Inf
امت کو عالم چاہیے تھا، انفلوئنسر نہیں! ✍️ سلیم یعفور قادری رضوی کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ اگر ہمارے اکابر علماء آج زندہ ہوتے اور مدارس کے نئے فارغ التحصیل نوجوانوں کو دیکھتے تو کیا محسوس کرتے؟ ایک نوجوان جس نے آٹھ دس سال قرآن، حدیث، فقہ اور عربی زبان کی تحصیل میں گزار دیے، جس کے والدین نے قربانیاں دیں، اساتذہ نے محنت کی، امت نے اس سے امیدیں وابستہ کیں، فراغت کے چند ماہ بعد اس کی سب سے بڑی فکر کیا ہے؟ کوئی نئی کتاب؟ کسی فن میں تخصص؟ تحقیق کا کوئی منصوبہ؟ کسی علمی مسئلے پر سنجیدہ مطالعہ؟ نہیں۔ اکثر اوقات اس کی سب سے بڑی فکر یہ ہوتی ہے کہ یوٹیوب چینل کیسے بڑھے گا، ریلز پر ویوز کیوں کم آگئے، فیس بک پیج کی ریچ کیسے بڑھے گی اور کون سا موضوع زیادہ وائرل ہوگا۔ مجھے سوشل میڈیا سے شکایت نہیں۔ شکایت اس بات سے ہے کہ ہم نے ذریعے کو مقصد بنا لیا ہے۔ ذرا تصور کیجیے۔ ایک نوجوان عالم صبح بیدار ہوتا ہے۔ موبائل کھولتا ہے۔ نوٹیفکیشن دیکھتا ہے۔ کمنٹس پڑھتا ہے۔ اپنی ویڈیو کی ریچ چیک کرتا ہے۔ دوسروں کی ویڈیوز دیکھتا ہے۔ نئے ٹرینڈز تلاش کرتا ہے۔ اور رات تک یہی سلسلہ جاری رہتا ہے۔ دن بھر مصروف رہنے کے با...