Maut

 موت کا علم ، راز و غیب ھونے کی حکمتیں!

 از قلم: سعود احمد مقصود المدنی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

●  اولا : ’’موت‘‘ کوئی افسانہ یا کسی بشر کا نظریہ نہیں، یہ ایک اٹل حقیقت ہے جسے ثابت کرنے کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ، اور نہ ہی کسی کے پاس انکار کی کوئی گنجائش ہے ۔ "موت " اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ایسا مُحکَم اور ٹھوس نظام ہے جس سے کسی کے لئے مَفَر نہیں، موت کا عارضہ ہر ایک کو لاحق ہوگا، اور یہ کڑوا گھونٹ ہر ایک کو پینا ہوگا، ہر ایک کی موت کا وقت و جگہ بهى مقرر ہے ، کب کس کا وقت موعود آجائے؟ کسی کو خبر نہیں ہے ۔ چناںچہ کوئی رحم ِمادر میں ہی جاں بحق ہوجاتا ہے، تو کوئی پیدائش کے وقت۔ کوئی بچپن کی خوشگوار فضا میں ہنستے کھیلتے ، اہل و عیال کے ساتھ موج و مستیاں کرتے ہوئے دنیا کو خیرآباد کہہ جاتا ہے تو کوئی جوانی کے حسین دہلیز پر قدم رکھتے ہی بے شمار تمناؤں اور خواہشات کے ساتھ دفن ہو جاتا ہے، اور کوئی سن رشد کے مرحلہ میں اپنی کار کردگیوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے خوبصورت اثرات و تجربات چھوڑ کر دار فانی کو الوداع کہہ جاتا ہے ۔

●●  عقیدۂ اسلام یہ ہے کہ دائمی حیات اور بقا صرف اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے لئے ہے ، بقیہ سبھی کو فنا ہونا ہے، اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہماری زندگی کا ہر پَل و لمحہ ، موت کا وقت ، جگہ اور سبب تمام تفصیلات اپنے سابق علم کی بنا پر لکھ دیا ہے۔ جب رحم مادر میں بچہ کے اندر روح ڈالی جاتی ہے، اسی وقت فرشتہ اللہ کے حکم سے بچہ کی زندگی و موت لکھ دیتا ہے۔ موت کا علم ، غیب کی چابیوں میں سے ہے ، اللہ کا راز ہے ، اور کسی فرد ومخلوق کو موت کا علم نہ دینا اللہ کی عظیم رحمت بھی ہے ۔ اللہ فرماتا ہے:{وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ بِأَیِّ أَرْضٍ تَمُوْتُ} (لقمان :۳۴)  ترجمہ: ’’اور کسی کو نہیں پتہ کہ وہ کس جگہ مرے گا‘‘۔ چنانچہ آج تک کوئی بھی فرد و بشر اپنی موت سے آگاہ نہ ہوسکا، خواہ وہ نبی و رسول ہوں یا ولی و صالح ، مختلف علوم و فنون کے ماہرین ، ڈاکٹر و حکیم ہوں، یا بڑے بڑے سائنسداں، عقلمند، دانشور اور طاقتور شخصیات هوں ، اچانک تمام حکمتیں ، تدبیریں، اور صلاحیتیں ناکام ہوجاتی ہیں، اور رب کا فیصلہ پورا ہوجاتا ہے ۔اللہ فرماتا ہے: {قُلْ اِنَّ الْمَوتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْہُ فَاِنَّہٗ مُلٰقِیْکُمْ } (الجمعۃ:۸ )  ترجمہ:’’کہہ دیجئے کہ جس موت سے تم بھاگتے پھرتے ہو وہ تمہیں پہنچ کر رہے گی‘‘۔ مگر کب اور کہاں ؟ یہ کسی کو معلوم نہیں ۔

●●  موت کا قطعی علم راز رکھنے میں کئی مصلحتیں ہیں:

1-  ایک مصلحت یہ ہے کہ اگر انسان کو یقینی علم حاصل ہو جائے کہ اسے موت آنے میں ابھی 70 ، 80 سال باقی ہیں تو وہ موت کو یاد ہی نہیں کرے گا ، زندگی کا ایک طویل عرصہ بے خوف ہوکر گزارے گا، دین سے لاپرواہ اور عبادات سے دور ہوجائے گا، ہر چہار سو فتنے بڑھ جائیں گے، اور وہ اس امید کے سائے میں سرکشی پر تلا رھے گا کہ ابھی عمر بہت باقی ہے ، آخری سالوں میں توبہ وعمل صالح کرلیں گے۔

2-  دوسری حکمت یہ ہے کہ اگر بندہ کو علم ہوجائے کہ اُسے یا کسی عزیز کو فلاں دن اور فلاں جگہ مرنا ہے، موت کا وقت ، جگہ اور کیفیت کی خبر پہلے سے ہو تو زندگی سے خوشیاں ختم ہوجائیں گی ، چہرہ سے مسکراہٹ چھِن جائے گی، ہر طرف قلق و اضطراب اور آہ و فغاں کا ماحول ہوگا، کاروبار اور آمدورفت کا سلسلہ متاثر ہوگا، زندگی بے مزہ اور بے لطف ہوجائے گی، اللہ کی نعمتوں سے محظوظ ہونا چھوڑ دیں گے ، اور دنیا کا نظام درہم برہم ہوجائے گا۔ اس واسطے "موت‘‘ کب ، کیسے اور کہاں آئے گی؟ یہ ساری تفاصیل اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے حکمت و مصلحت کے تحت اپنے علم غیب میں رکھی ہے ۔ 

3-  تیسری حکمت یہ ہے کہ جب بندہ کو اپنی موت کے وقت کا قطعی علم نہ ہوگا تو وہ موت کے لئے ہمیشہ تیاری کرے گا ، اپنے نفس کا محاسبہ کرے گا، نیکیوں میں پیش پیش رہے گا، دل میں یہ احساس ہوگا کہ موت کسی بھی لمحہ اپنے مقررہ وقت پر آسکتی ہے ، ایک لمحہ کے لئے آگے ہوگی نہ پیچھے ، نہ کسی کا انتظار کرے گی اور نہ مہلت دے گی ۔ اللہ فرماتا ہے: {وَلِکُلِّ أُمَّۃٍ أَجَلٌ فَاِذَا جَاء أَجَلُھُم لَا یَسْتَأْخِرُوْنَ سَاعَۃً وَلَا یَسْتَقْدِمُوْنَ } (الأعراف:۳۴) ترجمہ:’’اور ہر گروہ کے لئے ایک وقت مقرر ہے ، جب ان کا مقررہ وقت آجائے گا ، اس وقت ایک گھڑی نہ آگے ہوسکیں گے اور نہ پیچھے‘‘ ، وقوع موت کا یہ احساس نیکیوں میں پیش قدمی پر اکسائے گا اور وہ نیکیوں کا عظیم ذخیرہ جمع کرلے گا۔    

 ●● موت کی جگہ اور سبب بھی متعین ہے، اور اس کا بھی علم کسی فرد و بشر کو نہیں، بندہ اس جگہ پہنچتا ہے جہاں اس کی موت لکھی ہوتی ہے اور اسے خبر نہیں ہوتی ہے کہ وہاں اس کی روح قبض کرلی جائے گی ، بندہ وہ کام کرتا ہے جس کے سبب موت آنی ہے اور اسے علم نہیں ہوتا کہ یہ کام موت کا سبب بننے والا ہے۔ حدیث ہے: ’’اِذَا قَضَی اللّٰہُ لِعَبْدٍ أَنْ یَّمُوتَ بِأَرْضٍ جَعَلَ لَہٗ اِلَیْھَا حَاجَۃً‘‘ (سنن الترمذی  ، وصححہ الألبانی) ترجمہ:’’جب اللہ کسی بندہ کے لئے کسی زمین میں موت کا فیصلہ کردیتا ہے تو اس جگہ کا اسے حاجت مند بنا دیتا ہے‘‘ ۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو حسن خاتمہ عطا کرے ۔ آمین

टिप्पणियाँ

इस ब्लॉग से लोकप्रिय पोस्ट

Links hindi

Aamanu

Victorya