Pukar
محمد علی فیضی کی حمایت میں ابو حنظلہ مفتی بلال انور پرنیوی صاحب کے فتوے کو ترجیح دینے والوں کے سامنے میں مفتی مذکور کا ایک خاص فتوی پیش کرنا چاہتا ہوں
تاکہ یہ معلوم ہو کہ حمایت کس وجہ سے ہو رہی ہے
اور مفتی مذکور کے موقف کو موقف تاج الشریعہ کہنے والوں سے میرا سوال ہے کہ جاندار کی ویڈیو کے سلسلے میں مفتی مذکور کا فتویٰ کیوں معتبر نہیں ؟
اور بالخصوص اس فتوے کو کتنے کو کتنے لوگ قبول کرنے کے لیے تیار ہیں جسے میں پیش کرنا چاہتا ہوں
ابھی میں اسے عام نہیں کرنا چاہتا جسے جاننا ہو میں اسے پرسنل میں بھیج سکتا ہوں
مفتی بلال انور رضوی پرنیوی صاحب متنازع فیہ شعر سے متعلق جواب دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
"جواب : اس کلام کا پڑھنا بلا شبہ جائز ہے۔
وہ لفظ جو محل استشہاد ہے، اس میں ایسی شرعی قباحت نہیں کہ ناجائز و حرام کا قول کیا جائے۔
یہاں شاعر نے 'زہرا کے بابا' برائے توسل استعمال کیا ہے۔
اسے یوں سمجھیں کہ کوئی کسی معظم کی بارگاہ میں فریاد لے کر جاتا ہے تو کسی ایسی ذات کا وسیلہ تلاش کرتا ہے جو اس معظم کا قریبی اور محبوب ہو اور اسی کے نام سے اپنی ضرورت طلب کرتا ہے۔
لہذا یا ابا فاطمہ، یا ابا الحسنین اور یا جد الحسنین وغیرہ کے ذریعے بارگاہ رسالت میں فریاد چاہنے میں ایسی قباحت نہیں کہ اتنا سخت حکم لگایا جائے۔"
مفتی مذکور کی بات ختم ہوئی۔
میں محمد یوسف ضیائی
پہلے کچھ باتیں درج بالا اقتباس کے حوالے سے عرض کرتا ہوں، پھر اپنا موقف دلائل سے ثابت کرنے کی کوشش کروں گا۔
والتوفیق باللہ رب العالمین۔
مفتی اختر صاحب نے جس جملے کی وجہ سے اس شعر کو پڑھنا ناجائز قرار دیا، وہ کوئی لفظ نہیں بلکہ یہ جملہ ندائیہ ہے: "اے زہراء کے بابا"۔
یا جملہ ندائیہ ہے، یہ متفق علیہ ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس میں شرعاً کوئی قباحت ہے یا نہیں؟
مفتی بلال صاحب فرماتے ہیں: "اس کلام کا پڑھنا بلا شبہ جائز ہے"۔
اور اسی جملہ ندائیہ کے سبب مفتی اختر حسین علیمی صاحب کے نزدیک یہ شعر پڑھنا ناجائز ہے۔
مفتی بلال انور صاحب کے اس حکم کو خصوصی طور پر یاد رکھیں کہ مفتی بلال انور صاحب کے نزدیک اس کے جائز ہونے میں کوئی شبہ بھی نہیں ہے۔
تو جو چیز بے شبہ جائز ہو، اس کو ناجائز کہنا بھی بڑا جرم ہے۔
امید ہے کہ مفتی بلال انور صاحب ناجائز کہنے والوں سے متعلق جلد ہی حکم شرع بیان فرمائیں گے۔
اب مفتی بلال انور صاحب کی دلیل سنیں۔ فرماتے ہیں: "یہاں شاعر نے 'زہرا کے بابا' برائے توسل استعمال کیا ہے"۔
اس سے اگر یہ سمجھا جائے کہ ایسے ندائیہ جملے سرے سے جائز ہیں، تب تو مفتی مذکور کا یہ کہنا بالکل صحیح ہے کہ (یہ کلام پڑھنا بلا شبہ جائز ہے)۔
اور اگر ہم یہ سمجھیں کہ اصل میں ایسے ندائیہ جملے—جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی کنیت کے ساتھ پکارا گیا ہو—اصل میں ناجائز ہیں، مگر توسل کی وجہ سے جائز ہیں، تو اب دلیل دعویٰ کے مطابق نہیں ہوگی۔
کہ دعویٰ بلا شبہ جائز ہونے کا تھا اور دلیل ایک خاص وجہ کی دی جا رہی ہے۔
اور جب وجہ جواز خاص ہے تو جواز بے شبہ نہیں رہا، بلکہ جواز اور عدم جواز میں شبہ ہو گیا۔
اور وہ یہ کہ اگر اصل کا اعتبار کیا جائے یعنی یہ دیکھا جائے کہ اس شعر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی کنیت کے ساتھ پکارا گیا ہے تو ناجائز ہے، اور اگر یہ دیکھا جائے کہ یہاں کنیت کا ذکر توسل کے طور پر ہے تو جائز ہے۔
تو یہاں جواز اور عدم جواز میں شبہ واضح طور پر موجود ہے، لہذا بے شبہ جائز کہنا صحیح نہیں۔
ہاں اگر یہ سمجھا جائے کہ اس جملے کا توسل کے طور پر جائز ہونا اتنا واضح ہے کہ اس کے جواز میں کوئی شبہ نہیں رہا، تو اب مفتی بلال صاحب کا جملہ درست ہے اور تقریب بھی تام ہے۔
مگر اب اس کا حوالہ مطلوب ہے!
یہاں دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کنیت کے ساتھ پکارنا جائز ہے۔
اور دوسری صورت یہ کہ آپ کو اس طرح پکارنا تو ناجائز ہے مگر بطور توسل جائز ہے۔
پہلی شق علمائے عظام کی تصریحات کے خلاف ہے۔
اور مجھے یقین ہے کہ مفتیان کبار کی تصریحات کے خلاف مفتی بلال انور صاحب اسے مطلقاً جائز نہیں کہیں گے، یعنی ان کا موقف یہ نہیں ہوگا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی کنیت کے ساتھ پکارنا بے شبہ جائز ہے۔
لہذا وہ دوسری شق کو ترجیح دیں گے، وہ یہ کہ ایسے ندائیہ جملے اصل میں تو ناجائز ہیں مگر توسل کے طور پر جائز ہیں، اور یہی ان کی دلیل سے ظاہر ہوتا ہے اور اسی بات کو مفتی بلال انور صاحب مثال کے ساتھ اس طرح سمجھاتے ہیں:
"اسے یوں سمجھیں کہ کوئی کسی معظم کی بارگاہ میں فریاد لے کر جاتا ہے تو کسی ایسی ذات کا وسیلہ تلاش کرتا ہے جو اس معظم کا قریبی اور محبوب ہو اور اسی کے نام سے اپنی ضرورت طلب کرتا ہے"۔
اسی بات کا مفتی بلال انور صاحب ثابت کریں۔
مگر میرا دینی مشورہ یہی ہے کہ وہ اس کو ثابت کرنے کی ادنیٰ کوشش بھی نہ کریں، کہ یہ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے منافی ہے۔
اور مفتی بلال صاحب نے اس کے جواز کی جو وجہ بیان فرمائی وہ ضرور قابل توجہ ہے اور مقبول بھی ہوتی، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بولے جانے والے جملوں سے متعلق—یعنی آپ کو کس طرح پکارنا جائز ہے اور کس طرح ناجائز، اس سلسلے میں—یہ قانون ہوتا کہ اگر کسی جملے میں چند احتمال ہوں، کوئی ادب کا اور کوئی بے ادبی کا، ایسا جملہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بولنا جائز ہے۔
اور وہ اس لیے کہ علمائے اہل سنت کے نزدیک مسلمات سے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نام اور کنیت کے ساتھ پکارنا ناجائز ہے۔
اور متنازع فیہ شعر میں آپ کو کنیت کے ساتھ پکارا جا رہا ہے، لہذا اس شعر کا حکم بھی واضح ہے کہ یہ ناجائز ہے۔
مگر مفتی صاحب اسے توسل کی وجہ سے جائز مان رہے ہیں۔
تو یہاں ایک صورت عدم جواز کی تھی جو علمائے کبار کی تصریحات کے عین مطابق ہے، اور مفتی صاحب اس کے جائز ہونے کی ایک وجہ ارشاد فرما رہے ہیں تو یہ دوسری صورت ہوئی۔
جملہ ایک ہے، صورتیں دو ہیں: ایک عدم جواز کی اور ایک جواز کی۔
اب یہ فیصلہ کرنا باقی ہے کہ اس وقت کون سی صورت راجح ہوگی، جواز والی یا عدم جواز والی؟
اس کا جواب اہل علم پر مخفی نہیں۔
مگر مزید سنیے۔
مفتی صاحب فرماتے ہیں: "لہذا یا ابا فاطمہ، یا ابا الحسنین اور یا جد الحسنین وغیرہ کے ذریعے بارگاہ رسالت میں فریاد چاہنے میں ایسی قباحت نہیں کہ اتنا سخت حکم لگایا جائے۔"
اب تخصیص اس شعر کی نہ رہی جو متنازع فیہ ہے، بلکہ مفتی بلال انور صاحب کے نزدیک آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی بھی کنیت کے ساتھ پکارنا جائز ہے، کما لا یخفی۔
میں کہتا ہوں: مفتی بلال انور صاحب کو فی الفور توبہ کرنی چاہیے۔
اور ذرا انداز تحریر پر غور فرمائیں، مفتی صاحب لکھتے ہیں: "ایسی قباحت نہیں کہ اتنا سخت حکم لگایا جائے"۔
مفتی صاحب کی بارگاہ میں عرض ہے، پھر ان جیسے جملوں میں کیسی قباحت ہے؟
ناچاہتے ہوئے بھی مفتی صاحب نے یہ تو مان لیا کہ ان میں قباحت ہے۔
مگر وہ قباحت کتنی ہے، بس یہ جاننا باقی رہا۔
مفتی صاحب کے نزدیک وہ قباحت ایسی نہیں کہ اتنا سخت حکم لگے، یا کم از کم ان اشعار کا پڑھنا ممنوع ہو جن میں نام یا کنیت کے ساتھ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارا گیا ہو۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
یہ بات ثابت شدہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فریاد چاہنے کے لیے پکارا جائے یا کسی اور غرض سے، اگر پکارنے کا طریقہ درست ہے تو وہ پکار درست ہے، اور اگر پکارنے کا طریقہ غلط ہے تو ناجائز ہے خواہ کسی غرض سے پکارا جائے۔
اب بس یہ جاننا باقی ہے کہ جو جملے مفتی بلال انور صاحب کے نزدیک ایسی قباحت نہیں رکھتے کہ ان سے منع کیا جائے، کیا واقعی ان میں ایسی قباحت ہے کہ حکم ممانعت ہو؟
اقول وباللہ التوفیق
مفتی صاحب سے یہ مسئلہ تحریر کرتے وقت بالخصوص یہ لکھتے وقت "ایسی قباحت نہیں کہ اتنا سخت حکم لگایا جائے"، بہت بڑی چوک ہوئی ہے۔
اور وہ یہ کہ جب قباحت ہے جیسا کہ وہ خود اس کے معترف ہیں تو اس قباحت کو گھٹانا اور اس عظیم بارگاہ میں اس جملے کو جائز قرار دینا سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و تکریم کے شایان شان ہے، یا قباحت والے جملے سے منع قرار دینا عند اللہ محبوب و مطلوب ہے؟
مفتی صاحب نے اسے "بلا شبہ" جائز لکھا ہے، تو جس جملے میں ادنی درجے کی بھی قباحت ہو اس کا اس عظیم بارگاہ میں بولنا بے شبہ کیسے جائز ہو گیا؟
کیا مفتی صاحب کو آفتاب کی طرح چمکتا دمکتا یہ جزئیہ یاد نہ رہا:
"مجرد ایھام معنی المحال کاف للمنع "
یہاں تو فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ برے معنی کا وہم بھی ممانعت کے لیے کافی ہے۔
اور متنازع فیہ شعر میں صراحتاً آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کنیت سے پکارا گیا ہے۔
اور کنیت کے ساتھ پکارنا بے ادبی ہے، یہ بھی صراحتاً مذکور ہے۔
اب کس چیز کی دلیل پیش کی جائے؟
کیا اس بات کی دلیل دی جائے کہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی کنیت سے اس شعر میں پکارا گیا ہے؟
یا یہ ثابت کیا جائے کہ آپ کو کنیت کے ساتھ پکارنا ممنوع و ناجائز ہے؟
یا پھر یہ ثابت کیا جائے کہ کنیت سے پکارنا جائز نہیں خواہ استغاثہ کے طور پر یا کسی اور وجہ سے؟
ہاں یہ آخری وجہ تھوڑی سی اور وضاحت کی طالب ہے، لہذا ملاحظہ فرمائیں:
کوئی شاگرد اپنے استاد کو نام یا کنیت کے ساتھ پکارے، یہ موجودہ زمانے کے عرف کے لحاظ سے بھی بڑی بے ادبی ہے، پھر کوئی غیرت مند مسلمان اس طرح شافع محشر صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارے، خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارے۔
یہ کیسے جائز ہو سکتا ہے ؟
معاذ اللہ رب العالمین۔
لہذا جب اس سے مفر ممکن ہی نہیں کہ نام اور کنیت سے پکارنا بے ادبی ہے تو اس کو مزید مبرہن کرنا بے ضرورت بحث کو طول دینا ہے۔
اب دوسری منزل پر آتے ہیں، وہ یہ کہ ایسی ندا تو حرام ہے مگر توسل کی وجہ سے جائز ہے۔
اب میں اس کے رد میں کیا لکھوں، مجھے سب فضول لگتا ہے کہ جب حرمت کی ایک وجہ موجود ہے پھر اس کے جواز کا بہانہ تلاش کیا جائے، یہ کسی امتی کا کام نہیں۔
ہاں اللہ نے تمثیل و تفہیم کا جو ملکہ عنایت فرمایا تو اس کے شکریے کے طور میں ضروری سمجھتا ہوں کہ اسے مثال دے کے مزید واضح کر دیا جائے۔
زید اپنی بیٹی عافیہ سے حد درجہ پیار کرتا ہے۔
تو جب زید سے مدد مانگنی ہو تو زید کو اس کے نام سے نہ پکار کر اس کی کنیت سے اس طرح پکارا جائے (اے عافیہ کے بابا) تاکہ رحم و کرم کی امید بڑھ جائے۔
یہ ایک اچھا طریقہ ہے۔
مگر جب یہ معلوم ہو کہ زید جس کمپنی کا ملازم ہے اس کے مالک نے یہ قانون بنا رکھا ہے کہ اس کے کسی ملازم کو کنیت کے ساتھ کوئی نہیں پکار سکتا ہے۔
اور زید بھی اپنے مالک کے اس قانون کو نافذ العمل مانتا ہے۔
تو اگر کوئی اپنے کسی کام میں مدد کے لیے زید کو اس کی کنیت کے ساتھ پکارے تو اس پکار کو مالک کے قانون کی خلاف ورزی مانا جائے گا یا نہیں؟
ضرور خلاف ورزی ہے، عام حالات میں کوئی پکارے یا بے کسی اور مجبوری کی حالت میں۔
ہاں جب کوئی اس قدر بے چین و بے قرار ہو کہ بے خودی کا عالم ہو، وہ اگر اس طور پر پکار دے جس طرح پکارنے پر پابندی ہے تو اسے ضرور معذور رکھا جائے گا۔
اور اگر کوئی دوسرا شخص اس معذور شخص کی پکار کو دلیل بنا کر اسی غلط طریقے سے پکارے تو اسے مجرم گردانا جائے گا۔
(یہ مثال محض اس صورت کو سمجھنے کے لیے ہے اور بس، اس کا نفس مسئلہ سے کچھ اور تعلق نہیں)۔
لہذا جب آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کنیت کے ساتھ پکارنا جائز نہیں اور آج بھی اسے بے ادبی ہی سمجھا جاتا ہے، پھر توسل کے طور پر اسے جائز کہنا عجیب تر باطل توجیہ ہے۔
اور تعجب خیز یہ ہے کہ مفتی بلال صاحب قباحت مانتے ہوئے اس شعر کو بے شبہ جائز بتا رہے ہیں!
یہ کیسا تفقہ ہے؟
یہ کیسا بارگاہ نبوی کا ادب ہے کہ قباحت تسلیم ہے مگر بہانہ تلاش کر اسے بے شبہ جائز کہا جا رہا ہے؟
یہ قاعدہ کس نے اور کب ایجاد کیا کہ جس جملے میں شرعاً قباحت ہو اسے کسی جائز تاویل سے آپ کی بارگاہ میں بولنا بے شبہ جائز ہے؟
استغفر اللہ العظیم۔
ہم عاشقان اعلیٰ حضرت ہیں، ایسی تحقیق ہمیں ہرگز قبول نہیں جس میں بے ادبی کا شائبہ بھی موجود ہو۔
اور یہاں صریح ممانعت موجود ہے کہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نام اور کنیت کے ساتھ نہ پکارو کہ یہ عام لوگوں کو پکارنے کا طریقہ ہے۔
اور اگر اس سلسلے میں مذکور آیت کریمہ یہی معنی متعین ہوتا کہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نام اور کنیت کے ساتھ نہ پکارا جائے تب تو یہ حرام قطعی ہوتا۔
مگر وہاں اور بھی احتمال ہیں، مگر اس احتمال سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا لہذا حرمت پھر بھی باقی ہے ۔
اور جس طرح پکارنے سے خود رب جلیل منع فرمائے، کسی اور کی کیا مجال کہ اس کو جائز ٹھہرائے۔
ہاں جن روایات میں یہ ندا مذکور ہے ان کی تاویل کی جائے گی۔
اور اس سلسلے میں باب تاویل بڑا وسیع ہے۔
ہاں ہم جن کو اپنا امام اور پیشوا مانتے ہیں ان کے فتاویٰ میں اس کی حرمت کی تصریح ہے۔
اور جب ہم خود اپنے ان اکابر کی تصریحات سے انحراف کرنے والوں کو گمراہ مانتے ہوں اور پھر خود انحراف کریں، یہ ستم بالاے ستم ہے۔
مولیٰ تعالیٰ مفتی بلال انور صاحب کو اپنے قول سے فی الفور رجوع کی توفیق عطا فرمائے۔
والتوفیق باللہ رب العالمین۔
टिप्पणियाँ
एक टिप्पणी भेजें