر جگہ جگہ کینولا پاس کرتا ہے؛ تو کیا اس بنا پر ڈاکٹر کو ظالم کہا جائے گا؟ کسی مرض پر دوا دی جائے اور وہ اثر نہ کرے تو کیا دوا کے وجود ہی کا انکار کر دیا جائے گا؟ اور اگر کوئی مریض آخری اسٹیج پر پہنچ چکا ہو اور ڈاکٹر مزید علاج سے انکار کر دے، تو یہ ڈاکٹر کی بے حسی نہیں بلکہ اس کی حکمتِ عملی سمجھی جاتی ہے۔


تو پھر جو خالقِ کائنات ہے، جو علیم و حکیم ہے، جو ماضی، حال اور استقبال سب جانتا ہے، اور جس سے کچھ بھی مخفی نہیں، اس کے افعال کو انسانی پیمانوں پر پرکھنا کس قدر غیر منطقی ہے! درحقیقت مسئلہ خدا کے وجود کا نہیں، مسئلہ انسانی عقل کے غرور کا ہے، جو اپنی محدود سمجھ کو میزانِ حق بنا کر ازلی حکمت پر حکم لگانا چاہتی ہے۔


Mufti-Muhammad Ata Ul Mustafa 

21/12/2025

टिप्पणियाँ