संदेश

जून 7, 2026 की पोस्ट दिखाई जा रही हैं

Mkl

 وہابیوں کے جانب سے ایک پوسٹ دیکھنے کو ملی جس میں مذکورہ باتیں تھیں👇🏻👇🏻 > "ان چار باتوں پر غور کریں تو شاید 80 فیصد شرک و بدعات ختم ہو جائیں" 1. اگر نبی ﷺ نور تھے تو خاندان ختم 2. اگر نبی ﷺ عالم الغیب تھے تو وحی کا مقصد ختم 3. اگر نبی ﷺ حاضر و ناظر تھے تو بشریت کا مقصد ختم 4. اگر نبی ﷺ مختارِ کل تھے تو شفاعت کا مقصد ختم علمائے اہلِ سنت (بریلوی) کے موقف کے مطابق اس کا جواب مختصراً یہ ہے: 1. "اگر نبی ﷺ نور تھے تو خاندان ختم" اہلِ سنت کا عقیدہ یہ نہیں کہ نبی ﷺ صرف نور تھے اور بشر نہیں تھے، بلکہ: > "آپ ﷺ بشر بھی ہیں اور اللہ کے عطا سے نور بھی ہیں۔" قرآن میں بشریت بھی ثابت ہے:  *قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ (الکہف: 110)* اور نور ہونا بھی: *قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ (المائدہ: 15)* لہٰذا نور ماننے سے خاندان ختم نہیں ہوتا، کیونکہ اہلِ سنت بشریت کا بھی عقیدہ رکھتے ہیں۔ --- 2. "اگر نبی ﷺ عالم الغیب تھے تو وحی کا مقصد ختم" اہلِ سنت نبی ﷺ کو  عالم الغیب نہیں مانتے۔ بلکہ ہم یہ مانتے ہیں کہ اللہ نے اپنے حبیب کو  م...

Manhus

 #اسلامو_فوبیا_اور_اس_کا_تدارک ✍️ پٹیل عبد الرحمٰن مصباحی، گجرات (انڈیا) اسلام کا مطلب اسلام ہے اور فوبیا کا مطلب ہے خوف. اسلامو فوبیا کا لفظ سنتے ہی ذہن مائل ہوتا ہے ایک ایسے نظریہ کی طرف یا ایسے رویہ کی طرف جس میں نفرت ہے تعصب ہے تشدد ہے بھید بھاؤ ہے، منفی جذبات کا ایک مجموعہ.  یہ لفظ ایک ایسے ذہن کی عکاسی کرتا ہے جس کے لیے اسلام / مسلمان ایک بر انگیختہ کرنے والا تصور ہے، ایک ایسا تصور جو اُسے فوراً چونکا دیتا ہے، پھر چوکنّا کر دیتا ہے اور ڈراتا ہے کہ کہیں کوئی جانی یا مالی نقصان نہ ہو جائے، یہ خوف صرف مادی نقصان کی حد تک نہیں ہوتا بلکہ سیاسی، معاشرتی اور اخلاقی سطح پر یہ خوف دوبالا ہو جاتا ہے.  اسلامو فوبیا سے متاثر ذہن کو بڑا ڈر یہ ستاتا ہے کہ یہ اسلام/مسلمان کہیں اپنی طرح ہمیں بھی ایک "عرب تہذیب" کے سانچے میں نہ ڈھال لے، چنانچہ پہلے مرحلے میں جانی یا مالی طور پر خدشہ بن کر ابھرنے والا یہ منفی جذبہ بڑھتے بڑھتے اخیر میں تہذیبی سطح پر آ کر نفرت کا روپ دھار لیتا ہے.  اسلامو فوبیا میں مبتلا ایک شخص پہلے مسلمان کو صرف اپنے جان مال کا دشمن سمجھتا ہے مگر ایک مرحلے کے بع...

Onlu

 اجکل انسانی فکر چاہے تحریری صورت میں ہو یا تقریری شکل میں اس کی کوئی سرحد نہیں رہی ایک قوم سے دوسری قوم تک پہچنے کے لیے زبان کی رکاوٹ بھی جدید ایجادات کی بدولت ختم یو چکی صوفیوں میں صوفی بن جانا اور سلفیوں میں سلفی بن جانا موجودہ حالات میں کافی مشکل ہوتا جا رہا یے اگرچیکہ ماضی میں دو رنگی فکر نے بہت کمایا مگر گزرتے وقت کی ساتھ ساتھ اس گیلے اور ڈھیلے سودے کے خریدار کم ہوتے جا رہے ہیں کچھ دن پہلے مفتی تقی عثمانی صاحب کے افکار بارے ترکی کے عظیم عالمِ دین شیخ احمد محمود اونلو مدظلہ العالی نے جو بیان دیا یے اس کا مکمل اردو ترجمہ حاضر خدمت ہے  شیخ صاحب فرماتے ہیں: دوستو! مثال کے طور پر ایک شخص ہے تقی عثمانی۔ اسے یہاں وہاں لے جاتے ہیں، اسماعیل آغا والوں کے ہاں بھی پیش کرتے ہیں۔اسی تقی عثمانی کی ایک کتاب ہے جس کا نام مقالاتِ عثمانی ہے۔مقالاتِ عثمانی میں کچھ ایسی باتیں لکھی ہوئی ہیں کہ میلاد شرک ہے، یہ شرک ہے، وہ شرک ہے۔ تم کھڑے ہوگئے تو شرک، بیٹھ گئے تو شرک۔میلاد میں جو قیام کیا جاتا ہے، وہ بھی فلاں فلاں... آخر یہ لوگ کیسے ہیں؟ یہاں ان لوگوں کو اہلِ سنت کا امام بنا کر پیش کیا جاتا ہے...

Masjid

 مساجد کے خلاف جاری بلڈوزر کارروائیوں کے حوالے سے لکھی گئی میری گزشتہ تحریر شائع ہونے کے بعد آج صبح تقریباً نو بجے ممبئی سے محترم اسماعیل باٹلی والا صاحب کا فون آیا۔ مصروفیت کے باعث میں اس وقت کال ریسیو نہ کرسکا، تاہم تقریباً دس بج کر بیس منٹ پر میں نے انہیں واپس فون کیا۔ چند منٹ کی اس گفتگو کے دوران انہوں نے ایک ایسا نکتہ بیان کیا جس نے دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور آنکھیں نم ہوگئیں۔ اسماعیل باٹلی والا صاحب کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ وہ ایک تجربہ کار، بافکر اور متحرک شخصیت ہیں جنہوں نے ملت کے عروج و ارتقاء کے لیے متعدد تحریکیں چلائیں۔ "این آر سی ہمارا حق"، وقف مسودہ تحریک اور اتحاد موومنٹ جیسی سرگرمیاں ان کی ملی خدمات کا روشن باب ہیں، جبکہ آج کل وہ عید میلاد النبیؐ کے حوالے سے ایک نئی تحریک میں سرگرم عمل ہیں۔ نورانی مسجد کی شہادت پر گفتگو کے دوران انہوں نے ایک ایسا جملہ کہا جو بظاہر چونکا دینے والا تھا، مگر اس کے پس منظر میں ایک تلخ حقیقت پوشیدہ تھی۔ انہوں نے کہا  "مسجدیں  شہید نہیں کی جا رہیں، ان کا سودا کیا جا رہا ہے۔" یہ الفاظ سن کر میں کچھ لمحوں کے لیے خاموش ہوگیا...

Kam

 منقول  آنکھیں کھولنے والی بات آج 8/6/2026 میں دوپہر میں قیلولہ کرنے کی نیت سے لیٹا ہی تھا کہ میری بیوی کے موبائل پر ایک واٹس ایپ میسیج "Hi" لکھ کر  آیا چونکہ میری بیوی  unknown نمبر سے فون بھی نہیں اٹھاتی اور نہ ہی کسی میسیج کا جواب دیتی ہے اس لیے اس نے مجھے بتایا کہ دیکھو کس کا میسیج ہے دیکھا تو کسی غیر مسلم کی ڈی پی تھی اندر جا کر دیکھا تو پتہ چلا کہ اسکا نام ہندوانہ تھا اور اسکے نمبر کے نیچے *"اسلام کی بیٹیاں"* لکھا ہوا تھا سوچا اس کے پاس نمبر کیسے پہنچا تو چیک کرنے پر معلوم ہوا کو جن گروپوں میں اہلیہ ہے ان میں سے تین گروپ میں وہ بھی ہے  *اسلام کی بیٹیاں ، بیوٹی کورس اور خواتین مسائل گروپ* پھر میں نے سوچا کہ اسلام کی بیٹیاں گروپ کے ایڈمن کو کہوں کہ آپ کے گروپ میں غیر مسلم بھی ہیں انہیں نکال دیں  تو گروپ لسٹ پر گیا دیکھا  ایڈمن کے سامنے "علی کل حال " لکھا ہے اسے کلک کیا تو اس کا پیج کھلا اس کے نیچے Gavrau kumar  لکھا ہوا تھا تب میرا ماتھا ٹھنکا اسے فون لگایا تو فون نہیں اٹھایا  پھر کچھ دیر بعد ادھر سے فون آیا میں نے جیسے ہی ہلو کہا فون کٹ ...

Udhmani

 تقی عثمانی کی حقیقت ایک عرب عالم کی زبانی الشیخ احمد الشریف الازھری مدظلہ العالی( Sch. Ahmed Alsharif  الشيخ أحمد الشريف ) جوکہ ”مصر“ کے ہیں۔دیوبندیوں کے خود ساختہ مفتی اعظم تقی عثمانی کے متعلق شیخ صاحب کیا فرماتے ہیں؟  ان کی گفتگو کا خلاصہ ہے کہ ”تقی عثمانی وہابی ہے،تکفیری ہے،علماء ازھر کو کاف،ر سمجھتا ہے،افغانی غنڈوں کے ساتھ ہمدردی رکھتا ہے،ان کے ساتھ مالی معاونت میں ملوث رہا ہے،عرب علماء کو مفتی پاکستان کہہ کر جھوٹ بولتا ہے، جشن میلاد النبی ﷺ کو حرام کہتا ہے،میلاد منانے والے (سنیوں) کو مشر،ک کہتا ہے،تقی عثمانی کا چہرہ بےنور ہے۔((خلاصہ۔۔۔از ناقل)) ★ بہرکیف ہم نے عربی متن نقل کردیا ہے اور ساتھ ہی اردو ترجمہ بھی لگادیا ہے۔آپ پڑھیے؛ • شیخ صاحب فرماتے ہیں:   تقي الدين العثماني هذا أقرب في عقائده للوهابية، وهو تكفيري يكفر علماء الأزهر، وله تاريخ طويل من التعاون مع جماعة الإخوان، بل كان يعرف نفسه في سيرته الذاتية على أنه عضو جماعة الإخوان، وهو داعم بالسلاح والمال والرجال للعنف والتطرف في أفغانستان لسنين طويلة، بل يعده كثير من الأفغان عدوهم الأول وسببا مباشرا في قتل أبنا...

Khan sr

 خان سر اور سیکولرزم کا سراب: مصلحت پسندی سے رسوائی تک کا سفر نتیجہ فکر ۔ محمد طارق رضا شمسی رضوی  موجودہ دور میں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا نے جہاں گمنام لوگوں کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا، وہاں نظریات اور شناخت کے کئی تضادات کو بھی بے نقاب کیا۔ انھی میں سے ایک نام خان سر کا بھی ہے، جنہوں نے اپنے منفرد اندازِ تدریس سے ملک بھر کے لاکھوں طلبہ میں مقبولیت حاصل کی۔ لیکن اس مقبولیت کو برقرار رکھنے اور خود کو ایک "سیکولر" اور "قوم پرست" سانچے میں فٹ کرنے کے لیے انہوں نے جو راستہ چنا، وہ بالآخر ایک سراب ثابت ہوا۔ خان سر نے خود کو اکثریتی طبقے کی نظروں میں قبولِ عام دلوانے کے لیے ہر وہ جتن کیا جو ایک مصلحت پسند مسلمان کر سکتا ہے۔ لیکن المیہ یہ ہوا کہ ایک چھوٹی سی چوک نے ان کی برسوں کی "سیکولر گری" کو ایک جھٹکے میں مٹی میں ملا دیا۔ سیکولرزم کا مطلب تمام مذاہب کا احترام اور ان کے مابین توازن ہونا چاہیے تھا، لیکن خان سر کے معاملے میں یہ بالکل یکطرفہ نظر آیا۔ ان کے سوشل میڈیا ہینڈلز اور عوامی زندگی پر نظر ڈالیں تو ایک عجیب تضاد صاف دکھائی دیتا ہے: تصاویر کا سیلاب: م...

Mujalma

 سب سے پہلے انتہائی معذرت - کئی مصروفیات کی بناء پر میں باقاعدگی سے پوسٹ نہیں کر پاتا۔ چلئیے موضوع کی طرف بڑھتے ہیں۔ میں نے ایک مُلحد اور مسلمان کا مکالمہ دیکھا۔ پہلے وہ پڑھئیے۔۔ (سارا نہیں ایک مخصوص حصہ):  مسلمان: کیا تم یہ مانتے ہو کہ "کچھ بھی نہیں" سے "کچھ" وجود میں آسکتا ہے؟  Can something come from nothing?  مُلحد: شاید، مجھے نہیں معلوم مسلمان: نہیں۔ یہ شاید کی بات ہی نہیں۔ اسکے صرف دو ہی جواب ہیں۔ یا تو ہاں یا نہ۔ بالکل سادہ ہے۔ چلو یہ بتاؤ کہ صفر جمع صفر جمع صفر کیا بناتا ہے۔ ؟  مُلحد: ظاہر ہے صفر ہی بنے گا۔ لیکن،،، "میرا خیال ہے کہ ان کے پاس اس بات کا ثبوت ہے کہ کچھ نہیں سے "کچھ" وجود میں آسکتا ہے۔  بس۔۔ اس جواب پر میں تجزیہ کرنا چاہتا ہوں۔  اس جواب میں "ان" سے مراد سائنسدان ہیں۔ اور کچھ نہیں تھا لیکن لھر بگ بینگ ہوا تو کائنات وجود میں آ گئی۔ یہ موجودہ سو کالڈ سائنسی نظری ہے۔  جس وجہ سے میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں وہ ان مُلحدوں کا ایمان ہے۔ جیسا اس مُلحد نے کہا۔۔۔"میرا خیال ہے"   انکو معلوم کچھ نہیں ہوتا۔۔ بس سنی سنائی پر ایما...