IbnulArqbi

 شیخِ اکبر محی الدین ابنِ عربی قدس اللہ سرّہ کی ایک کرامت

(ایک مُلحد فلسفی کے ساتھ مکاشفہ)


شیخ اکبر محی الدین ابنِ عربی علیہ الرحمہ بیان کرتے ہیں:


سنہ 586 ہجری میں ایک فلسفی ہمارے پاس آیا جو نبوت کا انکار کرتا تھا، اسی انداز پر جس طرح کچھ لوگ انبیاء کی شان میں تنقیص کرتے ہیں۔ وہ ان معجزات کا بھی انکار کرتا تھا جو انبیاء علیہم السلام کے ہاتھ پر ظاہر ہوتے ہیں، اور کہتا تھا کہ حقائق کبھی تبدیل نہیں ہوتے۔


اس زمانے میں سخت سردی تھی اور ہمارے سامنے انگاروں سے بھرا بڑا منقل جل رہا تھا۔ اس منکر نے بات کرتے ہوئے کہا:


"عام لوگ یہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو آگ نے انہیں نہیں جلایا۔ لیکن آگ تو اپنی فطرت کے مطابق جلانے والی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن میں جس آگ کا ذکر ہے وہ نمرود کے غصے اور قہر کی آگ تھی، اصل آگ نہیں تھی۔"


جب وہ اپنی بات ختم کرچکا تو حاضرین میں سے ایک (یعنی خود شیخ محی الدین) نے اس سے فرمایا:


"اگر میں تجھے اس ظاہری آگ میں اللہ کے اس بیان کی سچائی دکھا دوں کہ اس نے ابراہیم علیہ السلام پر آگ کو ٹھنڈا اور سلامتی بنا دیا تھا—اور میں اسی مقام میں ابراہیم علیہ السلام کی جگہ تیرے سامنے دلیل قائم کر دوں—تو کیا تو مان لے گا؟"


منکر نے کہا: "یہ ناممکن ہے!"


شیخ نے فرمایا:

"کیا یہ آگ جلانے والی ہے؟"

اس نے کہا: "ہاں!"


شیخ نے فرمایا: "اچھا، پھر اسے اپنے اوپر آزما لے۔"


یہ کہہ کر شیخ نے منقل کی جلتی ہوئی آگ اٹھا کر اس منکر کے دامن میں ڈال دی۔ آگ اس کی قمیض پر کافی دیر تک پڑی رہی، وہ اسے ہاتھوں سے الٹ پلٹ کرتا رہا، مگر آگ نے نہ اس کی کپڑے کو جلایا نہ جسم کو۔


وہ حیران رہ گیا!


پھر شیخ نے اس سے فرمایا:

"اب اپنا ہاتھ آگ کے قریب لا۔"


جب اس نے ہاتھ آگ کے قریب کیا تو اسی لمحے اس کا ہاتھ جل گیا!


تب شیخ نے فرمایا:


"بس یہی حقیقت تھی۔ آگ اللہ کے حکم سے جلاتی ہے، اور اسی کے حکم سے جلا نہ بھی سکتی ہے۔ اصل فاعل اللہ تعالیٰ ہے، جو چاہتا ہے کرتا ہے۔"


یہ منظر دیکھ کر اس فلسفی نے فوراً اسلام قبول کر لیا اور حقیقت کا اعتراف کیا۔


حوالہ:

الفتوحات المکیة، ج2، صفحہ 371، باب 185


مدد یا اہلِ مدد!

اور اللہ درود و سلام نازل فرمائے سیدنا محمد ﷺ اور آپ کے آلِ پاک پر۔ 💚


چاہیں تو اشاروں سے اپنے کایا ہی پلٹ دیں دنیا کی

یہ شان ہے انﷺ  کے ُغلاموں کی تو سرکارﷺ کا عالم ہو گا

جاہل مفتیوں کا طوفان!

مفتی اختر حسین علیمی جمدا شاہی ادام اللہ برکاتہ نے سید شباہت حسین صاحب کے جس شعر سے متعلق ناجائز  ہونے کا فتویٰ صادر فرمایا وہی حق و صواب ہے 

اور دو سال وظیفہ خوری کے بعد مفتی بننے والے سند یافتہ نا اہلوں نے جو طوفان بپا کر رکھا ہے 

بڑا المیہ ہے

اور وظیفہ دے کر مفتی بنانے کے کاروبار کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے 

بالخصوص مفتی بلال صاحب نے جو حکم جاری فرمایا وہ تو بڑا المیہ ہے 

کہ اگر مفتی صاحب کو حقیقت حال سے آگاہی نہیں تھی کہ مفتی اختر حسین صاحب نے  کیا حکم جاری فرمایا ہے 

تو اگر چہ یہ امکان محض ہے مگر اس صورت میں وہ معذور ہیں

اور اگر ان کو علم تھا 

تو ایسا مفتی مرکزی دار الافتاء کی زینت کیسے بنا ہوا ہے یہ بڑا المیہ ہے 

تفصیل جلد ہی


टिप्पणियाँ

इस ब्लॉग से लोकप्रिय पोस्ट

Links hindi

Aamanu

Victorya