Bedalil
خدا کسی دلیل سے سمجھا نہیں جا سکتا
اور کائنات کی ہر شی خدا کے وجود کی دلیل بھی ہے !
پہلے ایک آسان مثال ملاحظہ فرمائیں
کسی گھڑی کو دیکھ کر یہ کہنا کہ اس کا ایک بنانے والا ہے ایک استدلالی اور استقرائی علم ہے یعنی اس دلیل کی بنیاد ایک استقراء پر ہے وہ یہ ہے کہ ہر چیز کا ایک بنانے والا ہے تو گھڑی کا بھی ایک بنانے والا ہے
اور اس کو دلیل بناکر گھڑی کا موجد مانا گیا
یہ استدلال ہے
مگر وہ بنانے والا کیسا ہے؟
انسان نے بنایا یا جن نے ؟
روبوٹ نے بنایا یا کسی نے اپنے ہاتھ سے؟
وہ ہاتھ مصنوعی تھے یا حقیقی ؟
یا محض برقی توانائی کی مدد سے گھڑی بنائی گئی ؟
جس طرح کوئی چیز جلی ہے تو اس کو جلانے والا ہونا چاہیے !
مگر وہ جلانے والا کیسا ہے؟
کون ہے؟
اور اس نے کس طرح جلایا یہ اس دلیل سے نہیں جانا جا سکتا ہے ۔
یہی وہی بتا سکتا ہے جس نے جلایا ہے کہ اس نے کس طرح جلایا ہے ۔
وجود باری تعالیٰ کی جتنی بھی دلیلیں سب کا حاصل بس یہی ہے کہ کائنات موجود ہے تو اس کا ایک موجد ہے
جب یہ حادث ہے تو اس کا محدث ہے ۔
اور اگر وہ بھی حادث ہو تو اس کائنات کا موجود ہونا ناممکن ہے ۔
مگر وہ واجب الوجود کیسا ہے ؟
اس کی ذات و صفات کی حقیقت کیا ہے ؟
اس کا علم کسی دلیل سے نہیں ہو سکتا ۔
اس کا علم بس اس صانع عالم کے اقوال سے ہو سکتا ہے ۔
اور ان اقوال تک رسائی انبیاء کرام علیہم السلام کے توسط سے ہے ۔
اور ان کی صداقت کے لیے معجزات ہیں۔
اور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایسا معجزہ دیا گیا جو صبح قیامت تک باقی رہنے والا ہے ۔
اور قرآن وحدیث کی روشنی میں ہمیں جس خدا کا پتہ چلتا ہے وہ ہے ۔
ولم یکن لہ کفوا احد
کوئی اس کا ہم پلہ نہیں
نہ ذات میں نہ صفات
نہ اس کی جیسی کسی کی ذات نہ اس کی صفات جیسی کسی کی صفات ۔
وہ ہے
لیس کمثلہ شی
کائنات کی کوئی بھی چیز اس کی مثل اور مثال بننے سے قاصر ہے ۔
لہذا اسے کسی مثال سے سمجھنا ممکن نہیں ۔
اس لیے جن صفات اور ان سے متصف ذات کی حقیقت عقل سے سمجھی جا سکتی ہے وہ ذات نہ خدا کی ذات ہے اور نہ اس کی صفات خدا کی صفات ۔
یعنی جن صفات اور ان سے متصف ذات کی حقیقت کو عقل سے سمجھا جا سکتا ہے
وہ ہمارا خدا نہیں ۔
عقل سے خدا کا علم اس حد تک ہوتا ہوتا ہے کہ وہ موجود ہے صفات کمالیہ سے متصف ہے ۔
اسی لیے اہل تحقیق کہتے ہیں
کہ صفات باری عین ذات ہیں ۔
بلا شبہ وجود باری تعالیٰ کی کثیر دلیلیں ہیں ۔
اور دلیلوں سے خدا کے وجود کا علم بھی ہوتا ہے
مگر ان دلیلوں سے خدا کی ذات و صفات کی حقیقت کا ادراک ممکن نہیں ۔
یہی معنی ہے اس جملے کا ، کہ کہا جاتا ہے :
"جس نے خدا کو عقل سے سمجھنا چاہا وہ گمراہ ہوگیا "
یعنی جس نے خدا کی تفصیل (ذات و صفات کی حقیقت) عقل سے جاننا چاہا ؛
وہ گمراہ ہو گیا
ورنہ عقل ہی تو مدار تکلیف ہے ۔
قرآن کریم میں بھی خدا کی جن صفات کا ذکر ہے ان صفات کا وہ معنی نہیں جو ہماری عقل میں آئے ۔
بلکہ ہمارا ان صفات پر ایمان ہے کہ اللہ ان صفات سے متصف ہے مگر اس معنی میں نہیں جہاں تک ہماری عقل کی رسائی ہے ۔
اس سلسلے میں قول فیصل یہی ہے
کہ خدا کے افعال سے اس کی صفات کی معرفت ہوتی ہے
اور صفات سے معرفتِ ذات ۔
مگر ذات سے مراد اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ ذات جو ان صفات سے متصف ہے ۔
اس کے سوا جس نے اس میدان میں قدم بڑھایا
وہ گمراہی سے بچ نہیں پایا
بس یہی مخلوق کی حد ہے خالق کی معرفت کے سلسلے میں ۔
راقم الحروف
محمد یوسف ضیائی
टिप्पणियाँ
एक टिप्पणी भेजें