Takfir

مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما

کیا دیوبندیوں کی کسی نے تکفیر نہیں کی تھی؟

(1)عصر حاضر کے مذبذبین یعنی طواغیت اربعہ کے عاشقین مسلسل یہ پروپیگنڈہ کرتے رہتے ہیں کہ فرقہ دیوبندیہ کے عناصر اربعہ کی تکفیر صرف امام اہل سنت اعلی حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان نے کی تھی اور دیگر علمائے اہل سنت وجماعت خاموش تھے۔اصل حقیقت یہ ہے کہ اعلی حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان بھی ایک مدت تک حکم کفر نافذ نہ کئے۔اس کی تفصیل خود امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے تمہید ایمان کے اخیر میں رقم فرما دی ہے۔

(2)وجہ اول:دراصل تکفیر کلامی کے سخت شرائط ہیں۔ان شرائط کی تکمیل کے بعد ہی شخصی تکفیر کلامی کی جاتی ہے،لہذا امام اہل سنت قدس سرہ العزیز سے ماقبل کے جن علمائے کرام کے لئے تکفیر کلامی کے شرائط کی تکمیل نہ ہو سکی ہو،وہ تکفیر کلامی نہیں کر سکتے تھے۔

(3)وجہ دوم:امام اہل سنت علیہ الرحمۃ والرضوان سے قبل بھی علمائے اہل سنت وجماعت نے عناصر اربعہ کے کفریات کو کفر کلامی قرار دیا۔جب کلام کفری معنی میں متعین ہے تو اس کلام کا قائل کافر کلامی ہے۔کلام کو کفر کہنا بطریق کنایہ قائل کو کافر قرار دینا ہے۔علم بلاغت کا مشہور قانون ہے۔(الکنایۃ ابلغ من التصریح)

ہمارے رسائل:(1)کفریہ عبارتوں کی خبر اور عدم تکفیر(2)ہندی فتاوی پر تصدیقات حرمین"میں تفصیل مرقوم ہے۔

(4)وجہ سوم:فرقہ دیوبندیہ کے اشخاص اربعہ تنہا نہیں تھے،بلکہ ان کے ساتھ بہت سے معتقدین بھی تھے،لہذا ابتدائی مرحلہ میں افہام وتفہیم کی کوشش کی گئی اور صریح لفظوں میں تکفیر کلامی نہ کی گئی،لیکن کفری کلمات کو کفر ہی کہا گیا۔دراصل حکمت عملی اختیار کی گئی،تاکہ معاملہ حل ہو جائے اور قائدین ومعتقدین سب صحیح راہ پر رہیں،لیکن جب راہ حق پر آنے کی امید نہ رہی،تب حکم شرعی واضح لفظوں میں بیان کر دیا گیا اور امت مسلمہ کے ایمان کی حفاظت کی گئی،تاکہ لوگ ان مرتدین سے دور رہیں اور اپنے ایمان کی حفاظت کریں۔

(5)وجہ چہارم:کافر کو کافر ماننا ضروری ہے۔تمام علمائے کرام کو اس کافر کے کافر ہونے کا فتوی دینا ضروری نہیں۔ایک عالم نے بھی فتوی دے دیا تو حکم شرعی واضح ہو گیا،نیز۔تکفیر کلامی کے معاملہ میں ہر ایک کو فتوی دینے کی  اجازت نہیں۔

(6)عصر حاضر میں بعض لوگ تفضیلی ہیں اور بعض لوگ مرتد بھی ہیں،جیسے عناصر اربعہ کے کفریات اور ان پر نافذ شدہ حکم کفر سے بخوبی واقف وآشنا ہو کر ان مرتدین اربعہ کو مومن ماننے والے مذبذبین خود ہی مرتد ہیں،لیکن ابھی تک ان لوگوں کی تکفیر کلامی کا فتوی کسی دار الافتاء سے صادر نہ ہوا،مگر اس کا یہ معنی نہیں کہ ایسے لوگ مرتد نہیں ہیں،وہ ضرور مرتد ہیں۔

اب یہ نہیں کہا جا سکتا کہ علمائے کرام خاموش ہیں تو ایسے مذبذبین بھی مومن قرار پائیں گے،ایسا ہرگز نہیں۔اصول شرع کے مطابق جو کافر ہے،وہ کافر ہی رہے گا۔علمائے کرام کا طرز عمل کچھ بھی ہو،شرعی حکم نہیں بدل سکتا۔

طارق انور مصباحی

جاری کردہ:22:اکتوبر 2025

टिप्पणियाँ

इस ब्लॉग से लोकप्रिय पोस्ट

Links hindi

Aamanu

Victorya