Kujravi
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
حکم شرع مانو،ورنہ پچھتاوا ہو گا
(1)یہ وہ زمانہ نہیں کہ شریعت اسلامیہ پر عمل کرنا بہت آسان ہو۔اس مشکل کو تاویل کے پردوں میں نہیں چھپایا جا سکتا۔اگر چھپانے کی کوشش کی گئی تو آخرت تاریک ہو جانے کا سخت خطرہ ہے۔تاویلات مولوی لوگ زیادہ کرتے ہیں اور عوام میں بھی بعض لوگ مجتہد مطلق ہوتے ہیں۔ان کے جہل مرکب کے سبب بھی فتنے رونما ہوتے رہتے ہیں۔
(2)عصر حاضر میں امامت بہت مشکل امر ہے۔بہت سی مسجدوں میں ہر قسم کے مقتدی ہوتے ہیں،یعنی سنی بھی اور بدمذہب بھی۔کمیٹی بھی مشترک ہوتی ہے۔بالفرض اگر صدر دیوبندی ہے اور اس کے کفریات بھی بالکل واضح ہیں،یعنی وہ یقینا کافر کلامی ہے۔اس صدر نے اپنے گھر امام صاحب اور تمام جماعت والوں کی ضیافت کی۔اپنے ہاتھ سے بکرا ذبح کر کے بریانی بنائی تو امام کو دعوت میں جانا ہے،ورنہ امامت سے دست بردار ہونا پڑے گا۔کھلے عام کھانا کھلایا گیا اور امام واہل محلہ سبھوں نے خوب مزے لے کر بریانی کھائی۔
ایسے دیوبندی کا ذبیحہ کھانا تو کسی طرح جائز نہیں،لیکن امام صاحب تاویل کریں گے،یہ سوچ کر کہ اگر میں تاویل نہ کروں تو میں فاسق معلن قرار پاؤں گا اور میری اقتدا میں نماز درست نہ ہو گی اور میں مسجد سے دور کر دیا جاؤں گا۔
لیکن اس سے بڑی مصیبت تاویل کرنے پر ہوتی ہے،کیوں کہ غلط تاویل کے ذریعہ حرام کو حلال کرنا کبھی کفر ہے اور کبھی ضلالت۔یعنی حرام قطعی میں تاویل کر کے اس کو حلال کہنا کفر کلامی ہے،پس ایسی تاویل کے سبب وہ جنت سے دور رکھا جائے گا۔
الغرض یا تو امام کو ملازمت سے ہاتھ دھونا ہے،یا جنت سے ہاتھ دھونا ہے۔
ان پریشانیوں کے پیش نظر ایک نیا مذہب ترتیب دینے کی کوشش ہو رہی ہے۔خود ذبیحہ پر بھی ایک جدید نظریہ آ چکا ہے اور دیگر امور پر بھی نظریات ادھر ادھر سے سننے کو مل رہے ہیں۔اگر پندرہویں صدی کا کوئی فرد ان سب کو جمع کر دے تو ایک نیا مذہب وجود پذیر ہو جائے۔
(3)امام جس نے دیوبندی کا بکرا کھا لیا،اس کو چاہیے کہ توبہ کرے۔تاویل سے فایدہ نہیں۔اللہ تعالی عز وجل ضرور رزق عطا فرمائے گا۔ارشاد الہی ہے:
(وما من دابۃ فی الارض آلا علی اللہ رزقہا)
شرعی حکم کو ماننا لازم ہے،ورنہ آخرت میں پچھتانا ہو گا۔وہاں نہ تاویل ہو گی،نہ بہانہ ہو گا۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:11:نومبر 2025
ممالک کے زوال کا مطلب کیا؟
(1)ملکوں کے زوال کا معنی ہے:مقابل سے فتح کی قوت نہ ہونا۔روس وچین وایران کا گروپ جو برکس کے نام سے متعارف ہے،وہ فوجی برتری حاصل کرتا جا رہا ہے۔امریکہ و یورپ واسرائیل کا گروپ جو نیٹو کے نام سے متعارف ہے،وہ فوجی برتری کھوتا جا رہا ہے۔دونوں گروہ دو مقام پر مقابلہ آرائی میں مصروف ہیں۔
روس ویوکرین جنگ میں روس کو جنگی برتری حاصل ہے۔اسرائیل وفلسطین جنگ میں اسرائیل فتح حاصل نہ کر سکا،اگرچہ اس نے لاکھوں عوام کا قتل عام کیا۔بد قسمتی سے جون کی بارہ روزہ جنگ میں ایران نے اسرائیل کو شکست فاش دی۔یہ امریکہ،یورپ واسرائیل کی شکست ہے۔
عالمی منظر نامہ بدلتا جا رہا ہے۔دنیا کے جن ملکوں سے امریکا مقابلہ آرائی کی بات کرتا ہے،وہ ممالک اس کے سامنے گردن نہیں جھکا رہے ہیں،بلکہ وہ چین وروس سے مدد لے کر مقابلہ کے لئے ہتھیار اٹھا رہے ہیں،یہ امریکی زوال کی واضح نشانی پے۔اب دنیا کے ممالک میں امریکہ ویورپ واسرائیل سازشیں کرکے اپنے عظیم ہونے کا خواب دیکھ رہے پیں۔متعدد ملکوں میں بغاوت کی سازش ہو رہی ہے۔شام میں بغاوت ہو چکی ہے۔
شام میں اس مغربی بغاوت کو سنی و شیعہ کی بغاوت کا نام دیا گیا،حالاں کہ داعش کے لوگ سنی نہیں،بلکہ وہابی ہیں اور عالمی اصطلاح میں شیعہ کے علاوہ دیگر تمام فرقوں کو سنی ہی کہا جاتا ہے۔امریکہ،یورپ واسرائیل کی سازشیں جاری ہیں اور چین وروس وایران وشمالی کوریا بھی اپنا گروپ بڑا کرنے کی کوشش میں ہیں اور فوجی برتری کے لئے حکمت عملی اپنا رہے ہیں۔ابھی بورڈ پر امریکہ کو ہی سپر پاور لکھا جاتا ہے،لیکن وہ خود لڑکھڑا رہا ہے۔وہان شٹ ڈاؤن پیریڈ چل رہا ہے۔اندرونی وبیرونی حالات خراب ہیں۔عوام اور حکومت میں دوری بڑھتی جا رہی ہے۔اسرائیلی سازشیں کمزور ہوتی جا رہی ہیں۔نیویارک کے میئر کے الیکشن میں زہران ممدانی کی فتح یابی بھی اسرائیلی لابی کے لئے پریشان کن ہے۔ممدانی جیسے لوگ امریکہ کی داخلی وخارجی پالیسی پر اثر انداز ہوں گے اور سپر پاور کی بجائے ملک کی خوش حالی کی طرف لوگوں کا ذہن موڑ دیں گے،کیوں کہ دنیا میں دادا گیری کرنے سے امریکیوں کا بھلا نہیں ہو رہا ہے۔امریکی عوام کو بھی یہ بات سمجھ میں آنے لگی ہے۔
طارق انور مصباحی
جاری کردہ:11:نومبر 2025
(1)عصر حاضر میں تحقیق و تدقیق کے نام پر خلاف اسلام افکار ونظریات پھیلائے جا رہے ہیں۔یہ کم علمی کا زمانہ ہے،لیکن لوگ اس طرح بات کرتے ہیں کہ غزالی و رازی بھی ان کے سامنے طفل مکتب معلوم ہوتےہیں۔صالح فکر افراد کی بھی ایک کثیر تعداد ہے،لیکن ان میں سے اکثر حضرات صوم سکوت رکھے ہوئے ہیں۔شاید وہ بلا افطار ہی حالت روزہ میں قبر کی طرف روانہ ہو جائیں۔ایسے لوگوں سے بہت زیادہ بھلائی کی امید رکھنا بے کار ہے۔ہاں یہ لوگ اپنا ایمان بچا لے رہے ہیں۔یہ بھی بہت بڑا کمال ہے۔
(2)صدی رواں میں نوجوان طبقہ کا ایک بڑا حصہ تو انحراف کا شکار ہے ہی،بہت سے سفید ریش بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لینے کے خواہش مند ہے۔بعض سفید ریشوں کی تو صرف یہ خواہش ہے کہ کسی طرح امامت و قیادت کا تاج امام اہل سنت قدس سرہ العزیز کے سر سے اتار کر ان کے سر پر رکھ دیا جائے۔کیا ایسی خواہش پوری ہو سکتی ہے؟ مجھے ذرہ برابر ایسی امید نہیں۔دربار اعظم سے جن کو قیادت کا تاج عطا فرمایا جاتا ہے،وہ علم وفضل کے ساتھ اخلاص وتقوی میں بھی نادر ونایاب ہوتے ہیں۔ما وشما میں علم وفضل کی کمی،اخلاص کا علم خدا تعالی کو اور تقوی کا حال جگ ظاہر ہے۔
(3)یہ ضرور ہے کہ کوئی غلط نظریہ بھی رونما ہوتا ہے تو بہت سے لوگ اس کو ماننے لگتے ہیں۔توفیق خداوندی سے محروم لوگوں کا وجود ہر عہد میں رہا ہے۔کیا شیطان کے پیروکار دنیا میں موجود نہیں؟ ضرور ہیں،بلکہ دنیا میں اکثریت غیر مسلموں کی ہے۔وہ شیطان کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں۔
(4)عصر حاضر میں ایک مشکل ضرور ہے کہ جو قانون شرع کے مطابق اہل سنت وجماعت سے خارج بھی ہو تو لوگ اس کو قائد اہل سنت اور رہبر دین وملت سمجھتے ہیں۔یہ سخت بے احتیاطی کا زمانہ پے۔جو شخص اپنا ایمان بچا لے جائے،وہ بھی بہت عظیم ہے۔
(5)عہد رواں کا ایک قبیح فریب یہ بھی ہے کہ اعتقادی اختلاف کا نام ہی نہیں لیا جاتا ہے،حالاں کہ اعتقادی اختلافات بھی موجود ہیں۔لیکن محض فقہی وفرعی اختلاف کا ذکر کر کے لوگوں کو بے وقوف بنایا جاتا ہے۔لوگوں کو بے وقوف بنانے اور اعتقادی اختلاف کو چھپانے کی ضرورت نہیں،بلکہ اس کی اصلاح کی ضرورت ہے۔
اگر آپ باہمی اعتقادی اختلاف پر بحث کرنے کی ہمت و جراء ت نہیں رکھتے تو کم از کم یہ تو ظاہر کریں کہ ہمارا یہ نظریہ نہیں،لیکن اس میں بھی خطرہ ہے کہ غلط نظریہ والا ناراض ہو جائے گا اور اس کا واضح مطلب ہے کہ آپ رضائے خالق پر رضائے مخلوق کو ترجیح دیتے ہیں،پھر آپ کیسے تاجدار بن سکتے ہیں۔مریدین ومعتقدین کی واہ واہی سے قیادت نہیں ملتی۔اج غزالی و رازی کے مریدین و معتقدین موجود نہیں،لیکن ان نفوس قدسیہ کی محققانہ حیثیت مسلمات سے ہے:فافہم وتدبر واستقم کما امرت
مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما
دکھاوے کی اقتدا کا حکم کیا؟
(1)دیوبندیوں،وہابیوں،رافضیوں ودیگر بدمذہبوں کی اقتدا میں نماز کا حکم لوگوں کو معلوم ہے۔تفصیل ہمارے رسالہ:"فرقہ وہابیہ:اقسام واحکام"(باب ششم )میں مرقوم ہے۔اب ایک نیا سوال ابھرتا جا رہا ہے کہ کسی مجبوری کے سبب اقتدا کی نیت اور نماز کی نیت کے بغیر محض بدمذہبوں کے پیچھے اٹھک بیٹھک کرنے کا حکم کیا ہے؟
فتاوی شارح بخآری جلد دوم(ص380)اور جلد سوم(ص104) میں دکھاوے کی اقتدا کا حکم بیان کیا گیا ہے کہ بدمذہبوں کے پیچھے محض اٹھک بیٹھک کرنا نماز کی بے ادبی اور لوگوں کو دھوکا دینا ہے۔اسی طرح جنازہ کی نماز میں محض کسی دنیوی مصلحت کے سبب کھڑا ہو جانے کا حکم ہے۔چوں کہ یہ اعلانیہ فسق ہے تو اعلانیہ توبہ بھی کرنا ہو گا۔الغرض یہ گناہ کا کام اور اعلانیہ فسق ہے۔
یہاں شرعی مجبوری نہیں ہوتی،یعنی کوئی تلوار لے کر سر پر کھڑا نہیں رہتا کہ اقتدا نہ کروگے تو سر قلم کر دیا جائے یا پھر ہاتھ پاؤں کاٹ دیا جائے۔
حرمین طیبین میں نماز کے اوقات میں مساجد کے پاس نہ جائیں۔نماز ہو جانے کے بعد جائیں یا کوئی مناسب تدبیر اختیار کر لیں۔
(2)لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ فلاں شخص کافر ہے یا نہیں،یہ کیسے معلوم ہو گا۔جواب ہے کہ کافر کی اقتدا بھی نہیں کرنا ہے اور گمراہ کی اقتدا بھی نہیں کرنا ہے۔کافر کلامی کی اقتدا میں نماز باطل محض ہے اور کافر فقہی کی اقتدا میں بھی فقہی اصول کے مفتی بہ قول کے مطابق نماز باطل ہے۔گمراہ محض کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے۔
کافر جماعتوں کے صرف وہ افراد گمراہ محض مانے جائیں گے جو اقرار واظہار کرتے ہوں کہ وہ تمام کفریات سے بری ہیں اور اپنی جماعت کے کفریات کلامیہ وفقہیہ ودیگر کفریات کو کفر ہی مانتا ہے،جیسے وہ عند الشرع کفر ہیں اور اپنی جماعت کے کفار کلامی وفقہی ودیگر کفار کو بھی کافر ہی مانتا ہے،جیسا کہ وہ عند الشرع ہیں۔تب وہ گمراہ محض ہوں گے۔
آج تک کسی کافر جماعت کے کسی فرد کا اقرار واظہار ظاہر نہ ہوا۔پس ہر جماعت کا جو جماعتی حکم ہے،اسی حکم کے اعتبار سے اس کے افراد کی اقتدا اور شادی بیاہ سے احتراز کا حکم ہو گا اور فتاوی میں جماعتی حکم ہی بیان کیا جاتا ہے۔
کفر کلامی کے شخصی حکم کے لئے شخصی تفتیش کی ضرورت ہو گی۔کافر جماعتوں کے افراد پر کفر فقہی کا حکم نافذ ہونے کے لئے شخصی تفتیش کی ضرورت نہیں۔بلکہ فقہ کے ایک عام قانون کے اعتبار سے کفر فقہی کا حکم نافذ ہوتا ہے۔ہاں جو شخص مذکورہ طریقے پر کفریات وکفار سے جدا ہونے کا اعلان کر دے،اس پر کفر فقہی کا حکم نافذ نہیں ہو گا۔
امام اہل سنت قدس سرہ العزیز کے رسالہ ازالۃ العار میں مرتد فرقوں کے تیسرے طبقہ کی بحث میں تفصیل ہے۔
टिप्पणियाँ
एक टिप्पणी भेजें