संदेश

मई 17, 2026 की पोस्ट दिखाई जा रही हैं

Inf

 امت کو عالم چاہیے تھا، انفلوئنسر نہیں! ✍️ سلیم یعفور قادری رضوی کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ اگر ہمارے اکابر علماء آج زندہ ہوتے اور مدارس کے نئے فارغ التحصیل نوجوانوں کو دیکھتے تو کیا محسوس کرتے؟ ایک نوجوان جس نے آٹھ دس سال قرآن، حدیث، فقہ اور عربی زبان کی تحصیل میں گزار دیے، جس کے والدین نے قربانیاں دیں، اساتذہ نے محنت کی، امت نے اس سے امیدیں وابستہ کیں، فراغت کے چند ماہ بعد اس کی سب سے بڑی فکر کیا ہے؟ کوئی نئی کتاب؟ کسی فن میں تخصص؟ تحقیق کا کوئی منصوبہ؟ کسی علمی مسئلے پر سنجیدہ مطالعہ؟ نہیں۔ اکثر اوقات اس کی سب سے بڑی فکر یہ ہوتی ہے کہ یوٹیوب چینل کیسے بڑھے گا، ریلز پر ویوز کیوں کم آگئے، فیس بک پیج کی ریچ کیسے بڑھے گی اور کون سا موضوع زیادہ وائرل ہوگا۔ مجھے سوشل میڈیا سے شکایت نہیں۔ شکایت اس بات سے ہے کہ ہم نے ذریعے کو مقصد بنا لیا ہے۔ ذرا تصور کیجیے۔ ایک نوجوان عالم صبح بیدار ہوتا ہے۔ موبائل کھولتا ہے۔ نوٹیفکیشن دیکھتا ہے۔ کمنٹس پڑھتا ہے۔ اپنی ویڈیو کی ریچ چیک کرتا ہے۔ دوسروں کی ویڈیوز دیکھتا ہے۔ نئے ٹرینڈز تلاش کرتا ہے۔ اور رات تک یہی سلسلہ جاری رہتا ہے۔ دن بھر مصروف رہنے کے با...

Qurbmi

 اسلام میں تصور قربانی ۔۔۔ـــــــــــــــــــــــ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ــــــــ۔۔ـ۔۔۔۔۔۔۔ـــــــــــ قربانی یہ اصل میں حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیہما السلام کی یادگار ہے۔ جنہوں نے حکم خداوندی کے سامنے اپنے سرمایہ زندگی کو بطیب خاطر نثار کردیا۔ جبکہ شیطان لعین نے ان عظیم ہستیوں کو تقرب الٰہی کی اس نعمت عظمی سے روکنے کے لیے حتی المقدور سعی بلیغ کی، لیکن نور الٰہی سے جگمگاتے ہوئے قلوب و اذہان کے سامنے اس کی ساری کوششیں اور حربے بےکار ثابت ہوئے اور شیطان رجیم نامراد اور ذلیل و رسوا ہوکر اوندھا منہ پلٹا۔جس کا ثبوت قرآن کریم و حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں جا بجا ملتا ہے۔ اور اب تک اہل ایمان اس پر عمل پیرا ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالی کو ان حضرات کی جذبہ ایثار اتنی پسند آئی کہ روز آخر تک آنے والے تمام مسلمانوں کے لیے قربانی لازم و ضروری قرار دیا گیا ۔ اور اس قربانی کی مقبولیت کا اندازہ اس سے بھی بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ جب علی الاطلاق لفظ قربانی کا تلفظ کیا جاتا ہے، تو اس وقت دیگر ساری قربانیوں سے قطع نظر سب سے پہلے حاشیہ خیال میں حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیہما السلام کی قربانی و ایثار کا...

Kamaal

#کمال_مولا_مسجد_فیصلہ: قانونی پیچیدگیاں، اسباق اور مستقبل کے اندیشے  گزشتہ جمعے کو جسٹس وجے کمار شکلا اور جسٹس آلوک اوستھی پر مشتمل مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے صوبے کے دھار میں واقع ہند-اسلامی طرز تعمیر کی گواہ، پر شکوہ اور تاریخی کمال مولا مسجد تنازع میں ہندو فریق کے دعوے کو صحیح مانتے ہوے یک طرفہ فیصلہ سنا دیا۔ اور کہا کہ اس پورے احاطے کی مذہبی حیثیت بھوج شالہ یعنی واگ دیوی (سرسوتی) مندر کی ہے اور یہ کہ پرمار خاندان کے راجا بھوج نے گیارہویں صدی عیسوی میں سنسکرت تعلیم کی درس گاہ کے طور پر اسے قائم کیا تھا۔ اس لیے کورٹ نے مسلمانوں کی نماز پر وہاں پابندی عائد کر دی ہے۔ تاریخی حیثیت: یہ مسجد چودہویں صدی عیسوی کے صوفی بزرگ حضرت کمال الدین چشتی علیہ الرحمہ (وصال: ١٣٣١ء) کے نام سے منسوب ہے۔ اسی سے متصل ان کا مزار پاک بھی ہے۔ مسجد کی تعمیر اس صدی کے اوائل میں سلطان علاء الدین خلجی کے مالوہ فتح کے بعد ہوئی تھی۔ تب عیان الملک ملتانی وہاں کے گورنر ہوا کرتے تھے۔ پھر صدی کے اواخر میں اس کی مرمت کا کچھ کام ہوا جب دلاور خان مالوہ کے گورنر مقرر ہوے تھے (دیکھیے ویکی پیڈیا). حکومت کی نظر...

Bngal

 #بنگال_کی_روشنی: کیا ملک کے مسلمان رہ نمائی حاصل کریں گے؟ کانگریس لیڈر گوپال کرشن گوکھلے (١٨٦٦-١٩١٥ء) کی طرف عموماً منسوب کیا جاتا ہے کہ انہوں نے ایک موقع پر کہا تھا،  "What Bengal thinks today, India thinks tomorrow." (بنگال جو آج سوچتا ہے، بھارت کل سوچے گا). درست بات یہ ہے کہ گوکھلے نے ١٩٠٥ء میں کانگریس کی بنارس نشست کے دوران یہ بات کچھ اس طرح کہی تھی:  "What educated Indians think today, the rest of India thinks tomorrow." یعنی: تعلیم یافتہ ہندوستانی جو آج سوچتے ہیں، پورا بھارت کل سوچے گا۔ مگر چوں کہ جب گوپال کرشن نے یہ کہا تھا، اس وقت بنگال میں رابندر ناتھ ٹیگور، سوامی وویکا نند، ایشور چندر ودیا ساگر، سبھاش چندر بوس اور قاضی نذر الاسلام جیسے انتہائی پڑھے لکھے اور وسیع الفکر لوگ موجود تھے، شاید اسی لیے مذکورہ قول میں 'تعلیم یافتہ ہندوستانی' کو 'بنگال' سے بدل دیا گیا۔ یہ تبدیلی چل پڑی اور اب تک چل رہی، بلکہ دوڑ رہی ہے۔ اور اس کی ایک وجہ ہے: آج بھی مغربی بنگال کی شرح خواندگی بھارت کی اوسط شرح خواندگی سے کہیں زیادہ ہے۔ بلا امتیاز مذہب و ملت، لوگوں ک...

Pentr

 बहुत साल पहले मेरे यहां एक पेंटर काम करता था  । आमतौर पर उनकी दिहाड़ी सुबह 9:00 से शाम 5:00 बजे तक होती है जिसमें दोपहर एक से दो बजे तक इनका लंच होता है । तो यह पेंटर भाई 10:00 बजे काम पर आया करता था , उसके बाद जाकर सामान चेक करता था फिर मेरे पास आकर बोलता भैया पुट्टी नहीं है , कभी प्राइमर नहीं है , कभी पेंट नहीं है ,  कभी ब्रश नहीं है ,  अर्थात रोज किसी न किसी सामान की कमी निकाल देता था । फिर मैं गुस्सा करता हूं की शाम को क्यों नहीं चेक करता है तो हंसने लग जाता ।  फिर मैं कहता कि चल मंगवा लेता हूं तो कहता कि भैया मैं ही ले आऊंगा अपने हिसाब से । मुझे पता है कि यह लोग खुद इसलिए खरीदने जाते हैं क्योंकि इनका कुछ कमीशन बन जाता है फिर भी मैं इन्हें खरीदने देता था वरना यह लोग सामान में कमी निकालते हैं कि आप डुप्लीकेट माल ले कर आ गए, इसकी पकड़ अच्छी नहीं है,  इसकी कवरेज अच्छी नहीं है आदि आदि । इस प्रकार लगभग 11 बजे बजे मेरा काम शुरू होता था।    2 घंटे बाद 1 से 2 के बीच लंच टाइम शुरू हो जाता था   वो भाई खाना तो 15 मिनट में खा लेता था लेकिन...