संदेश

New

 ہاں، میں آر ایس ایس کو سمجھنا چاہتا ہوں، اور صرف میں ہی نہیں بلکہ ہم سب کو آر ایس ایس کا گہرائی سے مطالعہ کرنا چاہیے۔ یہ اس لیے نہیں کہ آر ایس ایس ہمارا رول ماڈل ہے یا ہم اس کے نظریات سے اتفاق کرتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ یہ ایک ایسی منظم مشینری کی مثال ہے جس نے اپنے مقصد کے حصول کے لیے غیر معمولی استقامت، قربانی، مسلسل جدوجہد، تنظیمی نظم و ضبط اور اصولوں کی پابندی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ممکن ہے کہ میری یہ بات بعض احباب کو ناگوار گزرے، اور بظاہر ایک مسلمان قلمکار کی زبان سے ایسی بات عجیب بھی محسوس ہو۔ آخر اسلام جیسا مکمل ضابطۂ حیات رکھنے والی امت کو آر ایس ایس سے کیا سیکھنا ہے؟ یہ بات سو فیصد درست ہے کہ اسلام ہمیں دنیا و آخرت میں کامیابی کے تمام اصول اور اسباب سکھاتا ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے ان اصولوں کو اپنی عملی زندگی میں کس حد تک نافذ کیا ہے؟ آج ہماری صورتحال یہ ہے کہ اسلام پسندی اکثر چند عبادات تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ ہم جمعہ اور عیدین کی نمازیں ادا کر لیتے ہیں، ملی فلاح کے نام پر زکاۃ کے پیسوں سے مدارس تعمیر کر لیتے ہیں، اور اصلاحِ معاشرہ کے عنوان سے چند جلسے منعقد کر دیتے ہ...

Mkl

 وہابیوں کے جانب سے ایک پوسٹ دیکھنے کو ملی جس میں مذکورہ باتیں تھیں👇🏻👇🏻 > "ان چار باتوں پر غور کریں تو شاید 80 فیصد شرک و بدعات ختم ہو جائیں" 1. اگر نبی ﷺ نور تھے تو خاندان ختم 2. اگر نبی ﷺ عالم الغیب تھے تو وحی کا مقصد ختم 3. اگر نبی ﷺ حاضر و ناظر تھے تو بشریت کا مقصد ختم 4. اگر نبی ﷺ مختارِ کل تھے تو شفاعت کا مقصد ختم علمائے اہلِ سنت (بریلوی) کے موقف کے مطابق اس کا جواب مختصراً یہ ہے: 1. "اگر نبی ﷺ نور تھے تو خاندان ختم" اہلِ سنت کا عقیدہ یہ نہیں کہ نبی ﷺ صرف نور تھے اور بشر نہیں تھے، بلکہ: > "آپ ﷺ بشر بھی ہیں اور اللہ کے عطا سے نور بھی ہیں۔" قرآن میں بشریت بھی ثابت ہے:  *قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ (الکہف: 110)* اور نور ہونا بھی: *قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ (المائدہ: 15)* لہٰذا نور ماننے سے خاندان ختم نہیں ہوتا، کیونکہ اہلِ سنت بشریت کا بھی عقیدہ رکھتے ہیں۔ --- 2. "اگر نبی ﷺ عالم الغیب تھے تو وحی کا مقصد ختم" اہلِ سنت نبی ﷺ کو  عالم الغیب نہیں مانتے۔ بلکہ ہم یہ مانتے ہیں کہ اللہ نے اپنے حبیب کو  م...

Manhus

 #اسلامو_فوبیا_اور_اس_کا_تدارک ✍️ پٹیل عبد الرحمٰن مصباحی، گجرات (انڈیا) اسلام کا مطلب اسلام ہے اور فوبیا کا مطلب ہے خوف. اسلامو فوبیا کا لفظ سنتے ہی ذہن مائل ہوتا ہے ایک ایسے نظریہ کی طرف یا ایسے رویہ کی طرف جس میں نفرت ہے تعصب ہے تشدد ہے بھید بھاؤ ہے، منفی جذبات کا ایک مجموعہ.  یہ لفظ ایک ایسے ذہن کی عکاسی کرتا ہے جس کے لیے اسلام / مسلمان ایک بر انگیختہ کرنے والا تصور ہے، ایک ایسا تصور جو اُسے فوراً چونکا دیتا ہے، پھر چوکنّا کر دیتا ہے اور ڈراتا ہے کہ کہیں کوئی جانی یا مالی نقصان نہ ہو جائے، یہ خوف صرف مادی نقصان کی حد تک نہیں ہوتا بلکہ سیاسی، معاشرتی اور اخلاقی سطح پر یہ خوف دوبالا ہو جاتا ہے.  اسلامو فوبیا سے متاثر ذہن کو بڑا ڈر یہ ستاتا ہے کہ یہ اسلام/مسلمان کہیں اپنی طرح ہمیں بھی ایک "عرب تہذیب" کے سانچے میں نہ ڈھال لے، چنانچہ پہلے مرحلے میں جانی یا مالی طور پر خدشہ بن کر ابھرنے والا یہ منفی جذبہ بڑھتے بڑھتے اخیر میں تہذیبی سطح پر آ کر نفرت کا روپ دھار لیتا ہے.  اسلامو فوبیا میں مبتلا ایک شخص پہلے مسلمان کو صرف اپنے جان مال کا دشمن سمجھتا ہے مگر ایک مرحلے کے بع...

Onlu

 اجکل انسانی فکر چاہے تحریری صورت میں ہو یا تقریری شکل میں اس کی کوئی سرحد نہیں رہی ایک قوم سے دوسری قوم تک پہچنے کے لیے زبان کی رکاوٹ بھی جدید ایجادات کی بدولت ختم یو چکی صوفیوں میں صوفی بن جانا اور سلفیوں میں سلفی بن جانا موجودہ حالات میں کافی مشکل ہوتا جا رہا یے اگرچیکہ ماضی میں دو رنگی فکر نے بہت کمایا مگر گزرتے وقت کی ساتھ ساتھ اس گیلے اور ڈھیلے سودے کے خریدار کم ہوتے جا رہے ہیں کچھ دن پہلے مفتی تقی عثمانی صاحب کے افکار بارے ترکی کے عظیم عالمِ دین شیخ احمد محمود اونلو مدظلہ العالی نے جو بیان دیا یے اس کا مکمل اردو ترجمہ حاضر خدمت ہے  شیخ صاحب فرماتے ہیں: دوستو! مثال کے طور پر ایک شخص ہے تقی عثمانی۔ اسے یہاں وہاں لے جاتے ہیں، اسماعیل آغا والوں کے ہاں بھی پیش کرتے ہیں۔اسی تقی عثمانی کی ایک کتاب ہے جس کا نام مقالاتِ عثمانی ہے۔مقالاتِ عثمانی میں کچھ ایسی باتیں لکھی ہوئی ہیں کہ میلاد شرک ہے، یہ شرک ہے، وہ شرک ہے۔ تم کھڑے ہوگئے تو شرک، بیٹھ گئے تو شرک۔میلاد میں جو قیام کیا جاتا ہے، وہ بھی فلاں فلاں... آخر یہ لوگ کیسے ہیں؟ یہاں ان لوگوں کو اہلِ سنت کا امام بنا کر پیش کیا جاتا ہے...

Masjid

 مساجد کے خلاف جاری بلڈوزر کارروائیوں کے حوالے سے لکھی گئی میری گزشتہ تحریر شائع ہونے کے بعد آج صبح تقریباً نو بجے ممبئی سے محترم اسماعیل باٹلی والا صاحب کا فون آیا۔ مصروفیت کے باعث میں اس وقت کال ریسیو نہ کرسکا، تاہم تقریباً دس بج کر بیس منٹ پر میں نے انہیں واپس فون کیا۔ چند منٹ کی اس گفتگو کے دوران انہوں نے ایک ایسا نکتہ بیان کیا جس نے دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور آنکھیں نم ہوگئیں۔ اسماعیل باٹلی والا صاحب کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ وہ ایک تجربہ کار، بافکر اور متحرک شخصیت ہیں جنہوں نے ملت کے عروج و ارتقاء کے لیے متعدد تحریکیں چلائیں۔ "این آر سی ہمارا حق"، وقف مسودہ تحریک اور اتحاد موومنٹ جیسی سرگرمیاں ان کی ملی خدمات کا روشن باب ہیں، جبکہ آج کل وہ عید میلاد النبیؐ کے حوالے سے ایک نئی تحریک میں سرگرم عمل ہیں۔ نورانی مسجد کی شہادت پر گفتگو کے دوران انہوں نے ایک ایسا جملہ کہا جو بظاہر چونکا دینے والا تھا، مگر اس کے پس منظر میں ایک تلخ حقیقت پوشیدہ تھی۔ انہوں نے کہا  "مسجدیں  شہید نہیں کی جا رہیں، ان کا سودا کیا جا رہا ہے۔" یہ الفاظ سن کر میں کچھ لمحوں کے لیے خاموش ہوگیا...

Kam

 منقول  آنکھیں کھولنے والی بات آج 8/6/2026 میں دوپہر میں قیلولہ کرنے کی نیت سے لیٹا ہی تھا کہ میری بیوی کے موبائل پر ایک واٹس ایپ میسیج "Hi" لکھ کر  آیا چونکہ میری بیوی  unknown نمبر سے فون بھی نہیں اٹھاتی اور نہ ہی کسی میسیج کا جواب دیتی ہے اس لیے اس نے مجھے بتایا کہ دیکھو کس کا میسیج ہے دیکھا تو کسی غیر مسلم کی ڈی پی تھی اندر جا کر دیکھا تو پتہ چلا کہ اسکا نام ہندوانہ تھا اور اسکے نمبر کے نیچے *"اسلام کی بیٹیاں"* لکھا ہوا تھا سوچا اس کے پاس نمبر کیسے پہنچا تو چیک کرنے پر معلوم ہوا کو جن گروپوں میں اہلیہ ہے ان میں سے تین گروپ میں وہ بھی ہے  *اسلام کی بیٹیاں ، بیوٹی کورس اور خواتین مسائل گروپ* پھر میں نے سوچا کہ اسلام کی بیٹیاں گروپ کے ایڈمن کو کہوں کہ آپ کے گروپ میں غیر مسلم بھی ہیں انہیں نکال دیں  تو گروپ لسٹ پر گیا دیکھا  ایڈمن کے سامنے "علی کل حال " لکھا ہے اسے کلک کیا تو اس کا پیج کھلا اس کے نیچے Gavrau kumar  لکھا ہوا تھا تب میرا ماتھا ٹھنکا اسے فون لگایا تو فون نہیں اٹھایا  پھر کچھ دیر بعد ادھر سے فون آیا میں نے جیسے ہی ہلو کہا فون کٹ ...

Udhmani

 تقی عثمانی کی حقیقت ایک عرب عالم کی زبانی الشیخ احمد الشریف الازھری مدظلہ العالی( Sch. Ahmed Alsharif  الشيخ أحمد الشريف ) جوکہ ”مصر“ کے ہیں۔دیوبندیوں کے خود ساختہ مفتی اعظم تقی عثمانی کے متعلق شیخ صاحب کیا فرماتے ہیں؟  ان کی گفتگو کا خلاصہ ہے کہ ”تقی عثمانی وہابی ہے،تکفیری ہے،علماء ازھر کو کاف،ر سمجھتا ہے،افغانی غنڈوں کے ساتھ ہمدردی رکھتا ہے،ان کے ساتھ مالی معاونت میں ملوث رہا ہے،عرب علماء کو مفتی پاکستان کہہ کر جھوٹ بولتا ہے، جشن میلاد النبی ﷺ کو حرام کہتا ہے،میلاد منانے والے (سنیوں) کو مشر،ک کہتا ہے،تقی عثمانی کا چہرہ بےنور ہے۔((خلاصہ۔۔۔از ناقل)) ★ بہرکیف ہم نے عربی متن نقل کردیا ہے اور ساتھ ہی اردو ترجمہ بھی لگادیا ہے۔آپ پڑھیے؛ • شیخ صاحب فرماتے ہیں:   تقي الدين العثماني هذا أقرب في عقائده للوهابية، وهو تكفيري يكفر علماء الأزهر، وله تاريخ طويل من التعاون مع جماعة الإخوان، بل كان يعرف نفسه في سيرته الذاتية على أنه عضو جماعة الإخوان، وهو داعم بالسلاح والمال والرجال للعنف والتطرف في أفغانستان لسنين طويلة، بل يعده كثير من الأفغان عدوهم الأول وسببا مباشرا في قتل أبنا...

Khan sr

 خان سر اور سیکولرزم کا سراب: مصلحت پسندی سے رسوائی تک کا سفر نتیجہ فکر ۔ محمد طارق رضا شمسی رضوی  موجودہ دور میں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا نے جہاں گمنام لوگوں کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا، وہاں نظریات اور شناخت کے کئی تضادات کو بھی بے نقاب کیا۔ انھی میں سے ایک نام خان سر کا بھی ہے، جنہوں نے اپنے منفرد اندازِ تدریس سے ملک بھر کے لاکھوں طلبہ میں مقبولیت حاصل کی۔ لیکن اس مقبولیت کو برقرار رکھنے اور خود کو ایک "سیکولر" اور "قوم پرست" سانچے میں فٹ کرنے کے لیے انہوں نے جو راستہ چنا، وہ بالآخر ایک سراب ثابت ہوا۔ خان سر نے خود کو اکثریتی طبقے کی نظروں میں قبولِ عام دلوانے کے لیے ہر وہ جتن کیا جو ایک مصلحت پسند مسلمان کر سکتا ہے۔ لیکن المیہ یہ ہوا کہ ایک چھوٹی سی چوک نے ان کی برسوں کی "سیکولر گری" کو ایک جھٹکے میں مٹی میں ملا دیا۔ سیکولرزم کا مطلب تمام مذاہب کا احترام اور ان کے مابین توازن ہونا چاہیے تھا، لیکن خان سر کے معاملے میں یہ بالکل یکطرفہ نظر آیا۔ ان کے سوشل میڈیا ہینڈلز اور عوامی زندگی پر نظر ڈالیں تو ایک عجیب تضاد صاف دکھائی دیتا ہے: تصاویر کا سیلاب: م...

Mujalma

 سب سے پہلے انتہائی معذرت - کئی مصروفیات کی بناء پر میں باقاعدگی سے پوسٹ نہیں کر پاتا۔ چلئیے موضوع کی طرف بڑھتے ہیں۔ میں نے ایک مُلحد اور مسلمان کا مکالمہ دیکھا۔ پہلے وہ پڑھئیے۔۔ (سارا نہیں ایک مخصوص حصہ):  مسلمان: کیا تم یہ مانتے ہو کہ "کچھ بھی نہیں" سے "کچھ" وجود میں آسکتا ہے؟  Can something come from nothing?  مُلحد: شاید، مجھے نہیں معلوم مسلمان: نہیں۔ یہ شاید کی بات ہی نہیں۔ اسکے صرف دو ہی جواب ہیں۔ یا تو ہاں یا نہ۔ بالکل سادہ ہے۔ چلو یہ بتاؤ کہ صفر جمع صفر جمع صفر کیا بناتا ہے۔ ؟  مُلحد: ظاہر ہے صفر ہی بنے گا۔ لیکن،،، "میرا خیال ہے کہ ان کے پاس اس بات کا ثبوت ہے کہ کچھ نہیں سے "کچھ" وجود میں آسکتا ہے۔  بس۔۔ اس جواب پر میں تجزیہ کرنا چاہتا ہوں۔  اس جواب میں "ان" سے مراد سائنسدان ہیں۔ اور کچھ نہیں تھا لیکن لھر بگ بینگ ہوا تو کائنات وجود میں آ گئی۔ یہ موجودہ سو کالڈ سائنسی نظری ہے۔  جس وجہ سے میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں وہ ان مُلحدوں کا ایمان ہے۔ جیسا اس مُلحد نے کہا۔۔۔"میرا خیال ہے"   انکو معلوم کچھ نہیں ہوتا۔۔ بس سنی سنائی پر ایما...

Inf

 امت کو عالم چاہیے تھا، انفلوئنسر نہیں! ✍️ سلیم یعفور قادری رضوی کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ اگر ہمارے اکابر علماء آج زندہ ہوتے اور مدارس کے نئے فارغ التحصیل نوجوانوں کو دیکھتے تو کیا محسوس کرتے؟ ایک نوجوان جس نے آٹھ دس سال قرآن، حدیث، فقہ اور عربی زبان کی تحصیل میں گزار دیے، جس کے والدین نے قربانیاں دیں، اساتذہ نے محنت کی، امت نے اس سے امیدیں وابستہ کیں، فراغت کے چند ماہ بعد اس کی سب سے بڑی فکر کیا ہے؟ کوئی نئی کتاب؟ کسی فن میں تخصص؟ تحقیق کا کوئی منصوبہ؟ کسی علمی مسئلے پر سنجیدہ مطالعہ؟ نہیں۔ اکثر اوقات اس کی سب سے بڑی فکر یہ ہوتی ہے کہ یوٹیوب چینل کیسے بڑھے گا، ریلز پر ویوز کیوں کم آگئے، فیس بک پیج کی ریچ کیسے بڑھے گی اور کون سا موضوع زیادہ وائرل ہوگا۔ مجھے سوشل میڈیا سے شکایت نہیں۔ شکایت اس بات سے ہے کہ ہم نے ذریعے کو مقصد بنا لیا ہے۔ ذرا تصور کیجیے۔ ایک نوجوان عالم صبح بیدار ہوتا ہے۔ موبائل کھولتا ہے۔ نوٹیفکیشن دیکھتا ہے۔ کمنٹس پڑھتا ہے۔ اپنی ویڈیو کی ریچ چیک کرتا ہے۔ دوسروں کی ویڈیوز دیکھتا ہے۔ نئے ٹرینڈز تلاش کرتا ہے۔ اور رات تک یہی سلسلہ جاری رہتا ہے۔ دن بھر مصروف رہنے کے با...

Qurbmi

 اسلام میں تصور قربانی ۔۔۔ـــــــــــــــــــــــ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ــــــــ۔۔ـ۔۔۔۔۔۔۔ـــــــــــ قربانی یہ اصل میں حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیہما السلام کی یادگار ہے۔ جنہوں نے حکم خداوندی کے سامنے اپنے سرمایہ زندگی کو بطیب خاطر نثار کردیا۔ جبکہ شیطان لعین نے ان عظیم ہستیوں کو تقرب الٰہی کی اس نعمت عظمی سے روکنے کے لیے حتی المقدور سعی بلیغ کی، لیکن نور الٰہی سے جگمگاتے ہوئے قلوب و اذہان کے سامنے اس کی ساری کوششیں اور حربے بےکار ثابت ہوئے اور شیطان رجیم نامراد اور ذلیل و رسوا ہوکر اوندھا منہ پلٹا۔جس کا ثبوت قرآن کریم و حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں جا بجا ملتا ہے۔ اور اب تک اہل ایمان اس پر عمل پیرا ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالی کو ان حضرات کی جذبہ ایثار اتنی پسند آئی کہ روز آخر تک آنے والے تمام مسلمانوں کے لیے قربانی لازم و ضروری قرار دیا گیا ۔ اور اس قربانی کی مقبولیت کا اندازہ اس سے بھی بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ جب علی الاطلاق لفظ قربانی کا تلفظ کیا جاتا ہے، تو اس وقت دیگر ساری قربانیوں سے قطع نظر سب سے پہلے حاشیہ خیال میں حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیہما السلام کی قربانی و ایثار کا...

Kamaal

#کمال_مولا_مسجد_فیصلہ: قانونی پیچیدگیاں، اسباق اور مستقبل کے اندیشے  گزشتہ جمعے کو جسٹس وجے کمار شکلا اور جسٹس آلوک اوستھی پر مشتمل مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے صوبے کے دھار میں واقع ہند-اسلامی طرز تعمیر کی گواہ، پر شکوہ اور تاریخی کمال مولا مسجد تنازع میں ہندو فریق کے دعوے کو صحیح مانتے ہوے یک طرفہ فیصلہ سنا دیا۔ اور کہا کہ اس پورے احاطے کی مذہبی حیثیت بھوج شالہ یعنی واگ دیوی (سرسوتی) مندر کی ہے اور یہ کہ پرمار خاندان کے راجا بھوج نے گیارہویں صدی عیسوی میں سنسکرت تعلیم کی درس گاہ کے طور پر اسے قائم کیا تھا۔ اس لیے کورٹ نے مسلمانوں کی نماز پر وہاں پابندی عائد کر دی ہے۔ تاریخی حیثیت: یہ مسجد چودہویں صدی عیسوی کے صوفی بزرگ حضرت کمال الدین چشتی علیہ الرحمہ (وصال: ١٣٣١ء) کے نام سے منسوب ہے۔ اسی سے متصل ان کا مزار پاک بھی ہے۔ مسجد کی تعمیر اس صدی کے اوائل میں سلطان علاء الدین خلجی کے مالوہ فتح کے بعد ہوئی تھی۔ تب عیان الملک ملتانی وہاں کے گورنر ہوا کرتے تھے۔ پھر صدی کے اواخر میں اس کی مرمت کا کچھ کام ہوا جب دلاور خان مالوہ کے گورنر مقرر ہوے تھے (دیکھیے ویکی پیڈیا). حکومت کی نظر...

Bngal

 #بنگال_کی_روشنی: کیا ملک کے مسلمان رہ نمائی حاصل کریں گے؟ کانگریس لیڈر گوپال کرشن گوکھلے (١٨٦٦-١٩١٥ء) کی طرف عموماً منسوب کیا جاتا ہے کہ انہوں نے ایک موقع پر کہا تھا،  "What Bengal thinks today, India thinks tomorrow." (بنگال جو آج سوچتا ہے، بھارت کل سوچے گا). درست بات یہ ہے کہ گوکھلے نے ١٩٠٥ء میں کانگریس کی بنارس نشست کے دوران یہ بات کچھ اس طرح کہی تھی:  "What educated Indians think today, the rest of India thinks tomorrow." یعنی: تعلیم یافتہ ہندوستانی جو آج سوچتے ہیں، پورا بھارت کل سوچے گا۔ مگر چوں کہ جب گوپال کرشن نے یہ کہا تھا، اس وقت بنگال میں رابندر ناتھ ٹیگور، سوامی وویکا نند، ایشور چندر ودیا ساگر، سبھاش چندر بوس اور قاضی نذر الاسلام جیسے انتہائی پڑھے لکھے اور وسیع الفکر لوگ موجود تھے، شاید اسی لیے مذکورہ قول میں 'تعلیم یافتہ ہندوستانی' کو 'بنگال' سے بدل دیا گیا۔ یہ تبدیلی چل پڑی اور اب تک چل رہی، بلکہ دوڑ رہی ہے۔ اور اس کی ایک وجہ ہے: آج بھی مغربی بنگال کی شرح خواندگی بھارت کی اوسط شرح خواندگی سے کہیں زیادہ ہے۔ بلا امتیاز مذہب و ملت، لوگوں ک...

Pentr

 बहुत साल पहले मेरे यहां एक पेंटर काम करता था  । आमतौर पर उनकी दिहाड़ी सुबह 9:00 से शाम 5:00 बजे तक होती है जिसमें दोपहर एक से दो बजे तक इनका लंच होता है । तो यह पेंटर भाई 10:00 बजे काम पर आया करता था , उसके बाद जाकर सामान चेक करता था फिर मेरे पास आकर बोलता भैया पुट्टी नहीं है , कभी प्राइमर नहीं है , कभी पेंट नहीं है ,  कभी ब्रश नहीं है ,  अर्थात रोज किसी न किसी सामान की कमी निकाल देता था । फिर मैं गुस्सा करता हूं की शाम को क्यों नहीं चेक करता है तो हंसने लग जाता ।  फिर मैं कहता कि चल मंगवा लेता हूं तो कहता कि भैया मैं ही ले आऊंगा अपने हिसाब से । मुझे पता है कि यह लोग खुद इसलिए खरीदने जाते हैं क्योंकि इनका कुछ कमीशन बन जाता है फिर भी मैं इन्हें खरीदने देता था वरना यह लोग सामान में कमी निकालते हैं कि आप डुप्लीकेट माल ले कर आ गए, इसकी पकड़ अच्छी नहीं है,  इसकी कवरेज अच्छी नहीं है आदि आदि । इस प्रकार लगभग 11 बजे बजे मेरा काम शुरू होता था।    2 घंटे बाद 1 से 2 के बीच लंच टाइम शुरू हो जाता था   वो भाई खाना तो 15 मिनट में खा लेता था लेकिन...

Maut

 موت کا علم ، راز و غیب ھونے کی حکمتیں!  از قلم: سعود احمد مقصود المدنی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ●  اولا : ’’موت‘‘ کوئی افسانہ یا کسی بشر کا نظریہ نہیں، یہ ایک اٹل حقیقت ہے جسے ثابت کرنے کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ، اور نہ ہی کسی کے پاس انکار کی کوئی گنجائش ہے ۔ "موت " اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ایسا مُحکَم اور ٹھوس نظام ہے جس سے کسی کے لئے مَفَر نہیں، موت کا عارضہ ہر ایک کو لاحق ہوگا، اور یہ کڑوا گھونٹ ہر ایک کو پینا ہوگا، ہر ایک کی موت کا وقت و جگہ بهى مقرر ہے ، کب کس کا وقت موعود آجائے؟ کسی کو خبر نہیں ہے ۔ چناںچہ کوئی رحم ِمادر میں ہی جاں بحق ہوجاتا ہے، تو کوئی پیدائش کے وقت۔ کوئی بچپن کی خوشگوار فضا میں ہنستے کھیلتے ، اہل و عیال کے ساتھ موج و مستیاں کرتے ہوئے دنیا کو خیرآباد کہہ جاتا ہے تو کوئی جوانی کے حسین دہلیز پر قدم رکھتے ہی بے شمار تمناؤں اور خواہشات کے ساتھ دفن ہو جاتا ہے، اور کوئی سن رشد کے مرحلہ میں اپنی کار کردگیوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے خوبصورت اثرات و تجربات چھوڑ کر دار فانی کو الوداع کہہ جاتا ہے ۔ ●●  عقیدۂ اسلام یہ ہے کہ دائمی حیات اور بقا صرف اللہ سبحان...

Siriya

 सीरियाई अरब फ़ौज, बल्कि कोई भी मुस्लिम फ़ौज को अमेरिका के सामने अपनी क़ुव्वत साबित करने की कोई ज़रूरत हीं नहीं हैं।  इसके बावजूद कुछ लोग शाहीनों की कार्रवाई को लेकर फेसबुक पर हलब के शेख़ मक़सूद और अशरफ़िया के हवाले से यह राग अलाप रहे हैं कि अमेरिका “जाँच” कर रहा है कि सीरियाई अरब फ़ौज मिलिशियाओं को कुचल सकती है या नहीं। जबकि हक़ीक़त इससे बिल्कुल मुख़्तलिफ़ है, अमेरिका यह बात पहले से जानता है कि अगर मौजूदा सीरियाई फ़ौज को पूरी आज़ादी मिल जाए, तो वह महज़ 48 घंटों में पूरे सीरिया को फिर से एक कर सकती है। इसकी ज़िंदा मिसाल उस वक़्त सामने आई, जब बाहरी दख़ल हटा और शामी सदर अहमद अल-शर्राअ की फ़ौज बश्शार अल-मलऊन के भगोड़े सैनिकों के दरमियान की रुकावट ख़त्म हो गई, नतीजा यह निकला कि सिर्फ़ 11 दिनों में तमाम इलाक़े आज़ाद हो गए। बश्शार अल-मलऊन के सैनिकों ने कोई संजीदा मुक़ाबला किया ही नहीं,  वे गोली चले बग़ैर ही दहशत के आलम में टूटकर बिखर गए। सुवैदा की मिसाल भी सबके सामने है, उस पर दो बार क़ब्ज़ा हुआ। एक मर्तबा सीरियाई फ़ौज ने कुछ ही घंटों में इलाक़ा अपने क़ब्ज़े में ले लिया, और दूस...

Iran

 ایران : جو جنگ سے نہ ٹوٹے اسے بغاوت سے توڑو!  تحریر محمد زاہد علی مرکزی  چیرمین تحریک علمائے بندیل کھنڈ  فی الحال ایران میں زبردست انقلابی سرگرمیاں دیکھی جارہی ہیں ،مظاہرین اس قدر مشتعل ہیں کہ اپنے مذہبی مقامات کے تقدس کا بھی خیال نہیں کر رہے ۔ یہ مظاہرے کرنسی میں بھاری گراوٹ اور مہنگائی کو لے کر شروع ہوے تھے لیکن یہ نہ صرف حکومت مخالف ہوے بل کہ مذہب مخالف بھی ہوگئے ہیں ۔ ایسے مظاہرین دنیا میں کہیں نہیں دیکھے جاتے کہ عوام ناراض حکومت سے ہو اور نشانہ مقدس مقامات کو بنائے ۔ قومی پرچم کو بھی گرا کر نذر آتش کر دیا ۔ اس لیے ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ یہ مظاہرین امریکی سپورٹڈ ہیں ورنہ ایسا ہرگز نہ کرتے ۔ 25 مساجد میں آگ زنی کی گئی ہے ،26 بینکوں پر حملہ کیا گیا ہے ۔48 فائر برگیڈ کی گاڑیاں جلا دی گئی ہیں اور اس کے عملے کو نقصان پہنچایا گیا ہے ۔ کچھ پولیس والوں کی موت کی بھی خبر ہے حکومتی اور غیر حکومتی املاک کو دانستہ بڑا نقصان پہنچایا گیا ہے ۔ ------- امام موسیٰ کاظم کا سبز قبہ نذر آتش! شیعہ حضرات اپنے اماموں سے کافی عقیدت رکھتے ہیں ایسے میں ایک جلیل القدر امام حضرت امام موسیٰ ک...

Bedalil

 خدا کسی دلیل سے سمجھا نہیں جا سکتا  اور کائنات کی ہر شی خدا کے وجود کی دلیل بھی ہے ! پہلے ایک آسان مثال ملاحظہ فرمائیں  کسی گھڑی کو دیکھ کر یہ کہنا کہ اس کا ایک بنانے والا ہے  ایک استدلالی اور استقرائی علم ہے یعنی  اس دلیل کی بنیاد ایک استقراء پر ہے وہ یہ ہے کہ ہر چیز کا ایک بنانے والا ہے تو گھڑی کا بھی ایک بنانے والا ہے اور اس کو دلیل بناکر گھڑی کا موجد مانا گیا  یہ استدلال ہے  مگر وہ بنانے والا کیسا ہے؟ انسان نے بنایا یا جن نے ؟ روبوٹ نے بنایا یا کسی نے اپنے ہاتھ سے؟  وہ ہاتھ مصنوعی تھے یا حقیقی ؟ یا محض برقی توانائی کی مدد سے گھڑی بنائی گئی ؟ جس طرح کوئی چیز  جلی ہے  تو اس کو جلانے والا ہونا چاہیے ! مگر وہ جلانے والا کیسا ہے؟  کون ہے؟  اور اس نے  کس طرح جلایا یہ اس دلیل سے نہیں جانا جا سکتا ہے ۔ یہی وہی بتا سکتا ہے جس نے جلایا ہے کہ اس نے کس طرح جلایا ہے ۔  وجود باری تعالیٰ کی جتنی بھی دلیلیں سب کا حاصل بس یہی ہے کہ کائنات موجود ہے تو اس کا ایک موجد ہے  جب یہ حادث ہے تو اس کا محدث ہے ۔ اور اگر وہ بھی حادث ہو ...

Pamisbahi

 #تجدُّد_کا_تہ_در_تہ_شَر_اور_ہمارا_تردّد  ✍️ پٹیل عبد الرحمٰن مصباحی، گجرات (انڈیا)  جب ہم کہتے ہیں اسلام عقل کے مطابق یے تو لوگ سمجھتے ہیں ریشنل ہے، جب ہم کہتے ہیں اسلام ایک فطری دین ہے تو لوگ سمجھتے ہیں نیچرل یے. جب ہم کہتے ہیں اسلام میں کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی فضیلت نہیں سوائے تقویٰ کے تو لوگ سمجھتے ہیں اسلام مساوات کی بات کرتا ہے. جب ہم کہتے ہیں دین میں کوئی جبر نہیں تو لوگ لبرل ازم کا تصور اٹھا لیتے ہیں. جب ہم کہتے ہیں اسلام ساری دنیا کے لیے ہے تو لوگ سمجھتے ہیں کہ اسلام گلوبلائزیشن کی دعوت دیتا ہے. جب ہم کہتے ہیں اسلام انسانیت کی فلاح کے لیے ہے تو لوگ سمجھتے ہیں کہ اسلام ہیومنزم کو سپورٹ کرتا ہے. جب ہم کہتے ہیں اسلام عورت کے رشتوں پر مبنی حقوق کو بیان کرتا ہے تو یوں گمان کیا جاتا ہے کہ اسلام فیمنزم کے ساتھ کھڑا ہے. جب ہم کہتے ہیں اسلام غریبوں مزدوروں کا حامی ہے تو لوگ اسے اشتراکیت کے ساتھ جوڑنے لگتے ہیں. جب ہم کہتے ہیں اسلام... تو لوگ سمجھتے ہیں... ھکذا.  درج بالا جملے ایک مرتبہ پڑھ چکے، دو بارہ پڑھیے، بلکہ بار بار کئی بار پڑھیے، یہ صرف جلمے نہیں ہیں، یہ ل...