La
’لا تقربوا‘ کا سائنسی اعجاز اور تصوراتی زنا کی کوانٹم حقیقت: کیا مشت زنی محض گناہ ہے یا ’نیورولوجیکل خودکشی‘؟ - بلال شوکت آزاد اکیسویں صدی کے اس پرفتن دور میں، جہاں "آزادی" کے نام پر عریانیت کو کلچر بنا دیا گیا ہے، وہاں اسلام کا ایک حکم آج بھی ہمارے لیے حیرت اور تحقیق کا مرکز بنا ہوا ہے۔ قرآن نے یہ نہیں کہا کہ "زنا مت کرو"، بلکہ قرآن نے ایک عجیب و غریب اصطلاح استعمال کی: "وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَىٰ" (اور زنا کے قریب بھی مت جاؤ) [الاسراء: 32]۔ ایک عام ذہن یہ سوچتا ہے کہ "قریب جانے" اور "کرنے" میں کیا فرق ہے؟ اگر میں آگ کے قریب کھڑا ہوں اور اس میں کود نہیں رہا، تو میں محفوظ ہوں۔ لیکن جدید "نیورو بائیولوجی" (Neurobiology) نے اس خوش فہمی کے پرخچے اڑا دیے ہیں۔ سائنس نے ثابت کر دیا ہے کہ انسانی دماغ کا "اسٹارٹ اپ میکانزم" عمل (Action) سے نہیں، بلکہ "محرک" (Cue) سے شروع ہوتا ہے۔ آج ہم ثابت کریں گے کہ "قریب جانا" (یعنی فحش بینی، مشت زنی، یا تصوراتی زنا) بذاتِ خود ایک مکمل تباہی ہے، جو بعض صورتوں م...