Jahannam
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
کلمہ گویان اسلام کی ایمانی حالت اور جہنم کے دروازے
(1)بعض مذہبی رہنماؤں نے بتا دیا کہ قرآن چالیس پارہ تھا،بہت سے لوگ مان گئے۔کسی نے کہا کہ نماز تین ہی ہے۔بعض وگ مان لئے۔کسی نے کہا کہ میں امام مہدی ہوں۔بعض لوگوں نے قبول کر لیا۔کسی نے کہا۔میں نبی ہوں،بعض لوگ قبول کر لئے۔
(2)حضور اقدس سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اقدس کے بعد ہی لوگ جھوٹے مدعیان نبوت کو مان کر اور زکات کا انکار کر کے اس قدر کثیر تعداد میں مرتد ہو گئے کہ روئے زمین پر صرف تین مسجدوں میں نماز با جماعت ہوتی تھی۔کعبہ شریف،مسجد نبوی اور مسجد جواثی(بحرین)
یہ خیر القرون کا حال تھا۔
(3)ہاں،کسی عہد میں اسلام بالکل ختم نہیں ہو گا۔اللہ تعالی ایک جماعت کو حق پر قائم رکھے گا اور وہ طبقہ باطل سے مقابلہ آرائی کرتا رہے گا۔اسی کا نام اہل سنت وجماعت اور سواد اعظم ہے۔
(4)اہل سنت وجماعت مجموعی طور پر حق پر ہی قائم رہیں گے۔ہاں،اس کے بعض افراد غلط راہ پر جا سکتے ہیں،خواہ وہ عوام میں سے ہو یا مذہبی رہنماوں میں سے۔حصرت حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ کا شاگرد واصل بن عطا جو معتزلی بن گیا،وہ عوام میں سے نہیں تھا،بلکہ اہل علم میں سے تھا اور معتزلی ہونے سے پہلے سنی تھا۔اسماعیل دہلوی بھی وہابی ہونے سے قبل سنی تھا۔
(5)آج بھی بعض اہل علم کسی بات کا انکار کر کے راہ حق سے دور ہو رہے ہیں،لیکن اب حق وباطل کا معیار بدلتا جا رہا ہے۔
اگر کوئی مولوی کفر صریح بھی بک دے تو تاویل کی جائے گی۔
حصور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنی آخری حیات طیبہ میں ایک صحابی نہار الرجال کو مسیلمہ کذاب کے فتنوں سے مسلمانوں کو بچانے کے واسطے نجد بھیجا۔نہار الرجال مسیلمہ کذاب کے ساتھ جا ملا اور اس کی جھوٹی نبوت کو صحیح بتایا۔عہد صدیقی میں جب مسیلمہ کے ساتھ مسلمانوں کی جنگ ہوئی تو نہار الرجال ایک صحابی کے ہاتھوں مارا گیا۔
اگر نہار الرجال آج کے زمانے میں ہوتا تو ایک طبقہ اس کو مومن اور غوث و قطب مانتا اور اس کی غلط بات کی تاویل کرتا۔
(5)اہل سنت وجماعت کا خمیر حق پرستی اور عشق نبوی سے تیار ہوا تھا۔اب بعض دعویداران سنیت اہل سنت وجماعت کی فطرت سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
(6)ایک حضرت نے فرما دیا کہ مفسر(قطعی بالمعنی الاخص)میں بھی تاویل کا احتمال ہوتا ہے،حالاں کہ یہ نظریہ بالکل غلط ہے۔درس نظامی کے طلبہ جو اصول الشاشی اور نور الانوار وغیرہ پڑھ چکے ہوں،وہ بھی بتائیں گے کہ مفسر میں تاویل کی گنجائش نہیں.
لیکن بعض لوگ اس نظریہ کو مانتے ہیں،کیوں کہ نظریہ پیش کرنے والے ایک بڑے حضرت ہیں۔
(7)اسی طرح بہت سے بالکل غلط نظریات سواد اعظم اہل سنت وجماعت میں پھیلتے جا رہے ہیں اور ہر ضلالت کی پیروی کرنے والے چند لوگ بھی کھڑے ہو جاتے ہیں اور یہ سب لوگ سنی صحیح العقیدہ کہلاتے ہیں۔اگرچہ اسلامی اصولوں کے مطابق وہ سنی نہ ہوں،بلکہ بدعتی اور اہل سنت سے خارج ہوں،جیسے تفصیل مرتضوی کا نظریہ رکھنے والے۔
(8)مذہب کو تباہ وہ لوگ بھی کر رہے ہیں جو غلط باتوں کی تاویل کرتے ہیں اور اس کو تسلیم کرتے ہیں۔اگر کسی عالم سے لغزش ہو جائے تو ان کو بتا دیا جائے کہ اس پر نظر ثانی فرما لیں اور چوں کہ عصر حاضر میں نظر ثانی اور توبہ ورجوع کی امید نہیں،لہذا کچھ انتظار کے بعد نظریات باطلہ کی سخت تردید کی جائے۔
(9)شخصیت پرستی یہ ہے کہ غلط بات میں کسی کی تائید کی جائے۔کسی اہل حق سے محبت اور حق بات میں ان کی طاعت شخصیت پرستی نہیں اور عصر حاضر میں شخصیت پرستی عروج پر ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:11:دسمبر 2025
Nafis Ahmed Shaikh
टिप्पणियाँ
एक टिप्पणी भेजें