संदेश

दिसंबर 14, 2025 की पोस्ट दिखाई जा रही हैं

Urop ki taqat

 موہاکس کی جنگ: وہ فیصلہ کن جنگ جس نے یورپ کی فوجی طاقت کا غرور خاک میں ملا دیا جب میں نے یہ واقعہ پہلی بار پڑھا تو مجھے لگا کہ شاید یہ کوئی کہانی ہے۔ لیکن جب میں نے مغربی ذرائع اور انٹرنیٹ سے اس کی تصدیق کی تو میں حیران رہ گیا۔ یہ واقعہ یورپ میں مشہور ہے کیونکہ اس میں ہنگری کا بادشاہ، ہزاروں نواب اور بے شمار فوجی مارے گئے تھے۔ آج بھی وہاں ان کی قبریں ہیں جنہیں لوگ دیکھنے جاتے ہیں۔ یہ ایک اصلی جنگ تھی جسے ہمارے سکولوں میں پڑھانا چاہیے تھا اور ہر سال اس کا ذکر ہونا چاہیے تھا۔ اسی جنگ سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ سلطنت عثمانیہ کو تاریخ میں کیوں برا بنا کر پیش کیا گیا۔ اور یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ تاریخ کو مسخ کر کے اسے "مرد بیمار" (ترکی) کی وراثت کیوں بتایا گیا۔ یہ کوئی عام جنگ نہیں تھی، بلکہ ایک بہت بڑی تباہی تھی! یہ تھیموہاکس کی جنگ۔ ایسی جنگ جسے یورپ آج تک بھول نہیں پایا۔ کیوں لڑی گئی جنگ؟ عثمانی سلطان سلیمان القانونی نے اپنا سفیر ہنگری کے بادشاہ کے پاس ٹیکس(جزیہ) لینے بھیجا۔ اس وقت ہنگری یورپ کی عیسائی طاقتوں کا مضبوط قلعہ تھا۔ پوپ (عیسائیوں کے بڑے پادری) کے کہنے پر ہنگری کے بادشاہ ...

Waqt

 مغل شہزادوں کی نیند، گورے کے دفاتر اور ہمارے بند بازار: زوال کی نفسیات تاریخ کے اوراق پلٹیں تو ایک عبرت ناک منظر ابھرتا ہے جو آج بھی ہمارے حال کا آئینہ ہے۔ مغل دور کے آخری ایام میں، جب زوال کی پرچھائیاں دہلی کی فصیلوں کو چھو رہی تھیں، شہزادے رات بھر کی محفلوں کی تھکن اتارنے کے لیے پو پھٹے "خمار" کی وادیوں میں پناہ لیتے تھے۔ عین اسی وقت، سات سمندر پار لندن کی دھند میں ایک برطانوی افسر سورج کی پہلی کرن کے ساتھ اپنے دفتر کا چراغ روشن کر چکا ہوتا تھا۔ یہ محض دو انسانوں کا فرق نہیں تھا بلکہ یہ دو متصادم رویوں کا ٹکراؤ تھا۔ ایک طرف وہ ذہن تھا جو کائنات کے فطری توازن یعنی "روشنی" کے ساتھ قدم ملا کر چلنا جانتا تھا، اور دوسری طرف وہ طبقہ جو رات کی تاریکی میں کھو کر دن سے آنکھیں چرا رہا تھا۔ یہی وہ نادیدہ لکیر تھی جس نے سلطنتوں کے مقدر بدل دیے۔ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں تب نہیں ہارتیں جب ان کے پاس وسائل ختم ہو جائیں، بلکہ تب ہارتیں ہیں جب وہ "وقت" کی قدر کھو بیٹھتی ہیں۔ 1. الہامی حکمت اور فطرت کا پکار اسلامی نقطہ نظر سے دیکھیں تو اللہ تعالیٰ نے سورۃ النباء میں فرمایا:...

Saljuq

 سلجوقی سلطنت کے وزیر نظام الملک نے مدرسہ نظامیہ کی بنیاد رکھی تو کثیر تعداد میں طلباء کی داخلہ لیا ۔ چند سال تو بہت علمی ماحول رہا مگر آہستہ آہستہ طلباء کے دینی ذوق شوق میں کمی آتی گئی ۔ کسی نے نظام الملک سے شکایت کی کہ آپ طلباء کی سہولت کے لئے اتنی کثیر رقم خرچ کر رہے ہیں مگر اس کا کچھ خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہو رہا۔  نظام الملک نے صحیح صورتحال معلوم کرنے کیلئے ایک دن بھیس بدلا اور عشاء کے بعد مدرسہ پہنچ گیا۔ دیکھا کہ طلباء تکرار کے لئے دو دو اور تین تین کی ٹولیوں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ تو نظام الملک نے ایک طالب علم کے پاس جاکر سلام کرنے کے بعد  پوچھا کہ آپ یہاں کس غرض سے آئے ہو ؟ طالبعلم نے جواب دیا کہ علم حاصل کرنے کیلئے۔ پوچھا، کس لئے علم حاصل کرنا چاہتے ہو ؟ طالبعلم نے کہا، میرے والد بڑے مفتی ہیں میں علم حاصل کرنے کے بعد انکی جگہ سنبھالوں گا۔  نظام الملک نے دوسرے طالبعلم سے پوچھا کہ آپ کیوں علم حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ اس نے کہا کہ میرے والد فلاں مسجد کے خطیب ہیں، میں علم حاصل کرنے کے بعد خطابت کا منصب سنبھالوں گا ۔ نظام الملک مختلف طلباء کے پاس جا جا کر یہی سوال پ...

IbnulArqbi

 شیخِ اکبر محی الدین ابنِ عربی قدس اللہ سرّہ کی ایک کرامت (ایک مُلحد فلسفی کے ساتھ مکاشفہ) شیخ اکبر محی الدین ابنِ عربی علیہ الرحمہ بیان کرتے ہیں: سنہ 586 ہجری میں ایک فلسفی ہمارے پاس آیا جو نبوت کا انکار کرتا تھا، اسی انداز پر جس طرح کچھ لوگ انبیاء کی شان میں تنقیص کرتے ہیں۔ وہ ان معجزات کا بھی انکار کرتا تھا جو انبیاء علیہم السلام کے ہاتھ پر ظاہر ہوتے ہیں، اور کہتا تھا کہ حقائق کبھی تبدیل نہیں ہوتے۔ اس زمانے میں سخت سردی تھی اور ہمارے سامنے انگاروں سے بھرا بڑا منقل جل رہا تھا۔ اس منکر نے بات کرتے ہوئے کہا: "عام لوگ یہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو آگ نے انہیں نہیں جلایا۔ لیکن آگ تو اپنی فطرت کے مطابق جلانے والی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن میں جس آگ کا ذکر ہے وہ نمرود کے غصے اور قہر کی آگ تھی، اصل آگ نہیں تھی۔" جب وہ اپنی بات ختم کرچکا تو حاضرین میں سے ایک (یعنی خود شیخ محی الدین) نے اس سے فرمایا: "اگر میں تجھے اس ظاہری آگ میں اللہ کے اس بیان کی سچائی دکھا دوں کہ اس نے ابراہیم علیہ السلام پر آگ کو ٹھنڈا اور سلامتی بنا دیا تھا—اور میں اسی مقام م...

કડવી3

 « کچھ کڑوی حقیقتیں جہاں بولنا سخت مگر ضروری ہے » #کامیاب_خواتین 46 یہ زمانہ دھوکے *فریب کی کثرت* کا زمانہ ہے خواتین کی طبعیت میں *ضعف و جذب* { قبول کرنے }کا مادہ زیادہ ہوتا ہے  خصوصاً مذہبی طالبات جلد متاثر ہوتی ہیں پھر جلد بہک جاتی ہیں یہ عموماً اندازِ بیاں و طرزِ تدریس سے بہت متاثر ہوتی ہیں پھر جس سے متاثر ہیں خواہ وہ اخلاقی طور پر حیوانیت سے بھی نیچے شیطانیت سے لتھڑی ہوں متاثر ہونے والی کے نزدیک وہ عالمہ فاضلہ بلکہ ولیہ ہے  `ان کی اس متاثر ہونے والی عادت کو دیکھ کر بڑی آسانی سے یہ بات سمجھ آ جاتی ہے کہ کثیر خواتین دجال کی پیروکار کیوں ہوں گی` ایسے نت نئے قصے سننے کو ملتے ہیں   *ایک معلمہ جسے بولنے کی مہارت حاصل ہے اسی مہارت کا فائدہ اٹھا کر مذہبی حلقوں میں اپنا نام پیدا کیا*  اور پھر مَردوں کے روابط بڑھائے  لچھن دکھائے مکھن لگائے  اپنی مظلومیت کے افسانے گھڑ گھڑ کے سنائے  `کثیر مرد بہکائے اور پھر بیک وقت چار نکاح فرمائے`  اور ہر ایک سے بطور بیوی جیبوں سے پیسے نکلوائے  `دو چیزیں انسان کا ایمان خراب کر دیتی ہیں` پیسے کی طلب اور شہر...

Pukar

محمد علی فیضی کی حمایت میں ابو حنظلہ مفتی بلال انور پرنیوی صاحب کے فتوے کو ترجیح دینے والوں کے سامنے میں مفتی مذکور کا ایک خاص فتوی پیش کرنا چاہتا ہوں  تاکہ یہ معلوم ہو کہ حمایت کس وجہ سے ہو رہی ہے اور مفتی مذکور کے موقف کو موقف تاج الشریعہ کہنے والوں سے میرا سوال ہے کہ جاندار کی ویڈیو کے سلسلے میں مفتی مذکور کا فتویٰ کیوں معتبر نہیں ؟ اور بالخصوص اس فتوے کو کتنے کو کتنے لوگ قبول کرنے کے لیے تیار ہیں جسے میں پیش کرنا چاہتا ہوں  ابھی میں اسے عام نہیں کرنا چاہتا جسے جاننا ہو میں اسے پرسنل میں بھیج سکتا ہوں  مفتی بلال انور رضوی پرنیوی صاحب متنازع فیہ شعر سے متعلق جواب دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: "جواب : اس کلام کا پڑھنا بلا شبہ جائز ہے۔ وہ لفظ جو محل استشہاد ہے، اس میں ایسی شرعی قباحت نہیں کہ ناجائز و حرام کا قول کیا جائے۔ یہاں شاعر نے 'زہرا کے بابا' برائے توسل استعمال کیا ہے۔ اسے یوں سمجھیں کہ کوئی کسی معظم کی بارگاہ میں فریاد لے کر جاتا ہے تو کسی ایسی ذات کا وسیلہ تلاش کرتا ہے جو اس معظم کا قریبی اور محبوب ہو اور اسی کے نام سے اپنی ضرورت طلب کرتا ہے۔ لہذا یا ابا فاطمہ، یا ...

Kamyabi

 *रातों को जाग कर दिन में सोने वाली क़ौम का अंजाम* बहादुर शाह ज़फर के सारे शहजा़दों के सर काट कर उसके सामने क्यों पेश किए गए? क़ब्र के लिए ज़मीन की जगह क्यों ना मिली? आज भी उसकी नस्ल के बचे खुचे लोग भीख मांगते फिरते हैं? क्यों??? पढ़ें और अपनी नस्ल को भी समझाएं.. *तबाही 1 दिन में नहीं आ जाती..* *सुबह देर से जागने वाले लोग नीचे लिखी गई पोस्ट को ध्यान से पढ़ें..* यह दौर लगभग 1850 ई का है जगह दिल्ली है , वक्त़ सुबह के 3:30 बजे का है सिविल लाइन में बिगुल बज चुका है..50 साल का कप्तान रॉबर्ट और 18 साल का लेफ्टेनन्ट हेनरी दोनों ड्रल के लिए जाग गए हैं.. 2 घंटे बाद सूरज निकलने के वक्त़ अंग्रेज सिविलियन, फौजी भी जागकर वरज़िश कर रहे हैं,अंग्रेज़ औ़रतें घुड़सवारी के लिए निकल गई हैं.. 7:00 बजे अंग्रेज़ मजिस्ट्रेट ऑफिसों में अपनी अपनी कुर्सियों पर बैठ चुके हैं.. ईस्ट इंडिया कंपनी का सफी़र दरबारी  सरथामस मिटकाफ दोपहर तक काम का अक्सर हिस्सा ख़त्म कर चुका है कोतवाली और शाही दरबार के इ़लाकों का जवाब दिया जा चुका है बहादुर शाह ज़फर के ताजा़ हा़लात की ख़बरें आगरा और कोलकाता भेज दी गयी हैं दिन के ...

Links hindi

 यहाँ कुछ हिंदी ब्लॉग्स या ब्लॉग पोस्ट्स के लिंक्स हैं, जहाँ BJP (भारतीय जनता पार्टी) की आलोचना या उसके खिलाफ विचार व्यक्त किए गए हैं। ध्यान दें कि ये पुराने ब्लॉग्स हैं और इनमें से कई अब सक्रिय नहीं हो सकते, क्योंकि ब्लॉगिंग का दौर अब सोशल मीडिया की ओर शिफ्ट हो गया है: 1. **भाजपा के घोटाले की लिस्ट** - BJP पर घोटालों के आरोप लगाते हुए एक पोस्ट।      लिंक: https://diliprathoresite.wordpress.com/2018/03/26/%E0%A4%AD%E0%A4%BE%E0%A4%9C%E0%A4%AA%E0%A4%BE-%E0%A4%95%E0%A5%87-%E0%A4%98%E0%A5%8B%E0%A4%9F%E0%A4%BE%E0%A4%B2%E0%A5%87-%E0%A4%95%E0%A5%80-%E0%A4%B2%E0%A4%BF%E0%A4%B8%E0%A5%8D%E0%A4%9F 2. **RAJ KUMAR ब्लॉग** - BJP की नीतियों और न्यायपालिका पर प्रभाव की आलोचना।      लिंक: https://rajkumarmulnivasi.blogspot.com/2019/05/?m=1 3. **Amrit Ukey ब्लॉग** - BJP पर दलितों और जातीय भेदभाव से जुड़ी आलोचना।      लिंक: http://amritlalukey.blogspot.com/2019/05/ ये मुख्य रूप से पुरानी पोस्ट्स हैं। वर्तमान में BJP की आलोचना अधिकतर न्यूज़ व...

Links

 آپ کی بیان کردہ تفصیل بالکل ایک دلچسپ اور گہرے مواد والے بلاگ یا چینل کی طرح لگتی ہے، جو قدیم حکمت سے جدید سائنس، فلسفہ، نفسیات، تاریخ اور مستقبل کے اسرار تک کا احاطہ کرتا ہو۔ اردو میں ایسے معیاری بلاگز یا ویب سائٹس محدود ہیں، لیکن کچھ اچھے آپشنز دستیاب ہیں جو ان موضوعات پر معلوماتی اور دلچسپ مواد پیش کرتے ہیں۔ یہاں چند منتخب لنکس ہیں: سائنس اور ٹیکنالوجی پر مرکوز: اردو سائنس بلاگ (حیرت سرائے خاک): سائنس، تاریخ، جغرافیہ، کائنات اور مستقبل کی ٹیکنالوجی پر تحقیقاتی اردو تحاریر۔ بہت معلوماتی اور دلچسپ۔ لنک: https://scienceurdu.wordpress.com/ اردو سائنس میگزین: جدید سائنس، ماحولیات اور ٹیکنالوجی پر اردو میں مواد۔ لنک: https://urdusciencemag.com/ گلوبل سائنس میگزین کے آرکائیو: اردو میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی پرانی اور نئی تحاریر کا خزانہ (انٹرنیٹ آرکائیو پر دستیاب)۔ لنک: https://archive.org/details/Darul_201902 فلسفہ، نفسیات اور گہرے موضوعات پر: اے ای میگزین (AE Magazine) کے اردو آرٹیکلز: نفسیات، سائنس، فلسفہ، تاریخ، ثقافت اور ذہنی صحت پر اردو مضامین۔ لنک: https://aemagazine.pk/categor...