Muhaddis

 بریلی شریف اور پیلی بھیت میں محدث اعظم ہند کچھوچھوی :


فخر خاندانِ اشرفیہ محدث اعظم ہند کچھوچھوی علیہ الرحمہ، شیخ المحدثین علامہ وصی احمد صاحب محدث سورتی حنفی انصاری ثم پیلی بھیتی علیہ رحمۃ الباری کے مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت میں برسوں زیرِ تعلیم رہے، مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت سے تحصیل علم کیا اور عالم فاضل کی سند پائی۔


پھر محدث اعظم ہند کچھوچھوی اپنے پیر و مرشد اپنے ماموں جان حضرت مولانا شاہ سید احمد اشرف صاحب اشرفی فرزند زینت سلسلہ اشرفیہ حضرت مولانا سید شاہ علی حسین اشرفی میاں صاحب کچھوچھوی علیہما الرحمہ کے ہمراہ بریلی شریف حاضر ہوئے۔ محدث اعظم ہند کے مرشدوں نے روحانیت و عرفانیت و فیضان مصطفویت حاصل کرنے کے لئے چودہویں صدی کے مجدّد اعلیٰ حضرت امام اہلسنت علامہ شاہ محمد احمد رضا خان صاحب فاضل بریلوی قدس سرہ کے حوالے کیا۔ محدث اعظم ہند کچھوچھوی بریلی شریف  سوداگری محلّہ میں کئی برس اعلیٰ حضرت سرکار کی خدمت میں زیر تعلیم رہ کر اعلیٰ حضرت سرکار فاضل بریلوی سے وہ علم و فیض حاصل فرمایا کہ علمائے اہلسنت سے محدث اعظم کا لقب پایا۔ ناگپور میں ۱۳۷۹ھ کے ایک عظیم الشّان جشن ولادت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کے موقع پر خطاب فرماتے ہوئے خطبۂ صدارت میں محدث اعظم کچھوچھوی خود ارشاد فرماتے ہیں کہ :

”آج میں آپ کو جگ بیتی نہیں بلکہ آپ بیتی سنا رہا ہوں کہ جب تکمیل درس نظامی و تکمیل درس حدیث کے بعد میرے مربّیوں نے کار انتہا کے لئے اعلیٰ حضرت کے حوالے کیا۔ محدث اعظم فرماتے ہیں زندگی کی یہی گھڑیاں میرے لیے سرمایۂ حیات ہو گئی اور میں محسوس کرنے لگا کہ آج تک جو کچھ پڑھا تھا وہ کچھ نہ تھا اور اب ایک دریائے علم کے ساحل کو پا لیا ہے علم کو راسخ فرمانا اور ایمان کو رگ و پے میں اُتار دینا اور صحیح علم دیکر نفس کا تزکیہ فرمانا یہ وہ کرامت تھی جو ہر ہر منٹ پر صادر ہوتی رہتی تھی۔


”محدث سورتی سے درس لیں پھر اعلیٰ حضرت سے

محدث تاجدارِ اشرفيت مفتئ اعظم“


یہی تاجدارِ اشرفیت حضرت مفتی سید محمد اشرفی محدث اعظم ہند کچھوچھوی نے اپنے خطبۂ صدارت "ارشادات دین پرور" میں فرمایا ہے، میرا خیال ہے سنّی جمعیۃ العلماء کیا چیز ہے ؟ سطور بالا میں اس سوال کا جواب مفصل آ چکا ہے۔ کاش اس سوال کا جواب حضرت مفتئ اعظم ہند سنّیوں کا آقا سنّیوں کا مرکزی آسرا کا قلم دیتا۔ (المیزان اپریل ۱۹۸۷ء صفحہ ١۴۱)


”رقم فرمائیں آقا سنّیوں کا آسرا تم کو

محدث تاجدارِ اشرفیت مفتئ اعظم“

टिप्पणियाँ

इस ब्लॉग से लोकप्रिय पोस्ट

Links hindi

Aamanu

Victorya