Iran

 ایران : جو جنگ سے نہ ٹوٹے اسے بغاوت سے توڑو! 


تحریر محمد زاہد علی مرکزی 

چیرمین تحریک علمائے بندیل کھنڈ 

فی الحال ایران میں زبردست انقلابی سرگرمیاں دیکھی جارہی ہیں ،مظاہرین اس قدر مشتعل ہیں کہ اپنے مذہبی مقامات کے تقدس کا بھی خیال نہیں کر رہے ۔ یہ مظاہرے کرنسی میں بھاری گراوٹ اور مہنگائی کو لے کر شروع ہوے تھے لیکن یہ نہ صرف حکومت مخالف ہوے بل کہ مذہب مخالف بھی ہوگئے ہیں ۔ ایسے مظاہرین دنیا میں کہیں نہیں دیکھے جاتے کہ عوام ناراض حکومت سے ہو اور نشانہ مقدس مقامات کو بنائے ۔ قومی پرچم کو بھی گرا کر نذر آتش کر دیا ۔ اس لیے ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ یہ مظاہرین امریکی سپورٹڈ ہیں ورنہ ایسا ہرگز نہ کرتے ۔ 25 مساجد میں آگ زنی کی گئی ہے ،26 بینکوں پر حملہ کیا گیا ہے ۔48 فائر برگیڈ کی گاڑیاں جلا دی گئی ہیں اور اس کے عملے کو نقصان پہنچایا گیا ہے ۔ کچھ پولیس والوں کی موت کی بھی خبر ہے حکومتی اور غیر حکومتی املاک کو دانستہ بڑا نقصان پہنچایا گیا ہے ۔


------- امام موسیٰ کاظم کا سبز قبہ نذر آتش!


شیعہ حضرات اپنے اماموں سے کافی عقیدت رکھتے ہیں ایسے میں ایک جلیل القدر امام حضرت امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ کی مزار مبارک جسے " سبز قبہ" کہا جاتا ہے مظاہرین نے اسے بھی نہیں چھوڑا ،وہاں آگ زنی اور توڑ پھوڑ ہوئی ہے ۔ ایسی حرکات ایرانی مظاہرین سے بعید از قیاس ہے ۔ اور اگر ایسا نہیں ہے تو تشویش مزید گہری ہو جاتی ہے کیوں کہ آخر غیر ملکی یا ملکی ایجنٹ اس قدر سرگرم اور زیادہ ہیں لیکن حکومت کو کانوں کان خبر نہیں ۔

حالیہ ایران اسرائیل جنگ میں بھی اندرونی کارروائیوں میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ سارا نقصان غیر ملکی ایجنٹوں کے ذریعہ ہوا تھا ۔ باوجود اس کے حکومت ایران کچھ خاص توجہ نہیں دے رہی اس کا فوکس انڈیا اور انڈیا کے پڑوسی ممالک میں سنی علما و مشائخ کو خریدنے اور مذہب کی تبلیغ میں زیادہ دکھ رہا ہے اگر ایسا ہی چلتا رہا تو مذہب شاید بچ جائے لیکن ملک چلا جائے گا ۔

ہم یہاں کچھ ایسے ہی معمالات پر نظر ڈالتے ہیں تاکہ واضح ہو جائے کہ امریکا و یوروپ ہمیشہ سے ایسا ہی کرتے آئے ہیں جہاں طاقت کام نہیں کرتی وہاں بغاوت سے کام لیا جاتا ہے ۔ باوجود اس کے اگر ملکی افراد یہ نہیں سمجھتے تو ان کی عقل پر تف ہے ۔ اور حکومتیں بھی ان خطرات کو نظر انداز کرتی ہیں تو نقصان ظاہر ہے ۔  خامنہ ای نے جمعہ کو سخت بیان دیا ہے ، مظاہرین کے خلاف کڑی کارروائی کی بات کہی ہے لیکن بات وہی ہے کہ ہر بار چڑیوں کے کھیت چگ جانے کے بعد جاگنے سے کیا فائدہ ۔


------- لیبیا 1969: 

 لیبیا میں فوجی افسر رہے معمر قذافی نے 1969 میں ایک خونریز بغاوت کے ذریعے بادشاہ ادریس اول کو اقتدار سے بے دخل کر کے لیبیا کو جمہوریہ قرار دیا اور خود کئی دہائیوں تک اقتدار پر قابض رہے ۔ جب امریکا اور یورپ کسی طرح لیبیا میں معمر قذافی کو ہٹانے میں ناکام رہے تو بغاوت آخری چارہ بچا ، استعمال کیا اور کامیاب ہوا۔ 

2011 میں عرب بہار کی لہر کے دوران، عوامی مظاہروں اور بین الاقوامی مداخلت (نیٹو کی حمایت) کے نتیجے میں قذافی حکومت کا خاتمہ ہوا، جس کے بعد قذافی ہلاک ہوئے اور ملک میں خانہ جنگی شروع ہو گئی. اب ملک کئ دھڑوں میں جنگ جو قوتوں کے درمیان فٹ بال بنا ہوا ہے ۔


ایران: 1953

1953 کا تختہ الٹنا (Coup of 1953): یہ سب سے مشہور واقعہ ہے، جس میں سی آئی اے (CIA) اور ایم آئی6 (MI6) نے ایرانی وزیرِ اعظم محمد مصدق کو ہٹایا، جنہیں ایران کے تیل کے قومیانے پر شاہِ ایران اور مغرب سے اختلافات تھے.

ایران میں دوسرا انقلاب 1979 میں ہوا ۔جس میں شاہ محمد رضا پہلوی کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور خمینی کی قیادت میں اسلامی جمہوریہ قائم ہوئی۔ تب سے اب تک ایران کامیابی کے ساتھ تمام عائد پابندیوں سے نکل کر عالمی قوت بنا ہے ۔ ایران اسرائیل جنگ میں جن ہتھیاروں کو نشانہ بنانے کی بات کی گئی تھی وہ ایک ڈرامہ سے زیادہ کچھ نہ تھا ،جسے ہم نے اسی وقت بتایا تھا ۔ اب یہاں بھی لیبیا پیٹرن اپنا کر ایران کو کمزور کرنے کی کوشش ہو رہی ہے دیکھیے کیا ہوتا ہے ۔

2016 ترکیے:

2016 میں امریکا نے یہاں بھی موجودہ صدر رجب طیب اردوغان کے خلاف عوام کو باہر نکالا لیکن کامیاب نہ ہو سکا ۔ آج ترکی بھی ایک بڑی قوت ہے مگر اسلامی خلیفہ جیسا کچھ نہیں ۔

شام : 2024

 دسمبر 2024 میں امریکی کوششوں سے یہا بھی بشار الاسد کی 24 چوبیس سالہ جارح حکومت کا خاتمہ ہوا اور امریکا اپنے مقصد میں کامیاب رہا ۔ امریکا کے پسندیدہ جولانی آج یہاں حکومت میں ہیں اور امریکی اسرائیلی مفادات پر عمل درآمد کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں ۔


3 جنوری 2026: 

وینزویلا کے وزیر داخلہ دیوسدادو کابیلو کے اعلان کے مطابق کراکس پر امریکی حملے اور وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کی کارروائی کے نتیجے میں 100 افراد مارے گئے۔

کابیلو نے بدھ کے روز کہا تھا کہ “اب تک 100 افراد ہلاک اور اتنی ہی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں۔ ہمارے ملک پر حملہ نہایت ہول ناک تھا۔”


-------- ظالم طاقت ور نہیں مظلوم بزدل ہیں ۔


لسٹ لمبی ہے لیکن سمجھنے کے لیے بس اتنا ہی کافی ہے دنیا جتنی دیر سے امریکا کے خلاف اٹھے گی اتنی ہی زیادہ بھاری قیمت چکائے گی ۔ ہر ملک اپنی باری کے انتظار میں ہے ۔ ابھی گرین لینڈ اور امریکا کے پڑوسی کچھ اور ملک بھی خطرے میں ہیں باقی ٹیرف کا کھیل تو شروع ہی ہے ابھی تازہ بیان ہے کہ انڈیا پر مزید ٹیرف لگایا جائے گا ۔ ہر ملک امریکا کی غنڈا گردی سے پریشان ہے لیکِن پھر اسی کے آگے جھکا ہوا ہے یہی اس کی ہمت ہے ۔ اتر کوریا کو دیکھیے ایک لفظ نہیں سنتا امریکا اور یوروپ اس کا کچھ نہیں کر سکتے اس سے دور رہنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں ۔ جس دن دیگر ممالک یہ جان لیں گے اس دن امریکا یا تو سدھر جائے گا یا اکیلا رہ جائے گا ۔

10/1/2026

20/7/1447

टिप्पणियाँ

इस ब्लॉग से लोकप्रिय पोस्ट

Links hindi

Aamanu

Victorya