Bngal
#بنگال_کی_روشنی:
کیا ملک کے مسلمان رہ نمائی حاصل کریں گے؟
کانگریس لیڈر گوپال کرشن گوکھلے (١٨٦٦-١٩١٥ء) کی طرف عموماً منسوب کیا جاتا ہے کہ انہوں نے ایک موقع پر کہا تھا،
"What Bengal thinks today, India thinks tomorrow."
(بنگال جو آج سوچتا ہے، بھارت کل سوچے گا). درست بات یہ ہے کہ گوکھلے نے ١٩٠٥ء میں کانگریس کی بنارس نشست کے دوران یہ بات کچھ اس طرح کہی تھی:
"What educated Indians think today, the rest of India thinks tomorrow."
یعنی: تعلیم یافتہ ہندوستانی جو آج سوچتے ہیں، پورا بھارت کل سوچے گا۔ مگر چوں کہ جب گوپال کرشن نے یہ کہا تھا، اس وقت بنگال میں رابندر ناتھ ٹیگور، سوامی وویکا نند، ایشور چندر ودیا ساگر، سبھاش چندر بوس اور قاضی نذر الاسلام جیسے انتہائی پڑھے لکھے اور وسیع الفکر لوگ موجود تھے، شاید اسی لیے مذکورہ قول میں 'تعلیم یافتہ ہندوستانی' کو 'بنگال' سے بدل دیا گیا۔
یہ تبدیلی چل پڑی اور اب تک چل رہی، بلکہ دوڑ رہی ہے۔ اور اس کی ایک وجہ ہے: آج بھی مغربی بنگال کی شرح خواندگی بھارت کی اوسط شرح خواندگی سے کہیں زیادہ ہے۔ بلا امتیاز مذہب و ملت، لوگوں کی اکثریت سیکولر مزاج کی حامل ہے۔ اس کا مظہر آپ مسلمانوں کے اس رویے میں دیکھ سکتے ہیں کہ ان کی اچھی خاصی تعداد بنگالی ہندوؤں کے سب سے بڑے مذہبی تہوار درگا پوجا میں دھڑلے سے شریک ہوتی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ (معاذ اللہ) سبھی پوجا کرتے ہیں۔ لیکن وہاں جانے کا کیا تک بنتا ہے (اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دے)! اور اس کا دوسرا مظہر وہاں کے کچھ مسلمانوں کے نام میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ خاندانی/ آخری نام (جیسے "منڈل"، "بسواس" وغیرہ) تو چھوڑیے۔ اصل نام بھی بنگلہ میں ہوتا ہے جس سے بسا اوقات خیال گزرتا ہے کہ یہ کوئی ہندو نام تو نہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں میری کلاس میں ایک طالب علم کا نام "رٹون" تھا اور ایک کا "اریگنا"۔ نام کے سبب، شروع شروع میں مجھے لگتا تھا، یہ دونوں مسلم نہیں ہیں۔
لیکن، حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد بنی بی۔ جے۔ پی۔ حکومت کے ایک فرقہ وارانہ اقدام کا بنگالی مسلمان جس دانش مندی سے سامنا کر رہے، قابلِ ستائش، بلکہ لائق تقلید ہے۔ در اصل، سووندھو ادھیکاری گورنمنٹ نے مغربی بنگال میں قربانی سے عین قبل، جانوروں کے ذبح کو لے کر کچھ ہدایات جاری کی ہیں۔ یہ ہدایات، ١٩٥٠ء میں بنے ریاست کے ایک قانون اور ٢٠١٨ء میں پاس کیے گئے کلکتہ ہائی کورٹ کے ایک آرڈر پر مبنی ہیں۔ ان ہدایات میں کہا گیا ہے: جانور ذبح کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی عمر کم از کم ١٤/ سال ہو۔ ساتھ ہی، یہ بھی ضروری ہے کہ پنچایت سمیتی کے سبھا پتی/ میونسپلٹی کے چیئرمین اور سرکاری ماہرِ علاجِ حیوانات کی جانب سے مشترکہ تصدیق نامہ جاری ہو چکا ہو جو بتاے کہ جانور ذبح کے لیے موزوں ہے۔
یہ شرائط دکھنے میں بھلے ہی معمولی لگتے ہوں۔ مگر، مسلمان سمجھ سکتے ہیں کہ حکومتی اداروں کے چکر لگا کر یہ سرٹیفکیٹ حاصل کرنا جوے شیر لانے سے کم نہیں۔ اسی طرح، گو یہ ہدایات خاص عید الاضحٰی کے لیے نہیں۔ لیکن، سیانے جانتے ہیں کہ مسلمانوں کو نفسیاتی مرض اور جسمانی تھکن میں مبتلا کرنے کی نیت سے، قربانی سے عین پہلے یہ قدم اٹھایا گیا تھا۔
ایسے میں مغربی بنگال کے ائمہ و علما کی اپیل پر، مسلمانوں کا اجتماعی فیصلہ کہ اس بار گاے (بشمول بیل) کی قربانی نہیں کی جاے گی، دور اندیشی پر مبنی ہے۔ اس حکمت عملی کے لیے ان کی تعریف تو بنتی ہے۔ بنگالی مسلمانوں نے من بنا لیا ہے کہ اس پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔ خود راقم کی نظر سے تقریباً درجن بھر ویڈیو کلپس/ میڈیا رپورٹس گزر چکی ہیں جن میں ائمہ/ علما اپیل کر رہے ہیں۔ اور مسلمان بھی یہ کہہ کر گاے خریداری کا بائیکاٹ کر رہے ہیں کہ یہ تو آپ ہندوؤں کی ماں ہے، ہم اسے کیسے ذبح کر سکتے ہیں۔
لطف کی بات یہ ہے کہ مسلم-دشمن گورنمنٹ کے ایک نفرت آمیز نوٹیفیکیشن کے جواب میں مسلمانوں نے جو دور اندیشانہ قدم اٹھایا، اب اس سے خود بنگال کے گاے پالنے والے غریب ہندو پریشان ہیں۔ حسب معمول، انہیں امید تھی کہ عید الاضحٰی پر مسلمانوں کے ہاتھوں اپنے جانوروں کو فروخت کر موٹی رقم کمائیں گے۔ مگر، یہ خواب، ان کے مفادات کی خود ساختہ ٹھیکے دار حکومت کے ایک آرڈر کی نذر ہو گیا۔ متعدد ویڈیو کلپس/ میڈیا رپورٹس آ چکی ہیں جن میں ہندو تاجر اپنے خسارے کا رونا رو رہے ہیں۔ بنگال حکومت کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ مسلمانوں سے اپنی گاے خریدنے کی گہار لگا رہے ہیں اور ان کی مذہبی روا داری اور سماجی ہم آہنگی کے قصیدے پڑھ رہے ہیں۔
یہ پورا منظر نامہ مسلمانانِ بھارت کے لیے ایک مثال ہے۔ ایسا پہلی بار دیکھا جا رہا کہ مسلمانوں کی نفرت میں اٹھاے گئے ایک قدم کی مخالفت خود ہندو کر رہے ہیں۔ اور کریں بھی کیوں نہیں، کہ اس سے ان کا مالی نقصان جو ہو رہا۔ کوئی بعید نہیں کہ گورنمنٹ دیر سویر اپنا آرڈر واپس لینے پر مجبور ہو (ویسے بھی ایک رپورٹ کے مطابق، ترنمول کانگریس ممبر پارلیمنٹ مہوا موئترا نے اس آرڈر کے خلاف کلکتہ ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے). یہ واقعہ ایک روشنی کی طرح ہے۔ کیا ملک کے بقیہ مسلمان اس سے رہ نمائی حاصل کریں گے؟
راقم ہرگز یہ نہیں کہہ رہا کہ گورنمنٹ جس چیز کی مخالفت کرے، مسلمان فوراً سر تسلیم خم کر دیں اور اس سے دست بردار ہو جائیں۔ میں شریعت مطہرہ میں (کسی بھی قسم کی اور کسی بھی سطح پر) حکومتی مداخلت کے سخت خلاف ہوں۔ ہاں! ایک چیز جو فرض یا واجب تو چھوڑیے، سنت یا مستحب بھی نہیں، بلکہ صرف مباح ہے (مثلا: قربانی میں گاے ذبح کرنا)، اور اس کی آڑ میں مسلمانوں کو مسلسل ہراساں بھی کیا جاتا ہے، تو مصلحت کے پیش نظر اس کو ترک کر دوسرے آپشن (بکری وغیرہ کی قربانی) کی طرف جانے میں ہی عافیت ہے۔ تب تو اور بھی جب اس کے سبب حکومت اور اس طبقے کے درمیان تنا تنی کا ماحول بن رہا ہو جسے خوش رکھنے کے لیے وہ سو جتن کرتی ہے۔
✍️: #محمدحیدررضا
٢٠/ مئی ٢٠٢٦
टिप्पणियाँ
एक टिप्पणी भेजें