Saljuq

 سلجوقی سلطنت کے وزیر نظام الملک نے مدرسہ نظامیہ کی بنیاد رکھی تو کثیر تعداد میں طلباء کی داخلہ لیا ۔ چند سال تو بہت علمی ماحول رہا مگر آہستہ آہستہ طلباء کے دینی ذوق شوق میں کمی آتی گئی ۔ کسی نے نظام الملک سے شکایت کی کہ آپ طلباء کی سہولت کے لئے اتنی کثیر رقم خرچ کر رہے ہیں مگر اس کا کچھ خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہو رہا۔

 نظام الملک نے صحیح صورتحال معلوم کرنے کیلئے ایک دن بھیس بدلا اور عشاء کے بعد مدرسہ پہنچ گیا۔ دیکھا کہ طلباء تکرار کے لئے دو دو اور تین تین کی ٹولیوں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ تو نظام الملک نے ایک طالب علم کے پاس جاکر سلام کرنے کے بعد  پوچھا کہ آپ یہاں کس غرض سے آئے ہو ؟ طالبعلم نے جواب دیا کہ علم حاصل کرنے کیلئے۔ پوچھا، کس لئے علم حاصل کرنا چاہتے ہو ؟ طالبعلم نے کہا، میرے والد بڑے مفتی ہیں میں علم حاصل کرنے کے بعد انکی جگہ سنبھالوں گا۔

 نظام الملک نے دوسرے طالبعلم سے پوچھا کہ آپ کیوں علم حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ اس نے کہا کہ میرے والد فلاں مسجد کے خطیب ہیں، میں علم حاصل کرنے کے بعد خطابت کا منصب سنبھالوں گا ۔ نظام الملک مختلف طلباء کے پاس جا جا کر یہی سوال پوچھتا رہا۔ ہر طالب علم کا یہی جواب تھا کہ علم حاصل کرنے سے ہمیں فلاں عہدہ ملے گا، عزت ملے گی اور لوگوں میں عزت و قدر کی نگاہ سے دیکھے جائیں گے۔ 

نظام الملک یہ سب سن کر بہت آزردہ ہوا کہ افسوس یہ طالب علم نہیں طالب دنیا ہیں۔ ان کے لئے اتنی کثیر مقدار میں مال و دولت خرچ کرنے کا کیا فائدہ۔ بہتر ہے کہ مدرسے کو بند کر دیا جائے اور یہی مال کسی دوسرے کارخیر میں صرف کر دیا جائے ۔ انہی خیالات کا تانا بانا بنتے ہوئے نظام الملک مدرسہ کے دروازے پر واپس پہنچا تو دیکھا کہ ایک طالبعلم چراغ جلائے الگ تھلگ اپنی کتاب کا مطالعہ کرنے میں مشغول ہے۔

 نظام الملک نے سوچا چلو اس سے بھی یہی پوچھتے پلیں ۔ چنانچہ اس نے طالب علم کے پاس جا کر سلام کیا۔ طالب علم نے زبان سے سلام کا جواب تو دیا مگر آنکھ اٹھا کر یہ بھی نہ دیکھا کہ یہ سلام کرنے والا کون ہے۔ نظام الملک بڑا حیران ہوا ۔ پوچھا کہ میاں کیا بات ہے، ہماری طرف توجہ ہی نہیں کرتے کوئی بات تو کرو ۔

 طالب علم نے ٹکا سا جواب دیا کہ جناب! میں یہاں آپ سے باتیں کرنے نہیں آیا۔ 

نظام الملک نے پوچھا کہ آخر یہاں کس مقصد کے لئے آئے ہو ؟

طالبعلم نے کہا کہ میں اللہ تعالی کو راضی کرنا چاہتا ہوں اور مجھے نہیں معلوم کہ میں کیسے کروں لیکن  یہ سب علم ان کتابوں میں موجود ہے۔ 

میں یہ علم حاصل کرنے کیلئے یہاں آیا ہوں ۔ اب آپ کی مہربانی آپ خواہ مخواہ سوالات پوچھ کر میرا وقت ضائع نہ کریں ۔

 نظام الملک یہ جواب سن کر اتنا خوش ہوا کہ اس نے ارادہ کر لیا کہ جب تک اس جیسا ایک بھی طالبعلم موجود ہے میں مدرسے کے اخراجات میں کمی نہیں کروں گا ۔

 یہی لڑکا بڑا ہوکر امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کہلایا۔

وہ جن کے بارے میں حضرت سیدنا امام ابوالحسن شاذلی  فرماتے ہیں: میں خواب میں زیارت رسول سے مشرف ہوا تو دیکھا کہ حضور رحمت عالم صلی الله تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسلم حضرت سیدنا موسیٰ اور حضرت سید نا عیسیٰ عَلَيْهِمَا الصَّلوة والسلام کے سامنے حضرت سیدنا امام غزالی عَلَيْهِ رَحْمَةُ اللهِ الوَالی پر فخر کرتے ہوئے فرما رہے ہیں : ” کیا تمہاری اُمتوں میں غزالی جیسا عالم ہے۔ “ دونوں نے عرض کی : ” نہیں ۔


( حاصل واقع کتاب: با ادب با نصیب بے ادب بے نصیب )

टिप्पणियाँ

इस ब्लॉग से लोकप्रिय पोस्ट

Links hindi

Aamanu

Victorya