Rivers

 مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما


مسلم ممالک اور مغربی ممالک کی سازشیں

(1)مغربی ممالک نے سلطنت عثمانیہ پر حملے کر کے جنگ عظیم اول(1914-1918)کے موقع پر اس کے ٹکڑے کر دئیے۔ایک ملک کے بہت سے ممالک بنا دئیے۔ہر ملک کی حکومت سلطنت عثمانیہ کے غداروں کے سپرد کی گئی۔غداروں کی اولادیں آج تک مغربی ممالک سے وفاداری نبھا رہے ہیں۔

مشرق وسطی میں یہودیوں کا ایک ملک اسرائیل کے نام سے  بنا دیا گیا،تاکہ سلطنت عثمانیہ کے غداروں کو کنٹرول میں رکھا جائے۔اسرائیل کوئی مستقل ملک نہیں،بلکہ مغربی ممالک کا فوجی اڈہ ہے۔

(2)مغربی ممالک سلطنت عثمانیہ کو ختم کرنے کے بعد مسلم ممالک کو ورغلا کر ایک دوسرے سے لڑاتے رہے،تاکہ یہ کبھی متحد نہ ہو سکیں۔نہ صرف بہکایا جاتا ہے،بلکہ ایک دوسرے سے لڑانے کے لئے اندرونی طور پر سازشیں کی جاتی ہیں اور دھمکیاں دی جاتی ہیں۔جو ممالک ان کے بہکاوے میں نہیں آتے ہیں،ان پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں اور بسا اوقات بغاوت کرا کے حکومت گرا دی جاتی ہے۔

(3)اگر یورپ وامریکہ زوال پذیر ہو گئے تو کچھ بہتری کی امید ہے اور سچ تو یہ ہے کہ یورپ زوال پذیر ہونے کے قریب ہے اور امریکہ بھی اسی راہ پر ہے۔اب دنیا بھر میں چین وروس کا غلبہ بڑھتا جا رہا ہے۔برکس رفتہ رفتہ مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔

طارق انور مصباح  الٹی چال چلیں اور جیت جائیں،کامیابی کے تین ”ریورس“ اصول

عام دنیا ”سیدھے“ راستے پر چلتی ہے، لیکن غیر معمولی کامیابی اکثر ”الٹی“ سمت (Reverse Direction) میں چھپی ہوتی ہے۔ اگر آپ بھی روایتی طریقوں سے تھک چکے ہیں اور نتائج نہیں مل رہے، تو اب وقت ہے کہ اپنی حکمت عملی کو ”ریورس گیئر“ میں ڈالیں۔

زندگی کے تین بڑے میدانوں کو فتح کرنے کے تین ”الٹے“ مگر تیر بہدف فارمولے یہ ہیں۔

۱۔ دولت کمانی ہے؟ ریورس انجینئرنگ (Reverse Engineering)

غریب آدمی ”آغاز“ سے سوچتا ہے: ”میرے پاس یہ ڈگری ہے، مجھے کیا نوکری ملے گی؟“

امیر آدمی ”انجام“ سے سوچتا ہے: ”مجھے ۵۰ کروڑ چاہیے، یہ رقم کون سا بزنس ماڈل بنا سکتا ہے؟“

ریورس انجینئرنگ کا مطلب ہے کہ پہلے اپنی منزل (فائنل پروڈکٹ یا رقم) کا تعین کریں اور پھر پیچھے کی طرف (Backward) سفر کرتے ہوئے دیکھیں کہ وہاں تک پہنچنے کے لیے کن سیڑھیوں کی ضرورت ہے۔ جو لوگ پروڈکٹ بنا کر گاہک ڈھونڈتے ہیں وہ فیل ہو جاتے ہیں، جو لوگ پہلے گاہک کی جیب اور طلب دیکھتے ہیں اور پھر پروڈکٹ ڈیزائن کرتے ہیں (ریورس انجینئرنگ)، وہ راج کرتے ہیں۔

۲۔ تعلقات بنانے ہیں؟ ریورس سائیکالوجی (Reverse Psychology)

تعلقات کا ایک تلخ اصول ہے، “آپ جس کے پیچھے جتنا بھاگیں گے، وہ آپ سے اتنا ہی دور بھاگے گا۔“

لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے منتیں کرنا چھوڑ دیں۔ یہاں ریورس سائیکالوجی استعمال کریں۔ یعنی اپنی ”دستیابی“ (Availability) کم کر دیں اور خود کو تھوڑا ”پیچھے ہٹا“ لیں۔ انسانی نفسیات ہے کہ وہ اس چیز کی قدر کرتا ہے جو آسانی سے نہیں ملتی۔ بجائے اس کے کہ آپ لوگوں کو قائل کریں کہ آپ اچھے ہیں، ایسے حالات پیدا کریں کہ وہ آپ کی قربت حاصل کرنے کے لیے تڑپیں۔ کھینچنے کے بجائے، مقناطیس بن جائیں۔

۳۔ طاقت کا حصول؟ ریورس تھنکنگ (Reverse Thinking)

بھیڑ جس طرف جا رہی ہے، وہاں صرف ”شور“ ہے، ”طاقت“ نہیں۔ طاقت ہمیشہ مخالف سمت (Opposite Direction) میں ہوتی ہے۔

ریورس تھنکنگ یہ ہے کہ جب سب سوچ رہے ہوں کہ ”جیتنا کیسے ہے؟“، تو آپ سوچیں کہ ”ہارنے کی وجوہات کیا ہیں؟“ اور انہیں ختم کر دیں۔ جب سب ”اضافہ“ کرنے کا سوچ رہے ہوں، تو آپ غیر ضروری چیزوں کو ”مائنس“ کرنے کا سوچیں۔ طاقتور لوگ وہ نہیں کرتے جو سب کر رہے ہیں، وہ وہ کرتے ہیں جو کوئی نہیں کر رہا۔


یہ تینوں ”ریورس“ طریقے دراصل دماغ کے بند دروازے کھولنے کی چابیاں ہیں۔ یاد رکھیں، دنیا کے بہاؤ کے ساتھ تو مردہ مچھلیاں بھی تیر لیتی ہیں، زندہ اور طاقتور انسان ہمیشہ بہاؤ کے الٹ (Reverse) تیر کر اپنی منزل پاتے ہیں۔

آج ہی اپنی سوچ کو الٹ دیں، نتائج خود بخود سیدھے ہو جائیں گے!

منقول 

#قراةالعین زینب ایڈووکیٹ

टिप्पणियाँ

इस ब्लॉग से लोकप्रिय पोस्ट

Links hindi

Aamanu

Victorya