Qurbmi

 اسلام میں تصور قربانی

۔۔۔ـــــــــــــــــــــــ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ــــــــ۔۔ـ۔۔۔۔۔۔۔ـــــــــــ


قربانی یہ اصل میں حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیہما السلام کی یادگار ہے۔ جنہوں نے حکم خداوندی کے سامنے اپنے سرمایہ زندگی کو بطیب خاطر نثار کردیا۔ جبکہ شیطان لعین نے ان عظیم ہستیوں کو تقرب الٰہی کی اس نعمت عظمی سے روکنے کے لیے حتی المقدور سعی بلیغ کی، لیکن نور الٰہی سے جگمگاتے ہوئے قلوب و اذہان کے سامنے اس کی ساری کوششیں اور حربے بےکار ثابت ہوئے اور شیطان رجیم نامراد اور ذلیل و رسوا ہوکر اوندھا منہ پلٹا۔جس کا ثبوت قرآن کریم و حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں جا بجا ملتا ہے۔ اور اب تک اہل ایمان اس پر عمل پیرا ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالی کو ان حضرات کی جذبہ ایثار اتنی پسند آئی کہ روز آخر تک آنے والے تمام مسلمانوں کے لیے قربانی لازم و ضروری قرار دیا گیا ۔ اور اس قربانی کی مقبولیت کا اندازہ اس سے بھی بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ جب علی الاطلاق لفظ قربانی کا تلفظ کیا جاتا ہے، تو اس وقت دیگر ساری قربانیوں سے قطع نظر سب سے پہلے حاشیہ خیال میں حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیہما السلام کی قربانی و ایثار کا واقعہ گردش کرنے لگتا ہے۔


جب قربانی کے ایام آتے ہیں تو یہ قربانی مسلمانوں کے دلوں میں جذبہ ایثار، خلوص و للہیت، تقوی و خدا ترسی اور فرامین خدا کے حضور سرخم تسلیم کرنے کی کشش پیدا کر دیتی ہے، ساتھ ہی اپنے اسلاف و بزرگان دین کے مراسم و نقوش کی تعظیم اور انہیں بروئے کار لانے کا جذبہ بیکراں پیدا کردیتی ہے اور بھائی چارگی، ہمدردی اور پڑوسیوں و ہمسایوں کو اپنی خوشیوں میں شامل کرنے کا شوق عطا کرتی ہے۔ جس سے سارا معاشرہ امن و سلامتی کا گہوارہ بن جاتا ہے۔


قربانی کا نصب العین حصول تقوی و پرہیزگاری ہے، جس کا تعلق قلب سے ہے، اگر دل میں دکھاوا، ریاکاری یا جھوٹی نمود و نمائش کی تھوڑی سی بھی آمیزش ہوگئی (جسے دوسرے الفاظ میں شرک اصغر کہا جاتا ہے) تو انسان کے دامن میں سواے نامرادی اور محرومی کے کچھ نہ بچے گا۔ جس کا اشارہ سورہ حج آیت نمبر ۳۷ میں یوں ملتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے۔ " لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰـكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْؕ-كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْؕ-وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ" 

 کنزالعرفان: اللہ کے ہاں ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اورنہ ان کے خون، البتہ تمہاری طرف سے پرہیزگاری اس کی بارگاہ تک پہنچتی ہے۔ اسی طرح اس نے یہ جانور تمہارے قابو میں دیدئیے تا کہ تم اس بات پر اللہ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تمہیں ہدایت دی اور نیکی کرنے والوں کو خوشخبری دیدو۔

 اس لیے تمام مسلمانوں کو دکھاوا، سستی شہرت اور نام و نمود سے خود کو مصفی و مجلی کر کے فقط حصول ثواب ورضائےالہی کے لیے قربانی کرنا چاہیے۔


جب ہم کتب فقہ کا بنظر عمیق مطالعہ کرتے ہیں، تو ہمیں یہ درس ملتا ہے، کہ قربانی ہمیں بھائی چارگی کا تصور اور اخوت و یگانت کا پیغام دیتی ہے۔ جیسا کہ بہار شریعت حصہ پانزدہم میں مرقوم ہے:

   بہتر یہ ہے کہ قربانی کا گوشت تین حصوں میں منقسم کیا جائے۔ ایک حصہ فقراء و مساکین کے لیے، دوسرا حصہ دوستوں و احباب کے لیے، اور تیسرا حصہ اپنے بال بچوں کے لیے،(صفحہ ۳۴۷، مطبوعہ دعوت اسلامی) یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ صاحب استطاعت تنہا خود گوشت کا مزہ نہ لیں بلکہ اپنی خوشیوں اور مسرت بھرے لمحوں میں اپنے خویش و اقارب، دوست و احباب اور ہمسایوں کو بھی شامل کریں۔ اس سے زندگی شیر و شکر بن جائے گی اور ہمدردی و غمگساری کرنے کا انعام بھی موصول  ہوگا ۔


قربانی کا تصور و پندار اسلام میں حکم خداوندی کی بجاوری اور سنت ابراہیمی و اسماعیلی علیہما السلام ہے۔ جس فعل کو عمل میں لانے سے اللہ تعالی کی بیش بہا نعمتوں سے بندہ مالامال ہوتاہے۔ اور زندگی کی بقا کے لیے بھی قربانی ایک کارگر عمل  ہے، لیکن کچھ شر پسند لوگ اس مبارک عمل کو ظلم و بربریت سے موسوم کرتے ہیں۔ جبکہ ان بے عقل کے باطل مذہب میں ” بھینٹ“ کا عمل ملتا ہے، جس کے بیان کرنے سے رنج و الم کا پہاڑ سر پر ٹوٹ پڑتا ہے۔ کہ یہ درندے صفت انسان کتنی سفاکیت کے ساتھ جانوروں کو کاٹتے اور موت کے گھاٹ اتارتے ہیں۔ لیکن اسلام ایک ایسا پاکیزہ مذہب ہے۔ جس نے ایک مہذب و پاک طریقہ بتایا جس سے جانوروں کو کسی قسم کی تکلیف وکلفت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہے۔ اور وہ اس لیے کہ جب جانور کے گردن کے تین یا چار رگ کاٹ دیے جاتے ہیں، تو جانور کے بقیہ جسم کا تعلق اس کے ذہن سے منقطع ہو جاتا ہے، جس سے پھر تکلیف و اضطراب کا احساس نہیں ہوتا۔ اور رہا یہ کہ جانور اتنا تڑپتا کیوں ہے؟ تو اس کا واضح جواب یہ ہے کہ جب نسیں کٹ جاتی ہیں، تو ان رگوں سے خون کے برق رفتاری کے ساتھ نکلنے اور ان نسوں کے تناؤ کے باعث ایسا ہوتا ہے، جیسا کہ کرباس کی دم کٹ جانے سے اس میں کافی دیر تک ایک کپکپی رہتی ہے ۔ تو اگر کوئی تحقیقی نگاہ رکھتا ہو تو وہ اچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔


 کچھ انتہا پسند لوگ موہومی کلام کرتے ہوئے یہ بھی کہتے ہیں، کہ مسلمان قربانی صرف گوشت خوری کے لیے کرتے ہیں ۔ جبکہ یہ ان کی اسلام دشمنی اور مسلمانوں پر الزام تراشی کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہے۔ اس لیے کہ اگر مسلمان  قربانی صرف گوشت خوری کے لیے کرتے تو مسلمان مرے ہوئے جانوروں کو بھی کھاتے، لیکن اسے دور پھینک آتے ہیں یا انہیں زیر زمین دفن کردیتے ہیں، کیوں کہ اسلام میں مرا ہوا جانور  کھانا ناجائز و حرام ہے۔ جو اس بات کو درشاتا ہے کہ قربانی یہ صرف تقوی و پرہیزگاری کے حصول اور حکم خداوندی کے بجاآوری کے لیے ہے۔ جو اسلامی تعلیمات سے طشت از بام ہیں۔


از: آصف رضا، کشن گنج (بہار) 

 متعلم: الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ

رکن: تنظیم ابناے زعیم العلما کوچنگ 

سینٹر(جامعہ اشرفیہ مبارک پور)

جاری کردہ : ۲۰ مئی، ٢٠٢٦

#اسلام_میں_تصور_قربانی

Asif Raza 

#آصف_رضا 

#مضون 

#قربانی 

#اسلاميات

टिप्पणियाँ