Khan sr
خان سر اور سیکولرزم کا سراب: مصلحت پسندی سے رسوائی تک کا سفر
نتیجہ فکر ۔ محمد طارق رضا شمسی رضوی
موجودہ دور میں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا نے جہاں گمنام لوگوں کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا، وہاں نظریات اور شناخت کے کئی تضادات کو بھی بے نقاب کیا۔ انھی میں سے ایک نام خان سر کا بھی ہے، جنہوں نے اپنے منفرد اندازِ تدریس سے ملک بھر کے لاکھوں طلبہ میں مقبولیت حاصل کی۔ لیکن اس مقبولیت کو برقرار رکھنے اور خود کو ایک "سیکولر" اور "قوم پرست" سانچے میں فٹ کرنے کے لیے انہوں نے جو راستہ چنا، وہ بالآخر ایک سراب ثابت ہوا۔
خان سر نے خود کو اکثریتی طبقے کی نظروں میں قبولِ عام دلوانے کے لیے ہر وہ جتن کیا جو ایک مصلحت پسند مسلمان کر سکتا ہے۔ لیکن المیہ یہ ہوا کہ ایک چھوٹی سی چوک نے ان کی برسوں کی "سیکولر گری" کو ایک جھٹکے میں مٹی میں ملا دیا۔
سیکولرزم کا مطلب تمام مذاہب کا احترام اور ان کے مابین توازن ہونا چاہیے تھا، لیکن خان سر کے معاملے میں یہ بالکل یکطرفہ نظر آیا۔ ان کے سوشل میڈیا ہینڈلز اور عوامی زندگی پر نظر ڈالیں تو ایک عجیب تضاد صاف دکھائی دیتا ہے:
تصاویر کا سیلاب: ماتھے پر زعفرانی تلک لگائے، کلائی پر راکھی باندھے، ہولی کے رنگوں میں رنگے اور دیوالی کے دیپ جلاتے ہوئے خان سر کی تصاویر اور ویڈیوز تو تواتر کے ساتھ نشر کی جاتی ہیں، تاکہ اکثریتی طبقے کو خوش رکھا جا سکے اور ان کی "ملتانی رواداری" کا ڈنکا بجتا رہے۔
عید کا بائیکاٹ: لیکن دوسری طرف، عید جیسے مقدس اور سب سے بڑے مسلم تہوار پر ان کی طرف سے مجرمانہ خاموشی دیکھنے کو ملتی ہے۔ عید کی خوشی کا ایک لمحہ، ایک عام سی مبارکباد یا کوئی ایک تصویر بھی ان کے سوشل میڈیا پر نظر نہیں آتی۔
گویا عید کی مبارکباد دینے یا مسلم تہوار منانے سے ان کا وہ "سیکولر امیج" خراب ہونے کا ڈر رہتا ہے، جسے انہوں نے بڑی محنت سے پالا پوسا تھا۔
مسلمانوں کو ٹارگیٹ کرنا: مقبولیت کا سستا نسخہ
خود کو سب کا پسندیدہ بنانے کی دھن میں خان سر صرف اکثریتی تہواروں تک محدود نہیں رہے، بلکہ انہوں نے اپنی ویڈیوز میں کئی بار دانستہ یا نادانستہ طور پر مسلمانوں، ان کے طور طریقوں اور ان کی حب الوطنی پر ایسے تبصرے کیے جو مخالفین کے بیانیے کو مضبوط کرتے ہیں۔ اپنے ہی لوگوں کو نشانہ بنا کر انہوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ "دوسرے عام مسلمانوں" جیسے کٹر نہیں ہیں، بلکہ وہ ایک "سدھرے ہوئے اور لبرل" مسلمان ہیں۔
مخالفین نے ان کے اس رویے کو خوب سراہا، انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا اور انہیں "سچے ہندوستانی" کا سرٹیفکیٹ بھی جاری کیا۔ خان سر شاید یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ وہ اب اس نظام کا حصہ بن چکے ہیں جہاں ان کا نام نہیں، ان کا کام دیکھا جائے گا۔
ایک چوک اور سب کچھ ختم
مگر تاریخ گواہ ہے کہ مصلحت پسندی کی بنیاد پر کھڑی کی گئی عمارت بہت کچی ہوتی ہے۔ خان سر کی زبان سے نکلا ایک معمولی سا لفظ یا کوئی ایک چوک ان کے سارے کیے دھرے پر پانی پھیرنے کے لیے کافی ثابت ہوئی۔ جیسے ہی ان کی کسی بات سے اکثریتی طبقے کا مفاد یا نظریہ ٹکرایا، تو وہی لوگ جو انہیں سر آنکھوں پر بٹھاتے تھے، اچانک خان سر سے فیضل خان ہو گئے اور نفرتی چنٹو حملہ آور ہو گئے۔
ان کے ماضی کے تمام تلک، تمام راکھیاں اور تمام سمجھوتے ایک سیکنڈ میں بھلا دیے گئے۔ انہیں یاد دلا دیا گیا کہ وہ چاہے جتنا مرضی ماتھے پر تلک لگا لیں، مخالفین کی نظر میں وہ ہمیشہ صرف "ایک مسلمان" ہی رہیں گے جس پر کبھی مکمل بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔
خان سر کا یہ انجام ان تمام مسلم چہروں کے لیے ایک بہت بڑا سبق ہے جو اپنوں کی دل آزاری کر کے اور اپنی شناخت کو چھپا کر دوسروں سے عزت اور سیکولر ہونے کی سند مانگتے ہیں۔
عزت، ماتھے پر زبردستی تلک سجانے یا اپنے ہی بھائیوں پر تنقید کرنے سے نہیں ملتی۔ اگر آپ عید کی خوشی کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے کتراتے ہیں، تو آپ سیکولر نہیں بلکہ خوف اور احساسِ کمتری کا شکار ہیں۔ سچی رواداری یہ ہے کہ انسان اپنے دین اور اپنی شناخت پر فخر کرتے ہوئے دوسروں کے حقوق کا احترام کرے، نہ کہ دوسروں کو خوش کرنے کے لیے خود کو مٹا دے۔ خان سر نے سب کو خوش کرنا چاہا، اور انجام کار وہ کسی ایک کے بھی نہ رہ سکے۔
टिप्पणियाँ
एक टिप्पणी भेजें