Masjid
مساجد کے خلاف جاری بلڈوزر کارروائیوں کے حوالے سے لکھی گئی میری گزشتہ تحریر شائع ہونے کے بعد آج صبح تقریباً نو بجے ممبئی سے محترم اسماعیل باٹلی والا صاحب کا فون آیا۔ مصروفیت کے باعث میں اس وقت کال ریسیو نہ کرسکا، تاہم تقریباً دس بج کر بیس منٹ پر میں نے انہیں واپس فون کیا۔ چند منٹ کی اس گفتگو کے دوران انہوں نے ایک ایسا نکتہ بیان کیا جس نے دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور آنکھیں نم ہوگئیں۔
اسماعیل باٹلی والا صاحب کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ وہ ایک تجربہ کار، بافکر اور متحرک شخصیت ہیں جنہوں نے ملت کے عروج و ارتقاء کے لیے متعدد تحریکیں چلائیں۔ "این آر سی ہمارا حق"، وقف مسودہ تحریک اور اتحاد موومنٹ جیسی سرگرمیاں ان کی ملی خدمات کا روشن باب ہیں، جبکہ آج کل وہ عید میلاد النبیؐ کے حوالے سے ایک نئی تحریک میں سرگرم عمل ہیں۔
نورانی مسجد کی شہادت پر گفتگو کے دوران انہوں نے ایک ایسا جملہ کہا جو بظاہر چونکا دینے والا تھا، مگر اس کے پس منظر میں ایک تلخ حقیقت پوشیدہ تھی۔ انہوں نے کہا "مسجدیں شہید نہیں کی جا رہیں، ان کا سودا کیا جا رہا ہے۔" یہ الفاظ سن کر میں کچھ لمحوں کے لیے خاموش ہوگیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہماری پاسبانی اور قیادت کا دعویٰ کرنے والے ہی دراصل ہمارے آشیانوں پر بجلیاں گرا رہے ہیں۔ میڈیا میں حکومت اور آر ایس ایس کے خلاف پنجہ آزمائی کا تاثر دیا جاتا ہے، لیکن پس پردہ مفادات، مراعات اور اقتدار کی خواہش نے بہت سے افراد کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے جہاں اصول اور ملی غیرت ثانوی حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔ اندرون خانہ ان کے دلوں میں بھری منافقت کفر کے سائے میں داد عیش دیتی ہے۔ پیسہ اور پاور کی چاہ میں ہماری صف اول کی لیڈرشپ، خواہ وہ مذہبی ہو یا سیاسی سبھی نے قشقہ اور جنیو دھارن کر لیا ہے۔
بابری مسجد کے حوالے سے سودا بازی کی باتیں میرے لیے نئی نہیں تھیں۔ ایک عرصے سے میں بھی اس سلسلے میں شواہد تلاش کرتا رہا ہوں۔ یہاں تک کہ ایک سابق رکنِ پارلیمان کی جانب سے بعض اہم معلومات ملنے کی امید بھی پیدا ہوئی، لیکن اچانک رابطہ منقطع ہوگیا اور وہ باب ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا۔ یوں ایک ایسا راز، جو شاید بہت سے سوالوں کا جواب بن سکتا تھا، راز ہی رہ گیا۔
باٹلی والا صاحب کا کہنا تھا کہ بابری مسجد دراصل ایک ٹیسٹ کیس تھا، اصل کھیل اس کے بعد شروع ہوا۔ ان کے مطابق رام مندر کے حق میں فیصلہ آنے کے بعد ملک بھر میں مساجد، مدارس اور مزارات کے خلاف جو سلسلہ شروع ہوا، وہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم عمل ہے، اور اس کی سب سے بڑی دلیل ملی قیادت کی خاموشی اور بے عملی ہے۔
سوال یہ بھی ہے کہ اگر واقعی انتظامیہ مسجد کو گرانا چاہتی تھی تو مسجد کے ذمہ داران نے ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے کے بجائے وقف ٹریبونل کا رخ کیوں کیا؟ کیا وقف ٹریبونل انتظامیہ کی ایسی کارروائی پر مؤثر روک لگا سکتا تھا؟ اگر اس سوال کا جواب نفی میں ہے تو پھر باٹلی والا صاحب کے اس دعوے کو یکسر رد کرنا آسان نہیں رہتا کہ کہیں نہ کہیں معاملات صرف قانونی نہیں بلکہ سودے بازی سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔
ایک بہت ہی اہم اور حوصلہ بخش نظریہ جس کی میں ہمیشہ وکالت کرتا ہوں "ملک کی عدالتوں سے بابری مسجد، گیان واپی یا بھوج شالہ کمال مولیٰ مسجد جیسے فیصلے اس وقت تک نہیں آسکتے جب تک عدالتوں کے باہر ان فیصلوں کی زمین تیار نہ کر دی گئی ہو۔
بابری مسجد کے بدلے دھنی پور میں زمین دیے جانے کا معاملہ ہو یا بھوج شالہ کمال مولیٰ مسجد کے تنازعے میں متبادل زمین کی بات، یہ تمام واقعات کسی نہ کسی درجے میں اسی حقیقت کی تائید کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ بڑے عدالتی فیصلوں کے پیچھے اکثر ایک سماجی و سیاسی فضا پہلے سے تیار کی جاتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ چند شاذ و نادر مثالوں کو چھوڑ دیا جائے تو موجودہ حالات میں ایسے قوانین اور پالیسیوں کے خلاف فیصلہ آنا، جنہیں طاقتور حلقوں کی حمایت حاصل ہو، آسان نظر نہیں آتا۔
اب سب سے اہم سوال یہ ہے اگر چوکیدار ہی چور بن جائے تو پھر کیا کیا جائے؟ کیا ملتِ اسلامیہ ہند اپنے سیاسی اور مذہبی قائدین کی عیش پسندی، مفاد پرستی اور منافقت کی قیمت اپنے مساجد، مدارس اور مزارات کی مسماری کی صورت میں ادا کرتی رہے؟ یا پھر اس صورتحال کا کوئی مثبت، عملی اور دیرپا حل بھی موجود ہے؟
اسماعیل باٹلی والا صاحب کا جواب بڑا واضح ہے۔ وہ کہتے ہیں "ایسے چوکیداروں سے صرف ہوشیار رہنے کی نہیں، انہیں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔" ان کے مطابق ملت کو اب نئی، باصلاحیت، باکردار اور باشعور نوجوان قیادت کی طرف بڑھنا ہوگا۔
میں ان کی اس بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں۔ میری رائے میں ملک کے ہر شہر، قصبے اور گاؤں میں باشعور نوجوانوں کو آگے آنا چاہیے۔ انہیں تعلیمی، سماجی، سیاسی اور فکری میدانوں میں کردار ادا کرتے ہوئے ملت کو زبوں حالی سے نکالنے کی مشترکہ کوشش کرنی چاہیے۔ صرف جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ علم، تنظیم، حکمتِ عملی اور مؤثر نیریٹیو سازی کے ذریعے ایک نئی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔
اسی مقصد کے تحت ہماری جانب سے ایک ادنیٰ سی مہم جاری ہے، جس کا محور تعلیم، سیاسی شعور اور نیریٹیو سازی ہے۔ اس مشن میں شامل ہونے والے نوجوانوں کو ہماری طرف سے ہر ممکن تعاون حاصل ہوگا۔ مجھے پورا یقین ہے کہ اگر ملک بھر کے باشعور نوجوان اس سمت میں سنجیدگی سے قدم بڑھائیں تو نہ صرف حالات بدل سکتے ہیں بلکہ اسماعیل باٹلی والا صاحب اور ان جیسے مخلص افراد کی صلاحیتوں اور تجربات کو بھی اس اجتماعی جدوجہد کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔
شاید یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ملت مایوسی کے اندھیروں سے نکل کر امید، خود اعتمادی اور مستقبل کی تعمیر کی طرف بڑھ سکتی ہے۔
شفیق فیضی
#NooraniMasjid #hilights #nonfollowers #UrduArticle
Ismail Batliwala Hasan ZaheerAbdurrahim RahimAbdur Rahman
टिप्पणियाँ
एक टिप्पणी भेजें