Digr
(1)ہر مسلمان قرآن کو مانتا ہے اور قرآن مقدس میں آخرت کا صاف صریح بیان ہے۔اخرت ہم مسلمانوں کے لئے کھلی کتاب کی طرح ہے،لیکن ہم احساس نہیں کر پاتے،اسی لئے ہم لوگوں کا قدم گناہوں کی طرف بڑھ جاتا ہے۔آپ احساس کرتے رہیں،تاکہ گناہوں کی طرف دل مائل نہ ہو۔
(2)سب سے زیادہ قریب اللہ ورسول(عز وجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)ہیں،لیکن ہمیں شعور نہیں۔اگر صحیح طور پر ہم لوگ سمجھ جائیں تو ہم لوگ پابند شرع ہو جائیں۔
(الف)ارشاد الٰہی ہے:(ونحن اقرب الیہ من حبل الورید)(سورہ ق۔آیت 16)
یعنی اللہ تعالی جل شانہ بندوں کے بہت قریب ہے،یہاں تک کہ اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے،لیکن بات سمجھنے کی ہے۔اگر ہم یہ یاد رکھیں کہ اللہ تعالی ہمارے ہر عمل کو دیکھ رہا ہے تو گناہوں کی طرف بندوں کا اٹھا ہوا قدم بھی واپس آ سکتا ہے۔
(ب) ارشاد خداوندی ہے:(النبی اولی بالمؤمنین من انفسہم)(سورہ احزاب:آیت 6)
یعنی تمہارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تمہارے بہت قریب ہیں،یہاں تک کہ تمہاری جانوں سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہیں۔
اگر بندہ صحیح طور پر سمجھ لے کہ اللہ ورسول ہمارے بہت قریب ہیں تو پھر ہر وقت چوکنا رہے اور گناہوں کی طرف قدم ہی نہ بڑھے،لیکن بات سمجھنے کی ہے۔
طارق انور مصباحی
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
فارغین مدارس اور بے روزگاری
(1)بہت سے طلبہ فارغ التحصیل ہو جاتے ہیں اور جگہ نہ ملنے کے سبب وہ بے روزگار ہو کر اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں۔اس مشکل کا کچھ حل ہونا چاہیے۔
(2)آج سے کچھ مدت پہلے مدارس اسلامیہ میں طلبہ کو ٹیلرنگ سکھائی جاتی تھی اور آج بہت سے پرانے فارغین ٹیلرنگ کے پیشہ سے منسلک بھی ہیں۔
اس کے بعد طلبہ کی بے توجہی کے سبب یہ سلسلہ موقوف ہو گیا۔اب اہل مدارس بھی طلبہ کے معاشی مستقبل سے بے نیاز ہو چکے ہیں۔اس کا ایک اہم سبب طلبہ کی دل چسپی کا مفقود ہونا ہے۔
(3)عصر حاضر میں ہر ایک کے پاس موبائل ہے اور موبائل ریپئرنگ اور موبائل ریچارجنگ اور اس سے متعلقہ امور کی دکانیں ہر جگہ چل سکتی ہیں،لہذا طلبہ کو کم از کم موبائل ریپئرنگ سکھانے پر غور کیا جائے اور شہروں کے مدارس میں زیر تعلیم طلبہ خود بھی کچھ سیکھنے کی کوشش کریں۔
طارق انور مصباحی
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
کلمہ گویان اسلام کی ایمانی حالت اور جہنم کے دروازے
(1)بعض مذہبی رہنماؤں نے بتا دیا کہ قرآن چالیس پارہ تھا،بہت سے لوگ مان گئے۔کسی نے کہا کہ نماز تین ہی ہے۔بعض وگ مان لئے۔کسی نے کہا کہ میں امام مہدی ہوں۔بعض لوگوں نے قبول کر لیا۔کسی نے کہا۔میں نبی ہوں،بعض لوگ قبول کر لئے۔
(2)حضور اقدس سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اقدس کے بعد ہی لوگ جھوٹے مدعیان نبوت کو مان کر اور زکات کا انکار کر کے اس قدر کثیر تعداد میں مرتد ہو گئے کہ روئے زمین پر صرف تین مسجدوں میں نماز با جماعت ہوتی تھی۔کعبہ شریف،مسجد نبوی اور مسجد جواثی(بحرین)
یہ خیر القرون کا حال تھا۔
(3)ہاں،کسی عہد میں اسلام بالکل ختم نہیں ہو گا۔اللہ تعالی ایک جماعت کو حق پر قائم رکھے گا اور وہ طبقہ باطل سے مقابلہ آرائی کرتا رہے گا۔اسی کا نام اہل سنت وجماعت اور سواد اعظم ہے۔
(4)اہل سنت وجماعت مجموعی طور پر حق پر ہی قائم رہیں گے۔ہاں،اس کے بعض افراد غلط راہ پر جا سکتے ہیں،خواہ وہ عوام میں سے ہو یا مذہبی رہنماوں میں سے۔حصرت حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ کا شاگرد واصل بن عطا جو معتزلی بن گیا،وہ عوام میں سے نہیں تھا،بلکہ اہل علم میں سے تھا اور معتزلی ہونے سے پہلے سنی تھا۔اسماعیل دہلوی بھی وہابی ہونے سے قبل سنی تھا۔
(5)آج بھی بعض اہل علم کسی بات کا انکار کر کے راہ حق سے دور ہو رہے ہیں،لیکن اب حق وباطل کا معیار بدلتا جا رہا ہے۔
اگر کوئی مولوی کفر صریح بھی بک دے تو تاویل کی جائے گی۔
حصور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنی آخری حیات طیبہ میں ایک صحابی نہار الرجال کو مسیلمہ کذاب کے فتنوں سے مسلمانوں کو بچانے کے واسطے نجد بھیجا۔نہار الرجال مسیلمہ کذاب کے ساتھ جا ملا اور اس کی جھوٹی نبوت کو صحیح بتایا۔عہد صدیقی میں جب مسیلمہ کے ساتھ مسلمانوں کی جنگ ہوئی تو نہار الرجال ایک صحابی کے ہاتھوں مارا گیا۔
اگر نہار الرجال آج کے زمانے میں ہوتا تو ایک طبقہ اس کو مومن اور غوث و قطب مانتا اور اس کی غلط بات کی تاویل کرتا۔
(5)اہل سنت وجماعت کا خمیر حق پرستی اور عشق نبوی سے تیار ہوا تھا۔اب بعض دعویداران سنیت اہل سنت وجماعت کی فطرت سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
(6)ایک حضرت نے فرما دیا کہ مفسر(قطعی بالمعنی الاخص)میں بھی تاویل کا احتمال ہوتا ہے،حالاں کہ یہ نظریہ بالکل غلط ہے۔درس نظامی کے طلبہ جو اصول الشاشی اور نور الانوار وغیرہ پڑھ چکے ہوں،وہ بھی بتائیں گے کہ مفسر میں تاویل کی گنجائش نہیں.
لیکن بعض لوگ اس نظریہ کو مانتے ہیں،کیوں کہ نظریہ پیش کرنے والے ایک بڑے حضرت ہیں۔
(7)اسی طرح بہت سے بالکل غلط نظریات سواد اعظم اہل سنت وجماعت میں پھیلتے جا رہے ہیں اور ہر ضلالت کی پیروی کرنے والے چند لوگ بھی کھڑے ہو جاتے ہیں اور یہ سب لوگ سنی صحیح العقیدہ کہلاتے ہیں۔اگرچہ اسلامی اصولوں کے مطابق وہ سنی نہ ہوں،بلکہ بدعتی اور اہل سنت سے خارج ہوں،جیسے تفصیل مرتضوی کا نظریہ رکھنے والے۔
(8)مذہب کو تباہ وہ لوگ بھی کر رہے ہیں جو غلط باتوں کی تاویل کرتے ہیں اور اس کو تسلیم کرتے ہیں۔اگر کسی عالم سے لغزش ہو جائے تو ان کو بتا دیا جائے کہ اس پر نظر ثانی فرما لیں اور چوں کہ عصر حاضر میں نظر ثانی اور توبہ ورجوع کی امید نہیں،لہذا کچھ انتظار کے بعد نظریات باطلہ کی سخت تردید کی جائے۔
(9)شخصیت پرستی یہ ہے کہ غلط بات میں کسی کی تائید کی جائے۔کسی اہل حق سے محبت اور حق بات میں ان کی طاعت شخصیت پرستی نہیں اور عصر حاضر میں شخصیت پرستی عروج پر ہے۔
طارق انور مصباحی
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
فرقہ سراویہ اور تکفیر فقہی کا مسئلہ
(2)سراوی گروہ تکفیر فقہی کے مسئلہ پر مسلسل تنقید کرتا رہتا ہے اور اس کو ناقابل اعتبار بتانے کی کوشش کرتا ہے۔
(2)امام ابن ہمام حنفی صاحب فتح القدیر مسئلہ تکفیر میں مذہب متکلمین پر تھے،لہذا انہوں نے بیان فرمایا کہ مسئلہ تکفیر میں مجتہدین کی پیروی کی جائے گی اور فقہا جو تکفیر فقہی کرتے ہیں،اس کا لحاظ نہیں کیا جائے گا۔(خلاصہ عبارت فتح القدیر )
یعنی متکلمین فقہائے کرام کے بیان کردہ کفریات کی بنیاد پر تکفیر نہیں کریں گے۔
(3)سراوی گروپ نے اس سے یہ سمجھا کہ تکفیر فقہی کا طریق کار غیر مجتہد فقہائے کرام کا ایجاد کردہ ہے اور ناقابل اعتبار ہے،حالاں کہ ایسا نہیں۔تکفیر فقہی کا طریق کار عہد نبوی سے رائج ہے۔ہمارے رسالہ:"مسئلہ تکفیر اور عقل انسانی"میں تفصیل مرقوم ہے۔
(4)اگر امام ابن ہمام کے کلام سے کوئی یہ سمجھتا ہے کہ مسئلہ تکفیر میں غیر مجتہد فقہا کا اعتبار نہیں ہو گا اور تکفیر فقہی کا طریق کار غیر مجتہد فقہائے کرام نے اختیار کر لیا ہے تو یہ خیال بھی غلط ہے۔
چار ائمہ مجتہدین جن کی تقلید کی جاتی ہے۔ان میں سے دو مجتہد یعنی حضرت امام اعظم وحضرت امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہما مسئلہ تکفیر میں اسی مذہب پر تھے،جس کو مذہب متکلمین کا لقب دیا گیا ہے اور چار مجتہدین میں سے دو مجتہد یعنی حضرت امام مالک وحضرت امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالی عنہما مسئلہ تکفیر میں اسی مذہب پر تھے جس کو مذہب فقہا کہا جاتا پے۔
پس تکفیر فقہی کا طریق کار بھی مجتہدین کا اختیار کردہ ہے اور دونوں جانب دو دو مجتہد ہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:10:دسمبر 2025
فرقہ سراویہ اور تکفیر فقہی کا مسئلہ
(2)سراوی گروہ تکفیر فقہی کے مسئلہ پر مسلسل تنقید کرتا رہتا ہے اور اس کو ناقابل اعتبار بتانے کی کوشش کرتا ہے۔
(2)امام ابن ہمام حنفی صاحب فتح القدیر مسئلہ تکفیر میں مذہب متکلمین پر تھے،لہذا انہوں نے بیان فرمایا کہ مسئلہ تکفیر میں مجتہدین کی پیروی کی جائے گی اور فقہا جو تکفیر فقہی کرتے ہیں،اس کا لحاظ نہیں کیا جائے گا۔(خلاصہ عبارت فتح القدیر )
یعنی متکلمین فقہائے کرام کے بیان کردہ کفریات کی بنیاد پر تکفیر نہیں کریں گے۔
(3)سراوی گروپ نے اس سے یہ سمجھا کہ تکفیر فقہی کا طریق کار غیر مجتہد فقہائے کرام کا ایجاد کردہ ہے اور ناقابل اعتبار ہے،حالاں کہ ایسا نہیں۔تکفیر فقہی کا طریق کار عہد نبوی سے رائج ہے۔ہمارے رسالہ:"مسئلہ تکفیر اور عقل انسانی"میں تفصیل مرقوم ہے۔
(4)اگر امام ابن ہمام کے کلام سے کوئی یہ سمجھتا ہے کہ مسئلہ تکفیر میں غیر مجتہد فقہا کا اعتبار نہیں ہو گا اور تکفیر فقہی کا طریق کار غیر مجتہد فقہائے کرام نے اختیار کر لیا ہے تو یہ خیال بھی غلط ہے۔
چار ائمہ مجتہدین جن کی تقلید کی جاتی ہے۔ان میں سے دو مجتہد یعنی حضرت امام اعظم وحضرت امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہما مسئلہ تکفیر میں اسی مذہب پر تھے،جس کو مذہب متکلمین کا لقب دیا گیا ہے اور چار مجتہدین میں سے دو مجتہد یعنی حضرت امام مالک وحضرت امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالی عنہما مسئلہ تکفیر میں اسی مذہب پر تھے جس کو مذہب فقہا کہا جاتا پے۔
پس تکفیر فقہی کا طریق کار بھی مجتہدین کا اختیار کردہ ہے اور دونوں جانب دو دو مجتہد ہیں۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:10:دسمبر 2025
टिप्पणियाँ
एक टिप्पणी भेजें