संदेश

Halala

 شاید 2003 کی بات ہے. بہت تیزابیت ہوگئی. ہر وقت خوراک کی نالی میں جلن رہنے لگی. تبخیر ، سردرد طبیعت بوجھل. گھر کے سامنے فیملی ڈاکٹر ہوا کرتے تھے. خدا غریق رحمت کرے. کچھ عرصہ ہوا ابدی گھر سدھار گئے ،انکے پاس گیا. پوچھا بہت کھاتے ہو. عرض کیا کہ ہرگز نہیں. پھر پوچھا کاروباری معاملات خراب ہے. عرض کیا جی بالکل ہیں. کہنے لگے ذہنی دباؤ سے معدہ پر اثر پڑتا. دباؤ کم لیں. خدا پر بھروسہ کریں. وغیرہ وغیرہ وہی باتیں جو ڈھارس بندھانے کے لیے ہم بھی لوگوں سے کرتے رہتے ہیں. ساتھ انہوں نے کچھ دوائیں دیں. جن میں ایک تو Omeprazole اور دوسری domperidone تھی. اس کے علاوہ بھی کچھ ادویات تھیں مگر کچھ آفاقہ نہ ہوا. بلکہ  مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی           والا معاملہ رہا. صحت دن بدن بگڑتی رہی. ہفتہ بھر کے تجربات کے بعد میں  ایک بڑے ہسپتال کے.               (Gastroenterology) کے ہیڈ کے نجی کلینک پر چلا گیا. بھاری فیس ادا کی. انہوں نے کافی وقت لگا کر تمام جانکاری حاصل کی. اور بہت سے ٹسٹ کروانے کا حکم صادر فرمایا. ساتھ کچھ ادو...

Naasbi

 اہلِ سنت کے نزدیک نصب (ناصبی) کے مفہوم کی وضاحت اہل سنت کے نزدیک (نصب) کی اصطلاح ایک نئی (بعد میں پیدا ہونے والی) اصطلاح ہے، جس کی کوئی اصل نہ قرآن کریم میں ملتی ہے، نہ نبی کریم ﷺ کی سنت میں، اور نہ ہی کسی صحابی کے قول میں۔ ہاں متقدمین ائمہ کے کلام میں (نصب) کا ذکر ملتا ہے۔ مگر فی زمانہ جو مخصوص مفہوم کے طور پر اس کو استعمال کیا جاتا ہے اُس لحاظ سے ائمہ متقدمین کے کلام میں نہیں ملتا ہے۔  چنانچہ امام علی بن المدینی رحمہ اللہ (م 234ھ) فرماتے ہیں: أخبرنا محمود بن عمر أخبرنا أبو بكر محمد بن إبراهيم الحداد قال حدثنا أبو طلحة قال حدثنا أبي قال سمعت علي بن المديني يقول : من قال فلان مشبه علمنا أنه جهمي ومن قال فلان مجبر علمنا أنه قدري ومن قال فلان ناصبي علمنا أنه رافضي. ہم سے بیان کیا محمود بن عمر نے، ان سے ابو بکر محمد بن ابراہیم الحداد نے، ان سے ابو طلحہ نے، ان سے اُن کے والد نے، وہ کہتے ہیں میں نے (امام) علی بن المدینی کو یہ کہتے ہوئے سنا: جو شخص یہ کہے کہ فلاں (مشبّہ) ہے، ہم جان لیتے ہیں کہ وہ (جہمی) ہے، اور جو یہ کہے کہ فلاں (مجبر) ہے، ہم جان لیتے ہیں کہ وہ (قدری) ہے، اور جو یہ...

Creater

 اس (world) کا ایک (creator) ضرور ہے جس کا انکار ممکن نہیں۔ اس دنیا کا ایک بنانے والا ضرور ہے اور اس کا انکار کرنا ممکن نہیں کیوں کہ یہ دنیا خود بہ خود نہیں بنی بلکہ یہ (دنیا) حادث ہے یعنی یہ پہلے نہ تھی بعد میں اس کو بنایا گیا۔ اور جس ذات نے اس کو بنایا وہ اس دنیا سے پہلے بھی موجود تھا۔  اس کے دلائل ہم اپنے امام سے نقل کرتے ہیں۔ ہمارے امام ابو منصور الماتریدی الانصاری رحمہ اللہ (م 333ھ) فرماتے ہیں: قال أبو منصور رحمه الله : ثم الدليل على أن للعالم محدثاً أنه ثبت حدثه بما بينا، وبما لا يُوجد شيء منه في الشاهد يجتمع بنفسه ويفرق، ثبت أن ذلك كان بغيره، والله الموفق. والثاني أن العالم لو كان بنفسه لم يكن وقتاً أحق به من وقت، ولا حال أولى به من حال، ولا صفة أليق به من صفة، وإذا كان على أوقات وأحوال وصفات مختلفة ثبت أنه لم يكن به، ولو كان لجاز أن يكون كل شيء لنفسه أحوالاً هي أحسن الأحوال والصفات وخيرها فيبطل به الشرور والقبائح، فدل وجود ذلك على كونه بغيره، والله الموفق. شیخ امام ابو منصور رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر اس بات کی دلیل کہ اس عالم کا کوئی پیدا کرنے والا ہے یہ ہے کہ اس کا حا...

Ajib

 « کیا زمین کے نیچے دوسری زمین پر لوگ آباد ہیں »  °°° کبھی لگتا ہے اس جگہ پہلے آیا ہوں جبکہ ایسا نہیں ہوتا اس کی کیا وجہ ہوتی ہے °°° #عجائباتِ_عالم 40  *دائیں طرف* والی تصویر عراق کے ایک صحراء کی ہے جہاں صحراء میں زمین کی گہرائی کے اندر جنگل دریافت ہوا  *بائیں طرف* والی تصویر چائنہ کی ہے جہاں  زمین سے179 میٹر گہرائی میں ایک جنگل دریافت ہوا ہے زیرِ زمین الگ دنیاؤں کا وجود ممکن ہے بلکہ بعض اوقات اس کا ثبوت بھی ملتا ہے مگر وہ لوگ جن کا دنیا کے ذرائع ابلاغ پر قبضہ ہے انہوں نے یہ حقیقتیں چھپا رکھی ہیں  *مثلاً دو سبز رنگ کے بہن بھائیوں کا قصہ مشہور ہے* جو زمین کے اندر سے آئے تھے وہ سبز رنگ کے تھے صرف سبزہ کھاتے تھے ہماری دنیا کی آب و ہوا موافق نہ آنے کی وجہ سے پہلے لڑکی مر گئی پھر چند سال لڑکا زندہ رہا وہ بھی مر گیا اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہٹلر زیرِ زمین دنیا کی کھوج میں فوجیں بھگاتا رہتا تھا جس میں اسے کچھ حد تک کامیابی بھی ملی تھی مزے کی بات ہے کہ حدیث پاک میں بھی اس طرف اشارہ ملتا ہے کہ `اللہ رب العزت کی کچھ مخلوقات ایسی جگہ آباد ہیں جہاں پر سورج کی روشنی نہ...

Israr

 تمام امت مسلمہ کی توجہ چاہتے ہیں  ### کیا آپ اس سنی نوجوان عالم کو جانتے ہیں جس نے یورپ و  امریکہ میں ملحدین کی دھجیاں بکھیر دی ہیں اگر نہیں تو  سنیں  شیخ اسرار رشید امریکہ میں مقیم ایک معروف سنی عالمِ دین، محقق اور داعی ہیں، جو جدید دور میں بالخصوص الحاد (Atheism)، سیکولرازم اور فکری شبہات کے خلاف علمی و عقلی دفاع کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ وہ اہلِ سنت و جماعت کے منہج پر قائم رہتے ہوئے مغربی معاشرے میں اسلام کی نمائندگی کرتے ہیں۔ مسکن: ریاستہائے متحدہ امریکہ منہج: اہلِ سنت و جماعت شناخت: عالم، خطیب، مناظر، محقق زبان: بالخصوص انگریزی (نوجوان نسل کیلئے) علمی و دعوتی خدمات 1. ردِّ الحاد (Atheism) خدا کے وجود، نبوت اور وحی پر ہونے والے ملحدانہ اعتراضات کا عقلی و فلسفیانہ جواب یونیورسٹی کیمپسز اور عوامی فورمز میں اوپن ڈائیلاگ اور Q&A سیشن 2. جدید فکری چیلنجز کا جواب سیکولرازم، لبرل ازم اور مذہب بیزار نظریات پر علمی تنقید مغربی فلسفہ اور منطق کی روشنی میں اسلام کا دفاع 3. نوجوانوں میں فکری رہنمائی وہ نوجوان جو سوشل میڈیا یا مغربی ماحول میں شکوک و شبہات کا شکار ہوت...

Usmani taymur

  بایذید یلدرم کی بیوی کے ساتھ کیا سلوک ہوا؟ سن 1402 میں عثمانیوں اور تیموری لشکر کے درمیان اناطولیہ میں جنگ ہوئی تھکی ہوئی اور پیاسی عثمانی فوج کو امیر تیمور کے نسبتا بڑے لشکر نے شکست دی بایذید اپنے چند سو محافظوں کے ساتھ پہاڑوں کی طرف نکل گیا لیکن تیموری لشکر کے سپاہیوں نے جلد ہی ڈھونڈ نکالا بایذید کے ساتھ اس کی Serbian بیوی ماریہ بھی تھی ایذید یلدرم نے چند سال پہلے Serbia والوں کو Battle of Kosovo میں شکست دی تھی اس کے بعد نیا شہزادہ Serbia کے تخت پر بیٹھا سلطنت عثمانیہ کی باجگزار ریاست ہونے کے ناطے شہزادے نے اپنی بہنوں میں سے ایک کو سلطان بایذید کو پیش کیا اس کا نام ماریہ اولیویرا تھا بایذید نے اس کے ساتھ شادی کی اس کی عمر اس وقت صرف سترہ سال تھی اور نہایت خوبصورت ہونے کی وجہ سے اسے حرم میں اہم مقام حاصل ہو گیا سب سے اہم بات یہ کہ وہ اپنے آرتھوڈوکس عیسائیت پر قائم رہی اس کی حکومتی معاملات میں بھی کافی اثر و رسوخ تھا امیر تیمور کے حملے سے پہلے وہ کئی سال آپس میں ہنسی خوشی رہے ب امیر تیمور کے ساتھ جنگ کا معاملہ پیش آیا تو تاریخ دان سوال اٹھاتے ہیں کہ ایک اہم ترین جنگ میں سلط...

Jahannam

  مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما  کلمہ گویان اسلام کی ایمانی حالت اور جہنم کے دروازے  (1)بعض مذہبی رہنماؤں نے بتا دیا کہ قرآن چالیس پارہ تھا،بہت سے لوگ مان گئے۔کسی نے کہا کہ نماز تین ہی ہے۔بعض وگ مان لئے۔کسی نے کہا کہ میں امام مہدی ہوں۔بعض لوگوں نے قبول کر لیا۔کسی نے کہا۔میں نبی ہوں،بعض لوگ قبول کر لئے۔ (2)حضور اقدس سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اقدس کے بعد ہی لوگ جھوٹے مدعیان نبوت کو مان کر اور زکات کا انکار کر کے اس قدر کثیر تعداد میں مرتد ہو گئے کہ روئے زمین پر صرف تین مسجدوں میں نماز با جماعت ہوتی تھی۔کعبہ شریف،مسجد نبوی اور مسجد جواثی(بحرین) یہ خیر القرون کا حال تھا۔ (3)ہاں،کسی عہد میں اسلام بالکل ختم نہیں ہو گا۔اللہ تعالی ایک جماعت کو حق پر قائم رکھے گا اور وہ طبقہ باطل سے مقابلہ آرائی کرتا رہے گا۔اسی کا نام اہل سنت وجماعت اور سواد اعظم ہے۔ (4)اہل سنت وجماعت مجموعی طور پر حق پر ہی قائم رہیں گے۔ہاں،اس کے بعض افراد غلط راہ پر جا سکتے ہیں،خواہ وہ عوام میں سے ہو یا مذہبی رہنماوں میں سے۔حصرت حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ کا شاگرد واصل بن عطا جو معتزلی بن گیا،وہ عوام...

Nooh

  حضرت نوح علیہ السلام کا اسمِ گرامی یشکریا عبدالغفار ہے اور آپ حضرت ادریس علیہ السلام کے پڑپوتے تھے، آپ کا لقب"نوح" اس لئے ہوا کہ آپ کثرت سے گریہ وزاری کیا کرتے تھے۔چالیس یا پچاس سال کی عمر میں آپ نبوت سے سرفراز فرمائے گئے اور 950سال آپ اپنی قوم کو دعوت فرماتے رہے اور طوفان کے بعد ساٹھ برس دنیا میں رہے تو آپ کی عمر ایک ہزار پچاس سال کی ہوئی۔ مذہبی اختلاف کی ابتداء کب ہوئی؟ مذھبی اختلاف کی ابتداء سے متعلق مفسرین نے کئیں اقوال ذکر کئے ہیں، ان میں سے ایک قول یہ ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے تک لوگ ایک دین پرر ہے، پھر ان میں اختلاف واقع ہوا تو حضرت نوح علیہ السلام ان کی طرف مبعوث فرمائے گئے، دوسرا قول یہ ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے کشتی سے اُترنے کے وقت سب لوگ ایک دین پر تھے۔ جب اللہ پاک نے حضرت نوح علیہ السلام کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا:اے میری قوم! میں تمہیں اللہ کے حکم کی مخالفت کرنے اور اس کے علاوہ کسی اور کی عبادت کرنے پر اللہ کے عذاب کا صریح ڈر سنانے والا ہوں۔ آپ نے اپنی قوم کو عبادتِ الہی کی طرف دعوت دیتے ہوئے فرمایا: اے میری قوم!ایما...

Qaume lut

  قومِ لوط سے ’پرائڈ منتھ‘ تک: فطرت سے بغاوت کا حیاتیاتی اور ارتقائی انجام! - بلال شوکت آزاد انسانی تاریخ میں کچھ جرائم ایسے ہوتے ہیں جو صرف "فرد" کو نقصان پہنچاتے ہیں، اور کچھ جرائم ایسے ہوتے ہیں جو پوری "نوعِ انسانی" (Human Species) کے وجود کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں۔  قومِ لوط کا عمل، جسے آج کل لبرلز LGBTQIA+ کی لبرل اصطلاحات کے پیچھے چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں، کوئی "ذاتی پسند" یا "محبت" کا معاملہ نہیں تھا، بلکہ یہ "حیاتیاتی خودکشی" (Biological Suicide) کی وہ پہلی کوشش تھی جس نے انسانی ارتقاء اور بقا کے بنیادی اصولوں کو چیلنج کیا تھا۔  آج مغرب جس چیز کو "ترقی" اور "آزادی" کہہ کر بیچ رہا ہے، بائیولوجی اسے "Evolutionary Dead-end" (ارتقائی بند گلی) کہتی ہے۔  اگر ہم جذبات اور نعروں سے ہٹ کر، خالص سائنسی اور منطقی بنیادوں پر اس کا جائزہ لیں، تو ہمیں معلوم ہوگا کہ یہ تحریکیں انسانیت کو آزادی دینے نہیں، بلکہ اسے "معدوم" (Extinct) کرنے آئی ہیں۔ سب سے پہلے اس "ہم جنس پرستی" (Homosexuality) کے سائ...

wahabi

  وہابی طائفہ کیا ہے؟ وہابی سلفیّت ایک ایسا گروہ ہے جو اسلام سے نسبت تو رکھتا ہے، مگر اس نے خود مسلمانوں کے خلاف خروج کیا۔ اس نے امتِ مسلمہ کو دو حصّوں میں تقسیم کر دیا: یا تو کوئی کافر و مشرک ہے، یا پھر بدعتی اور گمراہ۔ انہوں نے بدعات کے خلاف جنگ کا نعرہ بلند کیا، حالانکہ ان کے اپنے منہج کی بنیاد ہی ایک نہایت خطرناک بدعت پر ہے، اور وہ ہے بغیر معتبر دلیل کے تکفیر اور تبديع کرنا، نیز تشبیہ اور تجسیم کا عقیدہ رکھنا۔ مسلمانوں کی تکفیر کی بدعت، امت کی تاریخ میں پیدا ہونے والی سب سے خطرناک بدعت ہے، اسی طرح ایسے شخص کو بدعتی قرار دینا جو درحقیقت بدعتی نہ ہو۔ ان کا منہج چند اصولوں پر قائم ہے، جن میں نمایاں یہ ہیں: 1) کتاب و سنت کے ظاہری الفاظ کو اپنے مخصوص فہم کے مطابق لینا، معتبر علماء کی شروحات کی طرف رجوع نہ کرنا، اور نہ ہی اُن صحیح اسناد کو ملحوظ رکھنا جن پر صدیوں سے فقہاء اور محدثین کے مناہج قائم ہیں۔ 2) تکفیر اور تبديع میں اس حد تک توسع اختیار کرنا جس کی مثال مسلمانوں کی تاریخ میں پہلے نہیں ملتی۔ اس فرقے نے اپنی تاریخی مسیر کا آغاز اہلِ طائف پر حملے سے کیا، اور وہاں ایک قتلِ عام برپ...

Mulhid

 دہلی میں ہونے والے کل کے مباحثے کے بعد ملحدین کی جانب سے ایک پرانا سوال نئے پیرائے میں اچھالا جا رہا ہے، اور جس میں ہمارے شوقیہ لبرلز بھی پیش پیش ہیں، وہ یہ ہے کہ: غزہ میں بچوں کو قتل کیا جا رہا ہے، اگر خدا ہے تو پھر کہاں ہے؟ بظاہر یہ سوال جذباتی معلوم ہوتا ہے، مگر جب اسے منطق کے ترازو پر تولا جائے تو ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ جب تمہارے نزدیک خیر و شر کا معیار میجورٹی کی رائے ہے، تو پھر غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک میجورٹی کے ہاتھوں ہو رہا ہے، اسی کی پشت پناہی سے ہو رہا ہے، اور اسی کی جانب سے اسے سیاسی، اخلاقی اور قانونی جواز بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔ تمہاری اپنی منطق کی رو سے تو یہ ظلم، ظلم ہی نہیں ٹھہرتا۔ پس ظلم کا مقدمہ قائم کرنے کے لیے پہلے تمہیں ایک "مطلق انصاف" کے وجود کو ماننا ہوگا، جو خدا کے وجود کو مانے بغیر ممکن نہیں۔ اور اگر اپنی ہی منطق سے روگردانی کرتے ہوئے تم اسے ظلم تسلیم کرتے ہو، تو پھر خدا کے وجود پر سوال اٹھانے سے پہلے انسانیت کے وجود پر سوال اٹھاؤ۔ اتنی سفاکیت، وحشت اور درندگی کے باوجود اگر انسانیت کا وجود مانا جاتا ہے، تو پھر وہ کہ...

Urop ki taqat

 موہاکس کی جنگ: وہ فیصلہ کن جنگ جس نے یورپ کی فوجی طاقت کا غرور خاک میں ملا دیا جب میں نے یہ واقعہ پہلی بار پڑھا تو مجھے لگا کہ شاید یہ کوئی کہانی ہے۔ لیکن جب میں نے مغربی ذرائع اور انٹرنیٹ سے اس کی تصدیق کی تو میں حیران رہ گیا۔ یہ واقعہ یورپ میں مشہور ہے کیونکہ اس میں ہنگری کا بادشاہ، ہزاروں نواب اور بے شمار فوجی مارے گئے تھے۔ آج بھی وہاں ان کی قبریں ہیں جنہیں لوگ دیکھنے جاتے ہیں۔ یہ ایک اصلی جنگ تھی جسے ہمارے سکولوں میں پڑھانا چاہیے تھا اور ہر سال اس کا ذکر ہونا چاہیے تھا۔ اسی جنگ سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ سلطنت عثمانیہ کو تاریخ میں کیوں برا بنا کر پیش کیا گیا۔ اور یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ تاریخ کو مسخ کر کے اسے "مرد بیمار" (ترکی) کی وراثت کیوں بتایا گیا۔ یہ کوئی عام جنگ نہیں تھی، بلکہ ایک بہت بڑی تباہی تھی! یہ تھیموہاکس کی جنگ۔ ایسی جنگ جسے یورپ آج تک بھول نہیں پایا۔ کیوں لڑی گئی جنگ؟ عثمانی سلطان سلیمان القانونی نے اپنا سفیر ہنگری کے بادشاہ کے پاس ٹیکس(جزیہ) لینے بھیجا۔ اس وقت ہنگری یورپ کی عیسائی طاقتوں کا مضبوط قلعہ تھا۔ پوپ (عیسائیوں کے بڑے پادری) کے کہنے پر ہنگری کے بادشاہ ...

Waqt

 مغل شہزادوں کی نیند، گورے کے دفاتر اور ہمارے بند بازار: زوال کی نفسیات تاریخ کے اوراق پلٹیں تو ایک عبرت ناک منظر ابھرتا ہے جو آج بھی ہمارے حال کا آئینہ ہے۔ مغل دور کے آخری ایام میں، جب زوال کی پرچھائیاں دہلی کی فصیلوں کو چھو رہی تھیں، شہزادے رات بھر کی محفلوں کی تھکن اتارنے کے لیے پو پھٹے "خمار" کی وادیوں میں پناہ لیتے تھے۔ عین اسی وقت، سات سمندر پار لندن کی دھند میں ایک برطانوی افسر سورج کی پہلی کرن کے ساتھ اپنے دفتر کا چراغ روشن کر چکا ہوتا تھا۔ یہ محض دو انسانوں کا فرق نہیں تھا بلکہ یہ دو متصادم رویوں کا ٹکراؤ تھا۔ ایک طرف وہ ذہن تھا جو کائنات کے فطری توازن یعنی "روشنی" کے ساتھ قدم ملا کر چلنا جانتا تھا، اور دوسری طرف وہ طبقہ جو رات کی تاریکی میں کھو کر دن سے آنکھیں چرا رہا تھا۔ یہی وہ نادیدہ لکیر تھی جس نے سلطنتوں کے مقدر بدل دیے۔ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں تب نہیں ہارتیں جب ان کے پاس وسائل ختم ہو جائیں، بلکہ تب ہارتیں ہیں جب وہ "وقت" کی قدر کھو بیٹھتی ہیں۔ 1. الہامی حکمت اور فطرت کا پکار اسلامی نقطہ نظر سے دیکھیں تو اللہ تعالیٰ نے سورۃ النباء میں فرمایا:...

Saljuq

 سلجوقی سلطنت کے وزیر نظام الملک نے مدرسہ نظامیہ کی بنیاد رکھی تو کثیر تعداد میں طلباء کی داخلہ لیا ۔ چند سال تو بہت علمی ماحول رہا مگر آہستہ آہستہ طلباء کے دینی ذوق شوق میں کمی آتی گئی ۔ کسی نے نظام الملک سے شکایت کی کہ آپ طلباء کی سہولت کے لئے اتنی کثیر رقم خرچ کر رہے ہیں مگر اس کا کچھ خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہو رہا۔  نظام الملک نے صحیح صورتحال معلوم کرنے کیلئے ایک دن بھیس بدلا اور عشاء کے بعد مدرسہ پہنچ گیا۔ دیکھا کہ طلباء تکرار کے لئے دو دو اور تین تین کی ٹولیوں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ تو نظام الملک نے ایک طالب علم کے پاس جاکر سلام کرنے کے بعد  پوچھا کہ آپ یہاں کس غرض سے آئے ہو ؟ طالبعلم نے جواب دیا کہ علم حاصل کرنے کیلئے۔ پوچھا، کس لئے علم حاصل کرنا چاہتے ہو ؟ طالبعلم نے کہا، میرے والد بڑے مفتی ہیں میں علم حاصل کرنے کے بعد انکی جگہ سنبھالوں گا۔  نظام الملک نے دوسرے طالبعلم سے پوچھا کہ آپ کیوں علم حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ اس نے کہا کہ میرے والد فلاں مسجد کے خطیب ہیں، میں علم حاصل کرنے کے بعد خطابت کا منصب سنبھالوں گا ۔ نظام الملک مختلف طلباء کے پاس جا جا کر یہی سوال پ...

IbnulArqbi

 شیخِ اکبر محی الدین ابنِ عربی قدس اللہ سرّہ کی ایک کرامت (ایک مُلحد فلسفی کے ساتھ مکاشفہ) شیخ اکبر محی الدین ابنِ عربی علیہ الرحمہ بیان کرتے ہیں: سنہ 586 ہجری میں ایک فلسفی ہمارے پاس آیا جو نبوت کا انکار کرتا تھا، اسی انداز پر جس طرح کچھ لوگ انبیاء کی شان میں تنقیص کرتے ہیں۔ وہ ان معجزات کا بھی انکار کرتا تھا جو انبیاء علیہم السلام کے ہاتھ پر ظاہر ہوتے ہیں، اور کہتا تھا کہ حقائق کبھی تبدیل نہیں ہوتے۔ اس زمانے میں سخت سردی تھی اور ہمارے سامنے انگاروں سے بھرا بڑا منقل جل رہا تھا۔ اس منکر نے بات کرتے ہوئے کہا: "عام لوگ یہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو آگ نے انہیں نہیں جلایا۔ لیکن آگ تو اپنی فطرت کے مطابق جلانے والی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن میں جس آگ کا ذکر ہے وہ نمرود کے غصے اور قہر کی آگ تھی، اصل آگ نہیں تھی۔" جب وہ اپنی بات ختم کرچکا تو حاضرین میں سے ایک (یعنی خود شیخ محی الدین) نے اس سے فرمایا: "اگر میں تجھے اس ظاہری آگ میں اللہ کے اس بیان کی سچائی دکھا دوں کہ اس نے ابراہیم علیہ السلام پر آگ کو ٹھنڈا اور سلامتی بنا دیا تھا—اور میں اسی مقام م...

કડવી3

 « کچھ کڑوی حقیقتیں جہاں بولنا سخت مگر ضروری ہے » #کامیاب_خواتین 46 یہ زمانہ دھوکے *فریب کی کثرت* کا زمانہ ہے خواتین کی طبعیت میں *ضعف و جذب* { قبول کرنے }کا مادہ زیادہ ہوتا ہے  خصوصاً مذہبی طالبات جلد متاثر ہوتی ہیں پھر جلد بہک جاتی ہیں یہ عموماً اندازِ بیاں و طرزِ تدریس سے بہت متاثر ہوتی ہیں پھر جس سے متاثر ہیں خواہ وہ اخلاقی طور پر حیوانیت سے بھی نیچے شیطانیت سے لتھڑی ہوں متاثر ہونے والی کے نزدیک وہ عالمہ فاضلہ بلکہ ولیہ ہے  `ان کی اس متاثر ہونے والی عادت کو دیکھ کر بڑی آسانی سے یہ بات سمجھ آ جاتی ہے کہ کثیر خواتین دجال کی پیروکار کیوں ہوں گی` ایسے نت نئے قصے سننے کو ملتے ہیں   *ایک معلمہ جسے بولنے کی مہارت حاصل ہے اسی مہارت کا فائدہ اٹھا کر مذہبی حلقوں میں اپنا نام پیدا کیا*  اور پھر مَردوں کے روابط بڑھائے  لچھن دکھائے مکھن لگائے  اپنی مظلومیت کے افسانے گھڑ گھڑ کے سنائے  `کثیر مرد بہکائے اور پھر بیک وقت چار نکاح فرمائے`  اور ہر ایک سے بطور بیوی جیبوں سے پیسے نکلوائے  `دو چیزیں انسان کا ایمان خراب کر دیتی ہیں` پیسے کی طلب اور شہر...

Pukar

محمد علی فیضی کی حمایت میں ابو حنظلہ مفتی بلال انور پرنیوی صاحب کے فتوے کو ترجیح دینے والوں کے سامنے میں مفتی مذکور کا ایک خاص فتوی پیش کرنا چاہتا ہوں  تاکہ یہ معلوم ہو کہ حمایت کس وجہ سے ہو رہی ہے اور مفتی مذکور کے موقف کو موقف تاج الشریعہ کہنے والوں سے میرا سوال ہے کہ جاندار کی ویڈیو کے سلسلے میں مفتی مذکور کا فتویٰ کیوں معتبر نہیں ؟ اور بالخصوص اس فتوے کو کتنے کو کتنے لوگ قبول کرنے کے لیے تیار ہیں جسے میں پیش کرنا چاہتا ہوں  ابھی میں اسے عام نہیں کرنا چاہتا جسے جاننا ہو میں اسے پرسنل میں بھیج سکتا ہوں  مفتی بلال انور رضوی پرنیوی صاحب متنازع فیہ شعر سے متعلق جواب دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: "جواب : اس کلام کا پڑھنا بلا شبہ جائز ہے۔ وہ لفظ جو محل استشہاد ہے، اس میں ایسی شرعی قباحت نہیں کہ ناجائز و حرام کا قول کیا جائے۔ یہاں شاعر نے 'زہرا کے بابا' برائے توسل استعمال کیا ہے۔ اسے یوں سمجھیں کہ کوئی کسی معظم کی بارگاہ میں فریاد لے کر جاتا ہے تو کسی ایسی ذات کا وسیلہ تلاش کرتا ہے جو اس معظم کا قریبی اور محبوب ہو اور اسی کے نام سے اپنی ضرورت طلب کرتا ہے۔ لہذا یا ابا فاطمہ، یا ...

Kamyabi

 *रातों को जाग कर दिन में सोने वाली क़ौम का अंजाम* बहादुर शाह ज़फर के सारे शहजा़दों के सर काट कर उसके सामने क्यों पेश किए गए? क़ब्र के लिए ज़मीन की जगह क्यों ना मिली? आज भी उसकी नस्ल के बचे खुचे लोग भीख मांगते फिरते हैं? क्यों??? पढ़ें और अपनी नस्ल को भी समझाएं.. *तबाही 1 दिन में नहीं आ जाती..* *सुबह देर से जागने वाले लोग नीचे लिखी गई पोस्ट को ध्यान से पढ़ें..* यह दौर लगभग 1850 ई का है जगह दिल्ली है , वक्त़ सुबह के 3:30 बजे का है सिविल लाइन में बिगुल बज चुका है..50 साल का कप्तान रॉबर्ट और 18 साल का लेफ्टेनन्ट हेनरी दोनों ड्रल के लिए जाग गए हैं.. 2 घंटे बाद सूरज निकलने के वक्त़ अंग्रेज सिविलियन, फौजी भी जागकर वरज़िश कर रहे हैं,अंग्रेज़ औ़रतें घुड़सवारी के लिए निकल गई हैं.. 7:00 बजे अंग्रेज़ मजिस्ट्रेट ऑफिसों में अपनी अपनी कुर्सियों पर बैठ चुके हैं.. ईस्ट इंडिया कंपनी का सफी़र दरबारी  सरथामस मिटकाफ दोपहर तक काम का अक्सर हिस्सा ख़त्म कर चुका है कोतवाली और शाही दरबार के इ़लाकों का जवाब दिया जा चुका है बहादुर शाह ज़फर के ताजा़ हा़लात की ख़बरें आगरा और कोलकाता भेज दी गयी हैं दिन के ...

Links hindi

 यहाँ कुछ हिंदी ब्लॉग्स या ब्लॉग पोस्ट्स के लिंक्स हैं, जहाँ BJP (भारतीय जनता पार्टी) की आलोचना या उसके खिलाफ विचार व्यक्त किए गए हैं। ध्यान दें कि ये पुराने ब्लॉग्स हैं और इनमें से कई अब सक्रिय नहीं हो सकते, क्योंकि ब्लॉगिंग का दौर अब सोशल मीडिया की ओर शिफ्ट हो गया है: 1. **भाजपा के घोटाले की लिस्ट** - BJP पर घोटालों के आरोप लगाते हुए एक पोस्ट।      लिंक: https://diliprathoresite.wordpress.com/2018/03/26/%E0%A4%AD%E0%A4%BE%E0%A4%9C%E0%A4%AA%E0%A4%BE-%E0%A4%95%E0%A5%87-%E0%A4%98%E0%A5%8B%E0%A4%9F%E0%A4%BE%E0%A4%B2%E0%A5%87-%E0%A4%95%E0%A5%80-%E0%A4%B2%E0%A4%BF%E0%A4%B8%E0%A5%8D%E0%A4%9F 2. **RAJ KUMAR ब्लॉग** - BJP की नीतियों और न्यायपालिका पर प्रभाव की आलोचना।      लिंक: https://rajkumarmulnivasi.blogspot.com/2019/05/?m=1 3. **Amrit Ukey ब्लॉग** - BJP पर दलितों और जातीय भेदभाव से जुड़ी आलोचना।      लिंक: http://amritlalukey.blogspot.com/2019/05/ ये मुख्य रूप से पुरानी पोस्ट्स हैं। वर्तमान में BJP की आलोचना अधिकतर न्यूज़ व...

Links

 آپ کی بیان کردہ تفصیل بالکل ایک دلچسپ اور گہرے مواد والے بلاگ یا چینل کی طرح لگتی ہے، جو قدیم حکمت سے جدید سائنس، فلسفہ، نفسیات، تاریخ اور مستقبل کے اسرار تک کا احاطہ کرتا ہو۔ اردو میں ایسے معیاری بلاگز یا ویب سائٹس محدود ہیں، لیکن کچھ اچھے آپشنز دستیاب ہیں جو ان موضوعات پر معلوماتی اور دلچسپ مواد پیش کرتے ہیں۔ یہاں چند منتخب لنکس ہیں: سائنس اور ٹیکنالوجی پر مرکوز: اردو سائنس بلاگ (حیرت سرائے خاک): سائنس، تاریخ، جغرافیہ، کائنات اور مستقبل کی ٹیکنالوجی پر تحقیقاتی اردو تحاریر۔ بہت معلوماتی اور دلچسپ۔ لنک: https://scienceurdu.wordpress.com/ اردو سائنس میگزین: جدید سائنس، ماحولیات اور ٹیکنالوجی پر اردو میں مواد۔ لنک: https://urdusciencemag.com/ گلوبل سائنس میگزین کے آرکائیو: اردو میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی پرانی اور نئی تحاریر کا خزانہ (انٹرنیٹ آرکائیو پر دستیاب)۔ لنک: https://archive.org/details/Darul_201902 فلسفہ، نفسیات اور گہرے موضوعات پر: اے ای میگزین (AE Magazine) کے اردو آرٹیکلز: نفسیات، سائنس، فلسفہ، تاریخ، ثقافت اور ذہنی صحت پر اردو مضامین۔ لنک: https://aemagazine.pk/categor...

La

’لا تقربوا‘ کا سائنسی اعجاز اور تصوراتی زنا کی کوانٹم حقیقت: کیا مشت زنی محض گناہ ہے یا ’نیورولوجیکل خودکشی‘؟ - بلال شوکت آزاد اکیسویں صدی کے اس پرفتن دور میں، جہاں "آزادی" کے نام پر عریانیت کو کلچر بنا دیا گیا ہے، وہاں اسلام کا ایک حکم آج بھی ہمارے لیے حیرت اور تحقیق کا مرکز بنا ہوا ہے۔  قرآن نے یہ نہیں کہا کہ  "زنا مت کرو"،  بلکہ قرآن نے ایک عجیب و غریب اصطلاح استعمال کی:  "وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَىٰ" (اور زنا کے قریب بھی مت جاؤ) [الاسراء: 32]۔  ایک عام ذہن یہ سوچتا ہے کہ "قریب جانے" اور "کرنے" میں کیا فرق ہے؟  اگر میں آگ کے قریب کھڑا ہوں اور اس میں کود نہیں رہا، تو میں محفوظ ہوں۔ لیکن جدید "نیورو بائیولوجی" (Neurobiology) نے اس خوش فہمی کے پرخچے اڑا دیے ہیں۔  سائنس نے ثابت کر دیا ہے کہ انسانی دماغ کا "اسٹارٹ اپ میکانزم" عمل (Action) سے نہیں، بلکہ "محرک" (Cue) سے شروع ہوتا ہے۔  آج ہم ثابت کریں گے کہ "قریب جانا" (یعنی فحش بینی، مشت زنی، یا تصوراتی زنا) بذاتِ خود ایک مکمل تباہی ہے، جو بعض صورتوں م...

Digr

(1)ہر مسلمان قرآن کو مانتا ہے اور قرآن مقدس میں آخرت کا صاف صریح بیان ہے۔اخرت ہم مسلمانوں کے لئے کھلی کتاب کی طرح ہے،لیکن ہم احساس نہیں کر پاتے،اسی لئے ہم لوگوں کا قدم گناہوں کی طرف بڑھ جاتا ہے۔آپ احساس کرتے رہیں،تاکہ گناہوں کی طرف دل مائل نہ ہو۔ (2)سب سے زیادہ قریب اللہ ورسول(عز وجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)ہیں،لیکن ہمیں شعور نہیں۔اگر صحیح طور پر ہم لوگ سمجھ جائیں تو ہم لوگ پابند شرع ہو جائیں۔ (الف)ارشاد الٰہی ہے:(ونحن اقرب الیہ من حبل الورید)(سورہ ق۔آیت 16) یعنی اللہ تعالی جل شانہ  بندوں کے بہت قریب ہے،یہاں تک کہ اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے،لیکن بات سمجھنے کی ہے۔اگر ہم یہ یاد رکھیں کہ اللہ تعالی ہمارے ہر عمل کو دیکھ رہا ہے تو گناہوں کی طرف بندوں کا اٹھا ہوا قدم بھی واپس آ سکتا ہے۔ (ب) ارشاد خداوندی ہے:(النبی اولی بالمؤمنین من انفسہم)(سورہ احزاب:آیت 6) یعنی تمہارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تمہارے بہت قریب ہیں،یہاں تک کہ تمہاری جانوں سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہیں۔ اگر بندہ صحیح طور پر سمجھ لے کہ اللہ ورسول ہمارے بہت قریب ہیں تو پھر ہر وقت چوکنا رہے اور گناہوں کی طرف قدم ہی...