Afghan

 پاکستان اور افغانستان میں کچھ عرصہ قبل ایک جیسا واقعہ ہوا

افغانستان میں ایک شخص نے ایک خاندان کے درجنوں افراد قتل کردئیے۔ افغان حکومت نے اس شخص کو گرفتار کرلیا۔ ہزاروں افراد کے سامنے اس کا مقدمہ پیش کیا گیا۔ مقتول کے خاندان والوں کے سامنے آپشنز پیش کیے گئے کہ آپ معاف کریں گے یا قصاص لیں گے


مقتول کے خاندان والوں نے قصاص کا فیصلہ کیا


اس فیصلے کے بعد اس خاندان کے ایک 13 سالہ بچے کو سامنے لایا گیا اور اس کے سامنے قاتل کو پیش کردیا گیا۔ بچے نے اسے قتل کرکے اپنا حساب برابر کرلیا


آپ کو اس کیس کے حوالے سے کتنے ہی تحفظات ہوں، پر یہ معاملہ عین شرعی اصولوں کے مطابق حل کیا گیا


دوسری طرف پاکستان میں متعدد واقعات ہوتے آئے جن میں اشرافیہ سے تعلق رکھنے والا کوئی فرد، لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے، اپنی کروڑوں روپے کی کار سے کسی عام شہری کو کچل کر ہلاک کردیتا ہے۔ 

 اسے قتل عمد تو نہیں کہا جا سکتا لیکن بہرحال مجرمانہ غفلت واضح طور پر موجود ہوتی ہے اور جیل کی سزا بنتی ہے

لیکن،

بدقسمتی سے 

یہاں دیت کے قانون کا بھونڈا استعمال کرکے، مقتول کے گھر والوں سے ہمیشہ راضی نامہ قرار کر، مجرم کو صاف بچا لیا جاتا ہے۔ 


کارساز کراچی میں ہوا مشہور واقعہ یاد ہوگا جہاں یاک انتہائی امیر گھرانے کی لڑکی کو بچا لیا گیا تھا


اب چند دن پہلے ہی ایسا ایک واقعہ ہوتا ہے۔ 


ایک جج صاحب کا انڈر ایج لڑکا،لینڈ کروزر بھگاتا ہوا جارہا تھا جہاں رستے میں آنے والی دو معصوم اسکوٹی سوار لڑکیوں پر گاریاں چڑھا کر انھیں ہلاک کرڈالا


اب چونکہ یہ جج کا لڑکا تھا لہذا انتہائی برق رفتاری سے، صرف چند دنوں میں اس لڑکے کو معافی مقتولین کے خاندان سے معافی بھی مل گئی اور وہ باعزت بری ہوگیا۔ یہاں بھی دیت کے قانون کا استعمال کیا گیا جیسا کہ پہلے بھی ہوتا آیا ہے۔ 


یہ وہ ریاست ہے جہاں سود تو جاری و ساری ہے لیکن دیت کے قانون کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا جاتا ہے


کیوں؟


یہ قانون اشرافیہ کے حق میں ہے


اس کی اصل روح پر افغانستان عمل پیرا ہے۔ پاکستان میں اسے محض اشرافیہ کے حق میں abuse کیا جارہا ہے


اشرافیہ کی بگڑی اولادوں کو پیغام دیا جاتا ہے کہ تم اندھا دھن گاڑیاں بھگاتے رہو، ہم تم صاف بچا لیں گے


ہم سب کو بہت اچھی طرح اندازہ ہے کہ کیس کے چلتے، مقتولین کے خاندان پر کیسے پریشر ڈالا جاتا ہوگا


شاہ رخ جتوئی کیس بھی آپ کو یاد ہوگا۔ اس میں بھی قاتل نے ایک معصوم لڑکے کو قتل کرکے، باآسانی "معافی" حاصل کرلی تھی

اب  اس میں ایک دوسرے پہلو کو ڈسکس کرتے ہیں کہ معاملہ ایک شرعی قانون کے استعمال کا ہے


افغانستان میں دیت کا قانون اپنی اصل روح میں استعمال کیا جارہا ہے جبکہ پاکستان میں اس شرعی قانون کا مذاق بنایا ہوا ہے


اور یہ دونوں معاملات، یعنی افغانستان اور پاکستان والے کیسز، آگے پیچھے رونما ہوئے ہیں


ہمارے ہاں شریعت کے جتنے بھی guardians ہیں، آپ نے کسی کو بھی ان معاملات پر تبصرہ کرتے نہیں دیکھا ہوگا۔ اس حوالے سے علماء اور مفتیان کرام سب خاموش ہیں۔


کسی کو موازنہ یاد نہیں آرہا


اس ریاست نے تو، ریمنڈ ڈیوس کو بھی دیت کے قانون کا سہارا لے کر چھڑوایا تھا


افغانستان (بقول حضرت ڈونلڈ ٹرمپ) ہنوذ جہنم کا گڑھا ہے۔ وہاں شریعیت کا کتنا ہی پاس کیا جاتا ہو پر وہ ملعون ملک ہے


جبکہ پاکستان خدا کی خاص عنایت ہے اور اسلام کا قلعہ ہے


ایسے تمام افراد، نیشن اسٹیٹ کی خاطر، آخرت کا سودا کرچکے ہیں۔ انکا دین ایمان مقتدرہ اور اس کا بیانیہ ہے


ایسے معاملات میں کسی کو شریعت یاد نہیں آتی۔۔۔۔۔۔!!!!

. منقول 

#قراةالعین زینب ایڈووکیٹ

टिप्पणियाँ

इस ब्लॉग से लोकप्रिय पोस्ट

Links hindi

Aamanu

Victorya