Kamaal

#کمال_مولا_مسجد_فیصلہ:

قانونی پیچیدگیاں، اسباق اور مستقبل کے اندیشے 


گزشتہ جمعے کو جسٹس وجے کمار شکلا اور جسٹس آلوک اوستھی پر مشتمل مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے صوبے کے دھار میں واقع ہند-اسلامی طرز تعمیر کی گواہ، پر شکوہ اور تاریخی کمال مولا مسجد تنازع میں ہندو فریق کے دعوے کو صحیح مانتے ہوے یک طرفہ فیصلہ سنا دیا۔ اور کہا کہ اس پورے احاطے کی مذہبی حیثیت بھوج شالہ یعنی واگ دیوی (سرسوتی) مندر کی ہے اور یہ کہ پرمار خاندان کے راجا بھوج نے گیارہویں صدی عیسوی میں سنسکرت تعلیم کی درس گاہ کے طور پر اسے قائم کیا تھا۔ اس لیے کورٹ نے مسلمانوں کی نماز پر وہاں پابندی عائد کر دی ہے۔


تاریخی حیثیت:


یہ مسجد چودہویں صدی عیسوی کے صوفی بزرگ حضرت کمال الدین چشتی علیہ الرحمہ (وصال: ١٣٣١ء) کے نام سے منسوب ہے۔ اسی سے متصل ان کا مزار پاک بھی ہے۔ مسجد کی تعمیر اس صدی کے اوائل میں سلطان علاء الدین خلجی کے مالوہ فتح کے بعد ہوئی تھی۔ تب عیان الملک ملتانی وہاں کے گورنر ہوا کرتے تھے۔ پھر صدی کے اواخر میں اس کی مرمت کا کچھ کام ہوا جب دلاور خان مالوہ کے گورنر مقرر ہوے تھے (دیکھیے ویکی پیڈیا).


حکومت کی نظر میں:


کمال مولا مسجد آثار قدیمہ میں قومی اہمیت کی حامل ہے۔ اسی لیے پورا احاطہ آرکائیو لوجیکل سروے آف انڈیا (اے۔ ایس۔ آئی۔) کے زیر انتظام ہے۔ اور اس کے متعلق ہندوؤں و مسلمانوں کا مالکانہ دعویٰ دہائیوں پرانا ہے۔ دونوں گروہوں کے بیچ کسی قسم کی بد مزگی نہ ہو، اس لیے ٢٠٠٣ء میں اے ایس آئی نے ایک انتظامی آرڈر پاس کیا تھا کہ دونوں برادریوں کے لیے ہفتے میں ایک ایک دن دو دو گھنٹے کے لیے احاطہ کھلا رہے گا۔ چناں چہ تب سے اب تک ہر جمعے کو مسلمان جمعے کی نماز ادا کرتے اور ہر منگل کو ہندو پوجا کرتے۔ لیکن ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد، اب مسلمان وہاں نماز ادا نہیں کر سکیں گے۔


کورٹ کی کارروائی کا آغاز:


اس معاملے میں کورٹ کی کارروائی تبھی شروع ہو گئی تھی جب مختلف ہندو تنظیموں نے ٢٠٢٤ء میں مسجد احاطے کے "سائنٹفک سروے" کی مانگ کر ڈالی تھی۔ بس کیا تھا، مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اے ایس آئی کو سروے کا حکم صادر کر دیا اور اے ایس آئی انہی نتائج کے ساتھ رپورٹ لے کر حاضر ہو گیا ہندو فریق جن کی توقع کیے بیٹھا تھا۔ اسی سروے رپورٹ کی بنیاد پر، کورٹ نے مذکورہ فیصلہ سنایا ہے۔


فیصلے میں موجود قانونی پیچیدگیاں:


(١) مذکورہ فیصلہ اے ایس آئی کی سروے رپورٹ پر مبنی ہے۔ اور یہ رپورٹ خود اسی اے ایس آئی کے ٢٠٠٣ء والے اس آرڈر سے متصادم ہے جس میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے لیے ہفتے میں ایک ایک دن عبادت اور پوجا کی اجازت دی گئی تھی۔

 

(٢) یہ فیصلہ ١٩٩١ء کے تحفظ عبادت گاہ قانون کی سراسر خلاف ورزی ہے جس کی رو سے تمام عبادت گاہوں کو تحفظ حاصل ہے اور یہ یقین دلایا گیا ہے کہ ١٩٤٧ء میں ان کی جو مذہبی حیثیت تھی، اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کیا جاے گا۔ چوں کہ آزادی کے وقت کمال مولیٰ احاطے کی حیثیت مسجد کی تھی، اس لیے اب اسے بدلنا ملک کے قانون کو نظر انداز کرنا، بلکہ اسے آنکھ دکھانے کے مترادف ہے۔


(٣) یہ فیصلہ جس سروے پر مبنی ہے، وہ ١٩٥٨ء کے آثار قدیمہ اور تاریخی عمارتوں سے متعلق قانون

(Ancient Monuments and Archaeological Sites and Remains Act)

 کی بھی خلاف ورزی ہے۔ اس قانون کے دفعہ ١٦/ میں کہا گیا، یہ حکومت ہند کا فریضہ ہے کہ تاریخی عبادت گاہ کے اصل کردار کو برقرار رکھے اور یقینی بناے کہ اس کے خلاف کسی دوسرے مقصد کے لیے اس کا استعمال نہ ہو۔ نیز اس کے تقدس کا خیال رکھنا اور بہر صورت بے حرمتی سے اس کی حفاظت کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ظاہر ہے، سروے میں مسجد کا تقدس پامال ہوتا ہے۔ اور سروے کے بعد جو رپورٹ آتی ہے، اس سے عبادت گاہ/مزار کا اصل کردار زد میں آتا ہے، بلکہ اسے بدل کر ایک نئی شناخت دینے کی کوشش ہوتی ہے۔ عیاری تو دیکھیے! اس قانون کا جو دفعہ مسلم فریق کے حق میں تھا، کورٹ نے اسے بھی ہندو فریق کے لیے استعمال کر ڈالا۔


(٤) دھار ریاست نے ١٩٣٥ء میں با ضابطہ ایک اعلان شائع کیا تھا جس میں کمال مولا احاطہ کو مسجد کی حیثیت سے دیکھا گیا۔ اور دہائیوں بلکہ تقریباً ایک صدی تک اس پر عمل رہا۔ تو اب اچانک ایک سروے رپورٹ کی آڑ میں اس کی شناخت کیوں کر بدلی جا سکتی ہے!


(٥) جس طرح ہندوتوا بریگیڈ مسلم سلاطین پر مندروں کو توڑنے اور ان جگہوں پر مساجد تعمیر کرنے کا الزام لگاتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح جین مت (اور بدھ مت) کے پیروکار ہندو راجاؤں پر ان کی عبادت گاہوں کو توڑنے اور ان پر ہندو مندر تعمیر کرنے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ اور دل چسپ بات یہ ہے کہ خود کمال مولیٰ مسجد معاملے میں جین مت والوں نے بھی درخواست لگائی تھی۔ سوال یہ ہے: اگر مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں کے دعوے کو فوراً مان کر "سائنٹفک سروے" کا آرڈر دے دیا جاتا ہے تو پھر ہندؤوں کے خلاف جین اور بدھ دھرم والوں کے دعوے کو صحیح تسلیم کر یہی حکم کیوں نہیں دیا جاتا؟


حال کے لیے اسباق:


(الف) افسوس اس بات کا ہے کہ مسلم سلاطین نے مذہبی روا داری اور سماجی ہم آہنگی کے جذبے سے سرشار ہو کر مساجد وغیرہ میں سنسکرت کے شلوک وغیرہ کندہ کرا دیے تھے۔ اب یہی رواداری اور ہم آہنگی ہمارے گلے کی ہڈی بن رہی ہے۔ بجاے اس کے کہ یہ ناشکری قوم ہمارے اسلاف کی احسان مند ہوتی، الٹا جذبہ ہم دردی سے کیے گئے ان کے عمل کو ان ہی کے خلاف استعمال کر رہی اور رات دن ہمیں آنکھ دکھاتی ہے! 


(ب) اس میں ان نام نہاد "مسلم لیڈروں" کے لیے سبق ہے جو رام مندر کے لیے مسلمانوں کو یہ کہہ کر قائل کرنے کی کوشش کرتے، "ایک مندر ہی کی تو بات ہے، بن جانے دیجیے۔ اسی بہانے، کم سے کم ہندو-مسلم منافرت میں تو کمی آ جاے گی۔" متعدد معاملات میں نام نہاد "گنگا-جمنی تہذیب" کے بہت سے علم بردار آج بھی اس طرح کی بات کرتے آپ کو مل جائیں گے۔ یہ بے چارے یا تو اس قوم کی ذہنیت سے ناواقف ہیں یا پھر عوام مسلمین کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اپنی روٹی سینکنا چاہتے ہیں۔ مسلم سلاطین کے درباروں میں غلامی پر فخر کرنے والی قوم جب ان کی نہیں ہو سکی اور رات دن انہیں برا بھلا کہتے نہیں تھکتی، کیوں کر ہماری اور آپ کی ہو سکتی ہے؟ میں یہ بات سارے ہندوؤں کے لیے نہیں کہہ رہا۔ لیکن ان میں جو بھی ہندوتوا آئیڈیالوجی سے علانیہ یا بباطن متأثر ہے، تقریباً سب کا یہی حال ہے۔


مستقبل کے اندیشے:


ہندوتوا انتہائی ظالمانہ اور خون آشام نظریہ ہے۔ یہ لوگ تو اپنے ہم مذہب "کم تر ذات" کو سال دو سال نہیں، سو دو سو سال نہیں، بلکہ ہزاروں سال تک ظلم کی چکیوں میں پیستے رہے۔ اس لیے یہ ہرگز مت سمجھیے کہ کمال مولا مسجد کو ہتھیا لینے سے ان کی جنونی پیاس بجھ جاے گی۔ آپ زیادہ سے زیادہ کیا کر لیں گے؟ سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا ئیں گے اور وہاں ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کر دیں گے۔ کیا آج کے کسی جج میں اتنی جرأت ہے کہ وہ اس فیصلے کو کالعدم قرار دے سکے؟ سب کو پتہ ہے کہ اس ججمنٹ سے ہندوتوا بریگیڈ کے جذبات جڑے ہیں۔ اور یہاں تو آے دن اکثریتی طبقے کے جذبات کو سامنے رکھ کر فیصلے لکھے جاتے ہیں۔ 


بابری مسجد سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ تو یاد ہی ہوگا۔ کورٹ نے یہ مانا کہ مسجد کی شہادت ایک مجرمانہ عمل تھی۔ یہ بھی تسلیم کیا کہ وہاں رام مندر کے وجود کا کوئی ٹھوس ثبوت ہے اور نہ ہی اس بات کی پختہ دلیل کہ کسی (خیالی) رام مندر کو توڑ کر بابری مسجد کی تعمیر ہوئی تھی۔ پھر بھی فیصلہ مندر کے حق میں سنایا تھا!!!


کمال مولا مسجد فیصلے میں تو پہلے ہی بابری مسجد فیصلے کی جھلک نظر آ رہی ہے۔ جبھی تو جس طرح "بابری مسجد" کی تعمیر کے لیے ایودھیا میں زمین فراہم کرنے کی پیش کش سپریم کورٹ نے رکھی تھی۔ ٹھیک اسی طرح "کمال مولیٰ مسجد" کی تعمیر کے لیے دھار میں زمین فراہم کرنے کا لالی پاپ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے دیا ہے۔


میرا ماننا ہے کہ حکومت کا یہ آفر مسلمانوں کو ہرگز قبول نہیں کرنا چاہیے اور کورٹ سے کہنا چاہیے کہ بھیک دے کر ہم پر احسان نہ کیا جاے۔ ہم اپنی مساجد کی حفاظت نہیں کر پا رہے، یہی ذلت دنیا و آخرت میں ہمارے لیے کیا کم ہے کہ خدا کے گھروں کی سودے بازی کا بوجھ بھی اپنے سر لیے پھریں!


وارانسی کی گیان واپی مسجد، متھرا کی شاہی عید گاہ اور سنبھل کی شاہی جامع مسجد ایک عرصے سے ان ہندوتوا جنونیوں کے نشانے پر ہیں۔ (خاکم بدہن) خدشہ ہے کہ "سائنٹفک سروے" کی آڑ میں دیر سویر ان کے بارے میں بھی کچھ اسی طرح کی کہانی گڑھ کر اے ایس آئی سناے گا اور پھر کوئی کورٹ اسی نوعیت کا فیصلہ صادر کر دے گا۔ مگر یہ جنون یہیں نہیں رکے گا۔ اس کی چپیٹ میں شاید ہر وہ مسجد/مزار/عید گاہ آ جاے جو بھی تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔ اور یہ کوئی وہم نہیں ہے۔ ہندو تنظیمیں اس طرح کی باتیں کہتی پائی گئی ہیں۔


پس چہ باید کرد؟


بعض لوگوں‌کا کہنا ہے: جب کچھ فائدہ نہیں ہے تو پھر اس طرح کے معاملات میں کورٹ کا رخ ہی کیوں کیا جاے؟ فی الحال میری ناقص راے یہ ہے کہ کورٹ کا رخ کرنا چاہیے اور جہاں بھی کسی عبادت گاہ/مزار/عید گاہ کے کردار کو چیلنج کیا جاے، مسلمانوں کو فریق بننا چاہیے۔ تاہم ایسا کسی انصاف کی امید میں نہ کیا جاے۔ بلکہ اس لیے کیا جاے تاکہ ہم اپنی دینی ذمہ داریوں سے حتی المقدور سبک دوش ہو سکیں اور آنے والی نسل کے سامنے شرمندہ نہ ہوں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس ظالمانہ نظام کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے لا سکیں۔ ورنہ، یہ سسٹم یہی باور کراتا پھرے گا: ہم‌ نے تو انصاف کے لیے دعوت دی تھی۔ ان کے دعوے میں مضبوطی ہی نہیں تھی۔ جبھی تو فریق بننا تک منظور نہیں کیا۔ اس طرح کورٹ کا رخ کرنا خود اس نظام کے خلاف اتمام حجت کےطور پر ہو۔


اچھی بات ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اس معاملے میں سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری طرف جمعیت علماے ہند بھی سرگرم عمل ہے۔ مگر ہمارے سنی علما اور خانقاہوں کے ذمہ داران کو اس قسم کے معاملات سے فرق کیوں نہیں پڑتا؟ میرا مطلب ہے: یہ حضرات میدان میں کیوں نہیں دکھتے! 


ایمان رجائیت سے عبارت ہے:


اسلام میں نا امیدی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو امید کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے۔ ہو سکتا ہے، مستقبلِ بعید میں کوئی غیرت مند ماں کا لال اٹھے اور ان مقدس مقامات کو ان کی اصلی حیثیت واپس دلا دے۔ و ما ذلك على الله بعزيز. اس حوالے سے استنبول کی آیا صوفیہ مسجد ہمارے لیے روشن ترین مثال ہے۔


✍️: #محمدحیدررضا

١٨/ مئی ٢٠٢٦ء


#KamalMaulaMasjid #KamalMaulaMosque #ASI

टिप्पणियाँ

इस ब्लॉग से लोकप्रिय पोस्ट

Links hindi

Aamanu

Victorya