Mkl

 وہابیوں کے جانب سے ایک پوسٹ دیکھنے کو ملی جس میں مذکورہ باتیں تھیں👇🏻👇🏻


> "ان چار باتوں پر غور کریں تو شاید 80 فیصد شرک و بدعات ختم ہو جائیں"


1. اگر نبی ﷺ نور تھے تو خاندان ختم


2. اگر نبی ﷺ عالم الغیب تھے تو وحی کا مقصد ختم


3. اگر نبی ﷺ حاضر و ناظر تھے تو بشریت کا مقصد ختم


4. اگر نبی ﷺ مختارِ کل تھے تو شفاعت کا مقصد ختم


علمائے اہلِ سنت (بریلوی) کے موقف کے مطابق اس کا جواب مختصراً یہ ہے:


1. "اگر نبی ﷺ نور تھے تو خاندان ختم"


اہلِ سنت کا عقیدہ یہ نہیں کہ نبی ﷺ صرف نور تھے اور بشر نہیں تھے، بلکہ:


> "آپ ﷺ بشر بھی ہیں اور اللہ کے عطا سے نور بھی ہیں۔"


قرآن میں بشریت بھی ثابت ہے:


 *قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ (الکہف: 110)*


اور نور ہونا بھی:


*قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ (المائدہ: 15)*


لہٰذا نور ماننے سے خاندان ختم نہیں ہوتا، کیونکہ اہلِ سنت بشریت کا بھی عقیدہ رکھتے ہیں۔


---


2. "اگر نبی ﷺ عالم الغیب تھے تو وحی کا مقصد ختم"


اہلِ سنت نبی ﷺ کو  عالم الغیب نہیں مانتے۔ بلکہ ہم یہ مانتے ہیں کہ اللہ نے اپنے حبیب کو  ماکان ویکون کا علم دیا ہے اس کو علم غیب کہتے ہیں عالم الغیب نہیں ۔


عقیدہ یہ ہے کہ:


*اللہ تعالیٰ نے جتنا چاہا اپنے محبوب ﷺ کو غیب کا علم عطا فرمایا۔*


قرآن:

*عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِن رَّسُولٍ (الجن: 26-27)*

یعنی 

غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کہ


---


3. "اگر نبی ﷺ حاضر و ناظر تھے تو بشریت کا مقصد ختم"


 

ہمارا یہ دعویٰ ہرگز نہیں ہے کہ حُضُورِ اکرم، نبیِّ مکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ظاہری جسمِ اَقْدس ہر ہر جگہ موجود ہے،البتّہ حُضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بیک وقت ایک سے زائد مقامات پر جلوہ فرما ہوسکتے ہیں.


حاضِرو ناظِرکے مفہوم کو ایک مثال سے بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ جس طرح آسمان کا سورج اپنے جسم کے ساتھ آسمان پر ہے لیکن اپنی روشنی اور نورانیّت کے ساتھ روئے زمین پر موجود ہے اسی طرح (بلاتشبیہ) آفتابِِ نبوت، ماہتابِِ رسالت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  اپنے جسمِ اَقْدس کے ساتھ مدینہ شریف میں  اپنے مزارِ پُراَنوار میں موجود ہیں لیکن ساری کائنات کو  یوں دیکھتے ہیں جیسے ہاتھ کی ہتھیلی کو،نیز اُمّتیوں کےاعمال کو دیکھتے ہیں اور اللہ کے حکم سے تصرُّف بھی فرماتے ہیں۔


آیتِ قراٰنی اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:

*اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ*


یعنی :بے شک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا۔(پ26، الفتح:8)


حضرت علّامہ علاء الدّين علی بن محمد خازِن رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اے پیارے حبیب! بے شک ہم نے آپ کو اپنی اُمّت کے اَعْمال اور اَحْوال کا مُشاہَدہ فرمانے والا بناکر بھیجا تاکہ آپ قِیامت کے دن ان کی گواہی دیں اور دنیا میں  ایمان والوں اور اطاعت گزاروں کو جنّت کی خوشخبری دینے والا اور کافروں، نافرمانوں  کو جہنّم کے عذاب کا ڈر سنانے والا بناکربھیجا ہے۔(تفسیرخازن، پ26،الفتح، تحت الآیۃ:8،ج 4،ص146)


---


4. "اگر نبی ﷺ مختارِ کل تھے تو شفاعت کا مقصد ختم"


اہلِ سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ:


*اصل اختیار اللہ تعالیٰ کا ہے، نبی ﷺ کو جو اختیار ملا وہ اللہ کی عطا سے ملا۔*


اسی طرح شفاعت بھی اللہ کے اذن سے ہوگی:


*مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ (البقرہ: 255)*


لہٰذا مختارِ کل کا مطلب اگر "اللہ کے عطا کردہ اختیارات" لیا جائے تو شفاعت کے عقیدے سے کوئی تعارض نہیں۔


---


خلاصہ (اہلِ سنت کے نزدیک): ان چاروں اعتراضات کی بنیاد اس مفروضے پر ہے کہ اہلِ سنت ان صفات کو ذاتی اور مستقل مانتے ہیں، جبکہ اہلِ سنت کا موقف یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کو جو کچھ حاصل ہے وہ اللہ تعالیٰ کی عطا، اذن اور مشیت سے حاصل ہے، اس لیے یہ اعتراضات لازم نہیں آتے۔

شیخ اکبر محیی الدین ابن العربی رحمہ اللہ نے اپنی کتب میں "صدیق اکبر" کے لقب اور ابو بکر الصدیق کے حوالے سے کیا عقیدہ رکھتے ہیں؟


شیخ اکبر کے نزدیک سیدنا ابوبکر صدیق (رضی اللہ عنہ) کا مقام محض ایک تاریخی خلیفہ کا مقام نہیں، بلکہ وہ "مقامِ قربہ"، "مقامِ عبودیتِ محضہ" اور "کمالِ ولایت" کے سب سے بڑے مظہر ہیں۔ 


مواقع النجوم، عنقاء مغرب، الفتوحات المکیہ کی نصوص کی روشنی میں اس لقب کا عمیق، تحقیقی اور شہودی جائزہ مع اصل عربی عبارات درج ذیل ہے:


1. کتاب "مواقع النجوم": الصدیق الاکبر اور حضرۃ الوزن


شیخِ اکبر (قدس سرہ) نے اپنی مایہ ناز تصنیف "مواقع النجوم" میں روحانی منازل اور مراتب کا ذکر کرتے ہوئے سیدنا ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کو صراحتاً "الصديق الأكبر" کے لقب سے یاد کیا ہے اور انہیں "حضرۃ الوزن" (وزن اور توازن کی روحانی بارگاہ) میں کامل ترین قرار دیا ہے۔


عربی متن : آپ فرماتے ہیں: "أدخله الله - سبحانه - من الحضرات الإلهيّة ستمائة حضرة وستّا وعشرين حضرة، إلّا أبا بكر الصدّيق - رضي الله عنه - فإنّه أدخله الله في هذا المقام ستمائة حضرة وخمسًا وعشرين حضرة، وأمّا السادسة والعشرون فهي له حضرة الوزن خاصّة... غير أنّ هذه الحضرة الوزنيّة التي لنا متفاضلةٌ بيننا، وما فاز بها على الكمال إلّا الصدّيق الأكبر."


(اللہ سبحانہ نے اسے (یعنی عارف کو) حضراتِ الٰہیہ میں سے چھ سو چھبیس (626) حضرات میں داخل کیا، سوائے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے، کہ اللہ نے انہیں اس مقام میں چھ سو پچیس (625) حضرات میں داخل کیا، اور چھبیسویں ان کے لیے خاص "حضرۃ الوزن" ہے۔ اور یہ جو حضرۃ الوزنیہ ہمارے درمیان متفاضل (درجات والی) ہے، اس پر کمال کے ساتھ سوائے "الصديق الأكبر" کے کوئی فائز نہیں ہوا)


۔ یہاں الصدیق الاکبر سے مراد سیدنا ابوبکر ہیں، جن کا روحانی توازن (وزن) اس قدر کامل تھا کہ شریعت اور حقیقت کے امتزاج میں ان کا پلڑا امت کے تمام اولیاء پر بھاری رہا۔


2. کتاب "عنقاء مغرب": الصدیق الاکبر اور ختمِ ولایت کے زیرِ لواء

شیخِ اکبر اپنی دقیق ترین تصنیف "عنقاء مغرب" (جو کہ ختمِ ولایتِ عیسیٰ اور مہدی کے اسرار پر مبنی ہے) میں جب سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے نزول کا ذکر کرتے ہیں، تو وہاں بھی سیدنا ابوبکر کے لیے یہی لقب استعمال کرتے ہیں:


عربی متن : "وعيّنتُه لك باسمه ونسبه، وسِرّه الشريف ومنصبه: روح الله وكلمته عليه السلام وأنّ الصدّيق الأكبر تحت لوائه، وأنّه سيّد الأولياء كما أنّ سيّدنا سيّد الأنبياء."


(اور میں نے تیرے لیے اس (یعنی ختمِ ولایتِ عامہ) کو اس کے نام، نسب، اس کے سرِ شریف اور منصب کے ساتھ معین کر دیا ہے: اور وہ روح اللہ اور اس کا کلمہ (عیسیٰ) علیہ السلام ہیں۔ اور بیشک "الصديق الأكبر" بھی ان کے جھنڈے کے نیچے ہوں گے، اور وہ (عیسیٰ علیہ السلام) اولیاء کے سردار ہیں جیسے ہمارے آقا ﷺ انبیاء کے سردار ہیں)

۔

3. الفتوحات المکیہ: مقامِ عبودیتِ محضہ (العبودة المحضة)

شیخِ اکبر کے نزدیک الصدیق الاکبر کا سب سے بڑا امتیازی کمال یہ ہے کہ وہ سکر اور شطحیات سے یکسر پاک تھے۔ جب بڑے بڑے اولیاء غلبہِ حال میں دعویِٰ ربوبیت (انا الحق وغیرہ) کر بیٹھتے ہیں، تو صدیق اکبر کا قدم کمالِ ہوش (صحو) اور کمالِ بندگی پر قائم رہتا ہے۔ شیخ اپنے کشف کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:


"ولما شهدت لي جماعة أني على قدم أبي بكر الصديق من الصحابة علمت أنه ليس إلا مقام العبودة المحضة لله الحمد والشكر على ذلك."

 نیز آپ فرماتے ہیں: 

"فليس بين أبي بكر وصاحبه *** إذا نظرت إلى ما قلته رجل"


تشریح: (اور جب ایک جماعت نے میرے لیے گواہی دی کہ میں صحابہ میں سے ابوبکر صدیق کے قدم پر ہوں، تو میں جان گیا کہ یہ مقام خالص عبودیت (بندگی) کے سوا کچھ نہیں، اس پر اللہ کے لیے حمد اور شکر ہے)


شعر:

۔ اور مقامِ قربت میں ابوبکر اور ان کے صاحب (رسول اللہ ﷺ) کے درمیان کوئی تیسرا شخص حائل نہیں

۔

टिप्पणियाँ

इस ब्लॉग से लोकप्रिय पोस्ट

Links hindi

Aamanu

Victorya