संदेश

Inf

 امت کو عالم چاہیے تھا، انفلوئنسر نہیں! ✍️ سلیم یعفور قادری رضوی کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ اگر ہمارے اکابر علماء آج زندہ ہوتے اور مدارس کے نئے فارغ التحصیل نوجوانوں کو دیکھتے تو کیا محسوس کرتے؟ ایک نوجوان جس نے آٹھ دس سال قرآن، حدیث، فقہ اور عربی زبان کی تحصیل میں گزار دیے، جس کے والدین نے قربانیاں دیں، اساتذہ نے محنت کی، امت نے اس سے امیدیں وابستہ کیں، فراغت کے چند ماہ بعد اس کی سب سے بڑی فکر کیا ہے؟ کوئی نئی کتاب؟ کسی فن میں تخصص؟ تحقیق کا کوئی منصوبہ؟ کسی علمی مسئلے پر سنجیدہ مطالعہ؟ نہیں۔ اکثر اوقات اس کی سب سے بڑی فکر یہ ہوتی ہے کہ یوٹیوب چینل کیسے بڑھے گا، ریلز پر ویوز کیوں کم آگئے، فیس بک پیج کی ریچ کیسے بڑھے گی اور کون سا موضوع زیادہ وائرل ہوگا۔ مجھے سوشل میڈیا سے شکایت نہیں۔ شکایت اس بات سے ہے کہ ہم نے ذریعے کو مقصد بنا لیا ہے۔ ذرا تصور کیجیے۔ ایک نوجوان عالم صبح بیدار ہوتا ہے۔ موبائل کھولتا ہے۔ نوٹیفکیشن دیکھتا ہے۔ کمنٹس پڑھتا ہے۔ اپنی ویڈیو کی ریچ چیک کرتا ہے۔ دوسروں کی ویڈیوز دیکھتا ہے۔ نئے ٹرینڈز تلاش کرتا ہے۔ اور رات تک یہی سلسلہ جاری رہتا ہے۔ دن بھر مصروف رہنے کے با...

Qurbmi

 اسلام میں تصور قربانی ۔۔۔ـــــــــــــــــــــــ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ــــــــ۔۔ـ۔۔۔۔۔۔۔ـــــــــــ قربانی یہ اصل میں حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیہما السلام کی یادگار ہے۔ جنہوں نے حکم خداوندی کے سامنے اپنے سرمایہ زندگی کو بطیب خاطر نثار کردیا۔ جبکہ شیطان لعین نے ان عظیم ہستیوں کو تقرب الٰہی کی اس نعمت عظمی سے روکنے کے لیے حتی المقدور سعی بلیغ کی، لیکن نور الٰہی سے جگمگاتے ہوئے قلوب و اذہان کے سامنے اس کی ساری کوششیں اور حربے بےکار ثابت ہوئے اور شیطان رجیم نامراد اور ذلیل و رسوا ہوکر اوندھا منہ پلٹا۔جس کا ثبوت قرآن کریم و حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں جا بجا ملتا ہے۔ اور اب تک اہل ایمان اس پر عمل پیرا ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالی کو ان حضرات کی جذبہ ایثار اتنی پسند آئی کہ روز آخر تک آنے والے تمام مسلمانوں کے لیے قربانی لازم و ضروری قرار دیا گیا ۔ اور اس قربانی کی مقبولیت کا اندازہ اس سے بھی بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ جب علی الاطلاق لفظ قربانی کا تلفظ کیا جاتا ہے، تو اس وقت دیگر ساری قربانیوں سے قطع نظر سب سے پہلے حاشیہ خیال میں حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیہما السلام کی قربانی و ایثار کا...

Kamaal

#کمال_مولا_مسجد_فیصلہ: قانونی پیچیدگیاں، اسباق اور مستقبل کے اندیشے  گزشتہ جمعے کو جسٹس وجے کمار شکلا اور جسٹس آلوک اوستھی پر مشتمل مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے صوبے کے دھار میں واقع ہند-اسلامی طرز تعمیر کی گواہ، پر شکوہ اور تاریخی کمال مولا مسجد تنازع میں ہندو فریق کے دعوے کو صحیح مانتے ہوے یک طرفہ فیصلہ سنا دیا۔ اور کہا کہ اس پورے احاطے کی مذہبی حیثیت بھوج شالہ یعنی واگ دیوی (سرسوتی) مندر کی ہے اور یہ کہ پرمار خاندان کے راجا بھوج نے گیارہویں صدی عیسوی میں سنسکرت تعلیم کی درس گاہ کے طور پر اسے قائم کیا تھا۔ اس لیے کورٹ نے مسلمانوں کی نماز پر وہاں پابندی عائد کر دی ہے۔ تاریخی حیثیت: یہ مسجد چودہویں صدی عیسوی کے صوفی بزرگ حضرت کمال الدین چشتی علیہ الرحمہ (وصال: ١٣٣١ء) کے نام سے منسوب ہے۔ اسی سے متصل ان کا مزار پاک بھی ہے۔ مسجد کی تعمیر اس صدی کے اوائل میں سلطان علاء الدین خلجی کے مالوہ فتح کے بعد ہوئی تھی۔ تب عیان الملک ملتانی وہاں کے گورنر ہوا کرتے تھے۔ پھر صدی کے اواخر میں اس کی مرمت کا کچھ کام ہوا جب دلاور خان مالوہ کے گورنر مقرر ہوے تھے (دیکھیے ویکی پیڈیا). حکومت کی نظر...

Bngal

 #بنگال_کی_روشنی: کیا ملک کے مسلمان رہ نمائی حاصل کریں گے؟ کانگریس لیڈر گوپال کرشن گوکھلے (١٨٦٦-١٩١٥ء) کی طرف عموماً منسوب کیا جاتا ہے کہ انہوں نے ایک موقع پر کہا تھا،  "What Bengal thinks today, India thinks tomorrow." (بنگال جو آج سوچتا ہے، بھارت کل سوچے گا). درست بات یہ ہے کہ گوکھلے نے ١٩٠٥ء میں کانگریس کی بنارس نشست کے دوران یہ بات کچھ اس طرح کہی تھی:  "What educated Indians think today, the rest of India thinks tomorrow." یعنی: تعلیم یافتہ ہندوستانی جو آج سوچتے ہیں، پورا بھارت کل سوچے گا۔ مگر چوں کہ جب گوپال کرشن نے یہ کہا تھا، اس وقت بنگال میں رابندر ناتھ ٹیگور، سوامی وویکا نند، ایشور چندر ودیا ساگر، سبھاش چندر بوس اور قاضی نذر الاسلام جیسے انتہائی پڑھے لکھے اور وسیع الفکر لوگ موجود تھے، شاید اسی لیے مذکورہ قول میں 'تعلیم یافتہ ہندوستانی' کو 'بنگال' سے بدل دیا گیا۔ یہ تبدیلی چل پڑی اور اب تک چل رہی، بلکہ دوڑ رہی ہے۔ اور اس کی ایک وجہ ہے: آج بھی مغربی بنگال کی شرح خواندگی بھارت کی اوسط شرح خواندگی سے کہیں زیادہ ہے۔ بلا امتیاز مذہب و ملت، لوگوں ک...

Pentr

 बहुत साल पहले मेरे यहां एक पेंटर काम करता था  । आमतौर पर उनकी दिहाड़ी सुबह 9:00 से शाम 5:00 बजे तक होती है जिसमें दोपहर एक से दो बजे तक इनका लंच होता है । तो यह पेंटर भाई 10:00 बजे काम पर आया करता था , उसके बाद जाकर सामान चेक करता था फिर मेरे पास आकर बोलता भैया पुट्टी नहीं है , कभी प्राइमर नहीं है , कभी पेंट नहीं है ,  कभी ब्रश नहीं है ,  अर्थात रोज किसी न किसी सामान की कमी निकाल देता था । फिर मैं गुस्सा करता हूं की शाम को क्यों नहीं चेक करता है तो हंसने लग जाता ।  फिर मैं कहता कि चल मंगवा लेता हूं तो कहता कि भैया मैं ही ले आऊंगा अपने हिसाब से । मुझे पता है कि यह लोग खुद इसलिए खरीदने जाते हैं क्योंकि इनका कुछ कमीशन बन जाता है फिर भी मैं इन्हें खरीदने देता था वरना यह लोग सामान में कमी निकालते हैं कि आप डुप्लीकेट माल ले कर आ गए, इसकी पकड़ अच्छी नहीं है,  इसकी कवरेज अच्छी नहीं है आदि आदि । इस प्रकार लगभग 11 बजे बजे मेरा काम शुरू होता था।    2 घंटे बाद 1 से 2 के बीच लंच टाइम शुरू हो जाता था   वो भाई खाना तो 15 मिनट में खा लेता था लेकिन...

Maut

 موت کا علم ، راز و غیب ھونے کی حکمتیں!  از قلم: سعود احمد مقصود المدنی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ●  اولا : ’’موت‘‘ کوئی افسانہ یا کسی بشر کا نظریہ نہیں، یہ ایک اٹل حقیقت ہے جسے ثابت کرنے کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ، اور نہ ہی کسی کے پاس انکار کی کوئی گنجائش ہے ۔ "موت " اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ایسا مُحکَم اور ٹھوس نظام ہے جس سے کسی کے لئے مَفَر نہیں، موت کا عارضہ ہر ایک کو لاحق ہوگا، اور یہ کڑوا گھونٹ ہر ایک کو پینا ہوگا، ہر ایک کی موت کا وقت و جگہ بهى مقرر ہے ، کب کس کا وقت موعود آجائے؟ کسی کو خبر نہیں ہے ۔ چناںچہ کوئی رحم ِمادر میں ہی جاں بحق ہوجاتا ہے، تو کوئی پیدائش کے وقت۔ کوئی بچپن کی خوشگوار فضا میں ہنستے کھیلتے ، اہل و عیال کے ساتھ موج و مستیاں کرتے ہوئے دنیا کو خیرآباد کہہ جاتا ہے تو کوئی جوانی کے حسین دہلیز پر قدم رکھتے ہی بے شمار تمناؤں اور خواہشات کے ساتھ دفن ہو جاتا ہے، اور کوئی سن رشد کے مرحلہ میں اپنی کار کردگیوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے خوبصورت اثرات و تجربات چھوڑ کر دار فانی کو الوداع کہہ جاتا ہے ۔ ●●  عقیدۂ اسلام یہ ہے کہ دائمی حیات اور بقا صرف اللہ سبحان...

Siriya

 सीरियाई अरब फ़ौज, बल्कि कोई भी मुस्लिम फ़ौज को अमेरिका के सामने अपनी क़ुव्वत साबित करने की कोई ज़रूरत हीं नहीं हैं।  इसके बावजूद कुछ लोग शाहीनों की कार्रवाई को लेकर फेसबुक पर हलब के शेख़ मक़सूद और अशरफ़िया के हवाले से यह राग अलाप रहे हैं कि अमेरिका “जाँच” कर रहा है कि सीरियाई अरब फ़ौज मिलिशियाओं को कुचल सकती है या नहीं। जबकि हक़ीक़त इससे बिल्कुल मुख़्तलिफ़ है, अमेरिका यह बात पहले से जानता है कि अगर मौजूदा सीरियाई फ़ौज को पूरी आज़ादी मिल जाए, तो वह महज़ 48 घंटों में पूरे सीरिया को फिर से एक कर सकती है। इसकी ज़िंदा मिसाल उस वक़्त सामने आई, जब बाहरी दख़ल हटा और शामी सदर अहमद अल-शर्राअ की फ़ौज बश्शार अल-मलऊन के भगोड़े सैनिकों के दरमियान की रुकावट ख़त्म हो गई, नतीजा यह निकला कि सिर्फ़ 11 दिनों में तमाम इलाक़े आज़ाद हो गए। बश्शार अल-मलऊन के सैनिकों ने कोई संजीदा मुक़ाबला किया ही नहीं,  वे गोली चले बग़ैर ही दहशत के आलम में टूटकर बिखर गए। सुवैदा की मिसाल भी सबके सामने है, उस पर दो बार क़ब्ज़ा हुआ। एक मर्तबा सीरियाई फ़ौज ने कुछ ही घंटों में इलाक़ा अपने क़ब्ज़े में ले लिया, और दूस...

Iran

 ایران : جو جنگ سے نہ ٹوٹے اسے بغاوت سے توڑو!  تحریر محمد زاہد علی مرکزی  چیرمین تحریک علمائے بندیل کھنڈ  فی الحال ایران میں زبردست انقلابی سرگرمیاں دیکھی جارہی ہیں ،مظاہرین اس قدر مشتعل ہیں کہ اپنے مذہبی مقامات کے تقدس کا بھی خیال نہیں کر رہے ۔ یہ مظاہرے کرنسی میں بھاری گراوٹ اور مہنگائی کو لے کر شروع ہوے تھے لیکن یہ نہ صرف حکومت مخالف ہوے بل کہ مذہب مخالف بھی ہوگئے ہیں ۔ ایسے مظاہرین دنیا میں کہیں نہیں دیکھے جاتے کہ عوام ناراض حکومت سے ہو اور نشانہ مقدس مقامات کو بنائے ۔ قومی پرچم کو بھی گرا کر نذر آتش کر دیا ۔ اس لیے ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ یہ مظاہرین امریکی سپورٹڈ ہیں ورنہ ایسا ہرگز نہ کرتے ۔ 25 مساجد میں آگ زنی کی گئی ہے ،26 بینکوں پر حملہ کیا گیا ہے ۔48 فائر برگیڈ کی گاڑیاں جلا دی گئی ہیں اور اس کے عملے کو نقصان پہنچایا گیا ہے ۔ کچھ پولیس والوں کی موت کی بھی خبر ہے حکومتی اور غیر حکومتی املاک کو دانستہ بڑا نقصان پہنچایا گیا ہے ۔ ------- امام موسیٰ کاظم کا سبز قبہ نذر آتش! شیعہ حضرات اپنے اماموں سے کافی عقیدت رکھتے ہیں ایسے میں ایک جلیل القدر امام حضرت امام موسیٰ ک...

Bedalil

 خدا کسی دلیل سے سمجھا نہیں جا سکتا  اور کائنات کی ہر شی خدا کے وجود کی دلیل بھی ہے ! پہلے ایک آسان مثال ملاحظہ فرمائیں  کسی گھڑی کو دیکھ کر یہ کہنا کہ اس کا ایک بنانے والا ہے  ایک استدلالی اور استقرائی علم ہے یعنی  اس دلیل کی بنیاد ایک استقراء پر ہے وہ یہ ہے کہ ہر چیز کا ایک بنانے والا ہے تو گھڑی کا بھی ایک بنانے والا ہے اور اس کو دلیل بناکر گھڑی کا موجد مانا گیا  یہ استدلال ہے  مگر وہ بنانے والا کیسا ہے؟ انسان نے بنایا یا جن نے ؟ روبوٹ نے بنایا یا کسی نے اپنے ہاتھ سے؟  وہ ہاتھ مصنوعی تھے یا حقیقی ؟ یا محض برقی توانائی کی مدد سے گھڑی بنائی گئی ؟ جس طرح کوئی چیز  جلی ہے  تو اس کو جلانے والا ہونا چاہیے ! مگر وہ جلانے والا کیسا ہے؟  کون ہے؟  اور اس نے  کس طرح جلایا یہ اس دلیل سے نہیں جانا جا سکتا ہے ۔ یہی وہی بتا سکتا ہے جس نے جلایا ہے کہ اس نے کس طرح جلایا ہے ۔  وجود باری تعالیٰ کی جتنی بھی دلیلیں سب کا حاصل بس یہی ہے کہ کائنات موجود ہے تو اس کا ایک موجد ہے  جب یہ حادث ہے تو اس کا محدث ہے ۔ اور اگر وہ بھی حادث ہو ...

Pamisbahi

 #تجدُّد_کا_تہ_در_تہ_شَر_اور_ہمارا_تردّد  ✍️ پٹیل عبد الرحمٰن مصباحی، گجرات (انڈیا)  جب ہم کہتے ہیں اسلام عقل کے مطابق یے تو لوگ سمجھتے ہیں ریشنل ہے، جب ہم کہتے ہیں اسلام ایک فطری دین ہے تو لوگ سمجھتے ہیں نیچرل یے. جب ہم کہتے ہیں اسلام میں کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی فضیلت نہیں سوائے تقویٰ کے تو لوگ سمجھتے ہیں اسلام مساوات کی بات کرتا ہے. جب ہم کہتے ہیں دین میں کوئی جبر نہیں تو لوگ لبرل ازم کا تصور اٹھا لیتے ہیں. جب ہم کہتے ہیں اسلام ساری دنیا کے لیے ہے تو لوگ سمجھتے ہیں کہ اسلام گلوبلائزیشن کی دعوت دیتا ہے. جب ہم کہتے ہیں اسلام انسانیت کی فلاح کے لیے ہے تو لوگ سمجھتے ہیں کہ اسلام ہیومنزم کو سپورٹ کرتا ہے. جب ہم کہتے ہیں اسلام عورت کے رشتوں پر مبنی حقوق کو بیان کرتا ہے تو یوں گمان کیا جاتا ہے کہ اسلام فیمنزم کے ساتھ کھڑا ہے. جب ہم کہتے ہیں اسلام غریبوں مزدوروں کا حامی ہے تو لوگ اسے اشتراکیت کے ساتھ جوڑنے لگتے ہیں. جب ہم کہتے ہیں اسلام... تو لوگ سمجھتے ہیں... ھکذا.  درج بالا جملے ایک مرتبہ پڑھ چکے، دو بارہ پڑھیے، بلکہ بار بار کئی بار پڑھیے، یہ صرف جلمے نہیں ہیں، یہ ل...

Halala

 شاید 2003 کی بات ہے. بہت تیزابیت ہوگئی. ہر وقت خوراک کی نالی میں جلن رہنے لگی. تبخیر ، سردرد طبیعت بوجھل. گھر کے سامنے فیملی ڈاکٹر ہوا کرتے تھے. خدا غریق رحمت کرے. کچھ عرصہ ہوا ابدی گھر سدھار گئے ،انکے پاس گیا. پوچھا بہت کھاتے ہو. عرض کیا کہ ہرگز نہیں. پھر پوچھا کاروباری معاملات خراب ہے. عرض کیا جی بالکل ہیں. کہنے لگے ذہنی دباؤ سے معدہ پر اثر پڑتا. دباؤ کم لیں. خدا پر بھروسہ کریں. وغیرہ وغیرہ وہی باتیں جو ڈھارس بندھانے کے لیے ہم بھی لوگوں سے کرتے رہتے ہیں. ساتھ انہوں نے کچھ دوائیں دیں. جن میں ایک تو Omeprazole اور دوسری domperidone تھی. اس کے علاوہ بھی کچھ ادویات تھیں مگر کچھ آفاقہ نہ ہوا. بلکہ  مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی           والا معاملہ رہا. صحت دن بدن بگڑتی رہی. ہفتہ بھر کے تجربات کے بعد میں  ایک بڑے ہسپتال کے.               (Gastroenterology) کے ہیڈ کے نجی کلینک پر چلا گیا. بھاری فیس ادا کی. انہوں نے کافی وقت لگا کر تمام جانکاری حاصل کی. اور بہت سے ٹسٹ کروانے کا حکم صادر فرمایا. ساتھ کچھ ادو...

Naasbi

 اہلِ سنت کے نزدیک نصب (ناصبی) کے مفہوم کی وضاحت اہل سنت کے نزدیک (نصب) کی اصطلاح ایک نئی (بعد میں پیدا ہونے والی) اصطلاح ہے، جس کی کوئی اصل نہ قرآن کریم میں ملتی ہے، نہ نبی کریم ﷺ کی سنت میں، اور نہ ہی کسی صحابی کے قول میں۔ ہاں متقدمین ائمہ کے کلام میں (نصب) کا ذکر ملتا ہے۔ مگر فی زمانہ جو مخصوص مفہوم کے طور پر اس کو استعمال کیا جاتا ہے اُس لحاظ سے ائمہ متقدمین کے کلام میں نہیں ملتا ہے۔  چنانچہ امام علی بن المدینی رحمہ اللہ (م 234ھ) فرماتے ہیں: أخبرنا محمود بن عمر أخبرنا أبو بكر محمد بن إبراهيم الحداد قال حدثنا أبو طلحة قال حدثنا أبي قال سمعت علي بن المديني يقول : من قال فلان مشبه علمنا أنه جهمي ومن قال فلان مجبر علمنا أنه قدري ومن قال فلان ناصبي علمنا أنه رافضي. ہم سے بیان کیا محمود بن عمر نے، ان سے ابو بکر محمد بن ابراہیم الحداد نے، ان سے ابو طلحہ نے، ان سے اُن کے والد نے، وہ کہتے ہیں میں نے (امام) علی بن المدینی کو یہ کہتے ہوئے سنا: جو شخص یہ کہے کہ فلاں (مشبّہ) ہے، ہم جان لیتے ہیں کہ وہ (جہمی) ہے، اور جو یہ کہے کہ فلاں (مجبر) ہے، ہم جان لیتے ہیں کہ وہ (قدری) ہے، اور جو یہ...

Creater

 اس (world) کا ایک (creator) ضرور ہے جس کا انکار ممکن نہیں۔ اس دنیا کا ایک بنانے والا ضرور ہے اور اس کا انکار کرنا ممکن نہیں کیوں کہ یہ دنیا خود بہ خود نہیں بنی بلکہ یہ (دنیا) حادث ہے یعنی یہ پہلے نہ تھی بعد میں اس کو بنایا گیا۔ اور جس ذات نے اس کو بنایا وہ اس دنیا سے پہلے بھی موجود تھا۔  اس کے دلائل ہم اپنے امام سے نقل کرتے ہیں۔ ہمارے امام ابو منصور الماتریدی الانصاری رحمہ اللہ (م 333ھ) فرماتے ہیں: قال أبو منصور رحمه الله : ثم الدليل على أن للعالم محدثاً أنه ثبت حدثه بما بينا، وبما لا يُوجد شيء منه في الشاهد يجتمع بنفسه ويفرق، ثبت أن ذلك كان بغيره، والله الموفق. والثاني أن العالم لو كان بنفسه لم يكن وقتاً أحق به من وقت، ولا حال أولى به من حال، ولا صفة أليق به من صفة، وإذا كان على أوقات وأحوال وصفات مختلفة ثبت أنه لم يكن به، ولو كان لجاز أن يكون كل شيء لنفسه أحوالاً هي أحسن الأحوال والصفات وخيرها فيبطل به الشرور والقبائح، فدل وجود ذلك على كونه بغيره، والله الموفق. شیخ امام ابو منصور رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر اس بات کی دلیل کہ اس عالم کا کوئی پیدا کرنے والا ہے یہ ہے کہ اس کا حا...

Ajib

 « کیا زمین کے نیچے دوسری زمین پر لوگ آباد ہیں »  °°° کبھی لگتا ہے اس جگہ پہلے آیا ہوں جبکہ ایسا نہیں ہوتا اس کی کیا وجہ ہوتی ہے °°° #عجائباتِ_عالم 40  *دائیں طرف* والی تصویر عراق کے ایک صحراء کی ہے جہاں صحراء میں زمین کی گہرائی کے اندر جنگل دریافت ہوا  *بائیں طرف* والی تصویر چائنہ کی ہے جہاں  زمین سے179 میٹر گہرائی میں ایک جنگل دریافت ہوا ہے زیرِ زمین الگ دنیاؤں کا وجود ممکن ہے بلکہ بعض اوقات اس کا ثبوت بھی ملتا ہے مگر وہ لوگ جن کا دنیا کے ذرائع ابلاغ پر قبضہ ہے انہوں نے یہ حقیقتیں چھپا رکھی ہیں  *مثلاً دو سبز رنگ کے بہن بھائیوں کا قصہ مشہور ہے* جو زمین کے اندر سے آئے تھے وہ سبز رنگ کے تھے صرف سبزہ کھاتے تھے ہماری دنیا کی آب و ہوا موافق نہ آنے کی وجہ سے پہلے لڑکی مر گئی پھر چند سال لڑکا زندہ رہا وہ بھی مر گیا اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہٹلر زیرِ زمین دنیا کی کھوج میں فوجیں بھگاتا رہتا تھا جس میں اسے کچھ حد تک کامیابی بھی ملی تھی مزے کی بات ہے کہ حدیث پاک میں بھی اس طرف اشارہ ملتا ہے کہ `اللہ رب العزت کی کچھ مخلوقات ایسی جگہ آباد ہیں جہاں پر سورج کی روشنی نہ...

Israr

 تمام امت مسلمہ کی توجہ چاہتے ہیں  ### کیا آپ اس سنی نوجوان عالم کو جانتے ہیں جس نے یورپ و  امریکہ میں ملحدین کی دھجیاں بکھیر دی ہیں اگر نہیں تو  سنیں  شیخ اسرار رشید امریکہ میں مقیم ایک معروف سنی عالمِ دین، محقق اور داعی ہیں، جو جدید دور میں بالخصوص الحاد (Atheism)، سیکولرازم اور فکری شبہات کے خلاف علمی و عقلی دفاع کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ وہ اہلِ سنت و جماعت کے منہج پر قائم رہتے ہوئے مغربی معاشرے میں اسلام کی نمائندگی کرتے ہیں۔ مسکن: ریاستہائے متحدہ امریکہ منہج: اہلِ سنت و جماعت شناخت: عالم، خطیب، مناظر، محقق زبان: بالخصوص انگریزی (نوجوان نسل کیلئے) علمی و دعوتی خدمات 1. ردِّ الحاد (Atheism) خدا کے وجود، نبوت اور وحی پر ہونے والے ملحدانہ اعتراضات کا عقلی و فلسفیانہ جواب یونیورسٹی کیمپسز اور عوامی فورمز میں اوپن ڈائیلاگ اور Q&A سیشن 2. جدید فکری چیلنجز کا جواب سیکولرازم، لبرل ازم اور مذہب بیزار نظریات پر علمی تنقید مغربی فلسفہ اور منطق کی روشنی میں اسلام کا دفاع 3. نوجوانوں میں فکری رہنمائی وہ نوجوان جو سوشل میڈیا یا مغربی ماحول میں شکوک و شبہات کا شکار ہوت...

Usmani taymur

  بایذید یلدرم کی بیوی کے ساتھ کیا سلوک ہوا؟ سن 1402 میں عثمانیوں اور تیموری لشکر کے درمیان اناطولیہ میں جنگ ہوئی تھکی ہوئی اور پیاسی عثمانی فوج کو امیر تیمور کے نسبتا بڑے لشکر نے شکست دی بایذید اپنے چند سو محافظوں کے ساتھ پہاڑوں کی طرف نکل گیا لیکن تیموری لشکر کے سپاہیوں نے جلد ہی ڈھونڈ نکالا بایذید کے ساتھ اس کی Serbian بیوی ماریہ بھی تھی ایذید یلدرم نے چند سال پہلے Serbia والوں کو Battle of Kosovo میں شکست دی تھی اس کے بعد نیا شہزادہ Serbia کے تخت پر بیٹھا سلطنت عثمانیہ کی باجگزار ریاست ہونے کے ناطے شہزادے نے اپنی بہنوں میں سے ایک کو سلطان بایذید کو پیش کیا اس کا نام ماریہ اولیویرا تھا بایذید نے اس کے ساتھ شادی کی اس کی عمر اس وقت صرف سترہ سال تھی اور نہایت خوبصورت ہونے کی وجہ سے اسے حرم میں اہم مقام حاصل ہو گیا سب سے اہم بات یہ کہ وہ اپنے آرتھوڈوکس عیسائیت پر قائم رہی اس کی حکومتی معاملات میں بھی کافی اثر و رسوخ تھا امیر تیمور کے حملے سے پہلے وہ کئی سال آپس میں ہنسی خوشی رہے ب امیر تیمور کے ساتھ جنگ کا معاملہ پیش آیا تو تاریخ دان سوال اٹھاتے ہیں کہ ایک اہم ترین جنگ میں سلط...

Jahannam

  مبسملا وحامدا ومصلیا ومسلما  کلمہ گویان اسلام کی ایمانی حالت اور جہنم کے دروازے  (1)بعض مذہبی رہنماؤں نے بتا دیا کہ قرآن چالیس پارہ تھا،بہت سے لوگ مان گئے۔کسی نے کہا کہ نماز تین ہی ہے۔بعض وگ مان لئے۔کسی نے کہا کہ میں امام مہدی ہوں۔بعض لوگوں نے قبول کر لیا۔کسی نے کہا۔میں نبی ہوں،بعض لوگ قبول کر لئے۔ (2)حضور اقدس سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اقدس کے بعد ہی لوگ جھوٹے مدعیان نبوت کو مان کر اور زکات کا انکار کر کے اس قدر کثیر تعداد میں مرتد ہو گئے کہ روئے زمین پر صرف تین مسجدوں میں نماز با جماعت ہوتی تھی۔کعبہ شریف،مسجد نبوی اور مسجد جواثی(بحرین) یہ خیر القرون کا حال تھا۔ (3)ہاں،کسی عہد میں اسلام بالکل ختم نہیں ہو گا۔اللہ تعالی ایک جماعت کو حق پر قائم رکھے گا اور وہ طبقہ باطل سے مقابلہ آرائی کرتا رہے گا۔اسی کا نام اہل سنت وجماعت اور سواد اعظم ہے۔ (4)اہل سنت وجماعت مجموعی طور پر حق پر ہی قائم رہیں گے۔ہاں،اس کے بعض افراد غلط راہ پر جا سکتے ہیں،خواہ وہ عوام میں سے ہو یا مذہبی رہنماوں میں سے۔حصرت حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ کا شاگرد واصل بن عطا جو معتزلی بن گیا،وہ عوام...

Nooh

  حضرت نوح علیہ السلام کا اسمِ گرامی یشکریا عبدالغفار ہے اور آپ حضرت ادریس علیہ السلام کے پڑپوتے تھے، آپ کا لقب"نوح" اس لئے ہوا کہ آپ کثرت سے گریہ وزاری کیا کرتے تھے۔چالیس یا پچاس سال کی عمر میں آپ نبوت سے سرفراز فرمائے گئے اور 950سال آپ اپنی قوم کو دعوت فرماتے رہے اور طوفان کے بعد ساٹھ برس دنیا میں رہے تو آپ کی عمر ایک ہزار پچاس سال کی ہوئی۔ مذہبی اختلاف کی ابتداء کب ہوئی؟ مذھبی اختلاف کی ابتداء سے متعلق مفسرین نے کئیں اقوال ذکر کئے ہیں، ان میں سے ایک قول یہ ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے تک لوگ ایک دین پرر ہے، پھر ان میں اختلاف واقع ہوا تو حضرت نوح علیہ السلام ان کی طرف مبعوث فرمائے گئے، دوسرا قول یہ ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے کشتی سے اُترنے کے وقت سب لوگ ایک دین پر تھے۔ جب اللہ پاک نے حضرت نوح علیہ السلام کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا:اے میری قوم! میں تمہیں اللہ کے حکم کی مخالفت کرنے اور اس کے علاوہ کسی اور کی عبادت کرنے پر اللہ کے عذاب کا صریح ڈر سنانے والا ہوں۔ آپ نے اپنی قوم کو عبادتِ الہی کی طرف دعوت دیتے ہوئے فرمایا: اے میری قوم!ایما...

Qaume lut

  قومِ لوط سے ’پرائڈ منتھ‘ تک: فطرت سے بغاوت کا حیاتیاتی اور ارتقائی انجام! - بلال شوکت آزاد انسانی تاریخ میں کچھ جرائم ایسے ہوتے ہیں جو صرف "فرد" کو نقصان پہنچاتے ہیں، اور کچھ جرائم ایسے ہوتے ہیں جو پوری "نوعِ انسانی" (Human Species) کے وجود کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں۔  قومِ لوط کا عمل، جسے آج کل لبرلز LGBTQIA+ کی لبرل اصطلاحات کے پیچھے چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں، کوئی "ذاتی پسند" یا "محبت" کا معاملہ نہیں تھا، بلکہ یہ "حیاتیاتی خودکشی" (Biological Suicide) کی وہ پہلی کوشش تھی جس نے انسانی ارتقاء اور بقا کے بنیادی اصولوں کو چیلنج کیا تھا۔  آج مغرب جس چیز کو "ترقی" اور "آزادی" کہہ کر بیچ رہا ہے، بائیولوجی اسے "Evolutionary Dead-end" (ارتقائی بند گلی) کہتی ہے۔  اگر ہم جذبات اور نعروں سے ہٹ کر، خالص سائنسی اور منطقی بنیادوں پر اس کا جائزہ لیں، تو ہمیں معلوم ہوگا کہ یہ تحریکیں انسانیت کو آزادی دینے نہیں، بلکہ اسے "معدوم" (Extinct) کرنے آئی ہیں۔ سب سے پہلے اس "ہم جنس پرستی" (Homosexuality) کے سائ...

wahabi

  وہابی طائفہ کیا ہے؟ وہابی سلفیّت ایک ایسا گروہ ہے جو اسلام سے نسبت تو رکھتا ہے، مگر اس نے خود مسلمانوں کے خلاف خروج کیا۔ اس نے امتِ مسلمہ کو دو حصّوں میں تقسیم کر دیا: یا تو کوئی کافر و مشرک ہے، یا پھر بدعتی اور گمراہ۔ انہوں نے بدعات کے خلاف جنگ کا نعرہ بلند کیا، حالانکہ ان کے اپنے منہج کی بنیاد ہی ایک نہایت خطرناک بدعت پر ہے، اور وہ ہے بغیر معتبر دلیل کے تکفیر اور تبديع کرنا، نیز تشبیہ اور تجسیم کا عقیدہ رکھنا۔ مسلمانوں کی تکفیر کی بدعت، امت کی تاریخ میں پیدا ہونے والی سب سے خطرناک بدعت ہے، اسی طرح ایسے شخص کو بدعتی قرار دینا جو درحقیقت بدعتی نہ ہو۔ ان کا منہج چند اصولوں پر قائم ہے، جن میں نمایاں یہ ہیں: 1) کتاب و سنت کے ظاہری الفاظ کو اپنے مخصوص فہم کے مطابق لینا، معتبر علماء کی شروحات کی طرف رجوع نہ کرنا، اور نہ ہی اُن صحیح اسناد کو ملحوظ رکھنا جن پر صدیوں سے فقہاء اور محدثین کے مناہج قائم ہیں۔ 2) تکفیر اور تبديع میں اس حد تک توسع اختیار کرنا جس کی مثال مسلمانوں کی تاریخ میں پہلے نہیں ملتی۔ اس فرقے نے اپنی تاریخی مسیر کا آغاز اہلِ طائف پر حملے سے کیا، اور وہاں ایک قتلِ عام برپ...

Mulhid

 دہلی میں ہونے والے کل کے مباحثے کے بعد ملحدین کی جانب سے ایک پرانا سوال نئے پیرائے میں اچھالا جا رہا ہے، اور جس میں ہمارے شوقیہ لبرلز بھی پیش پیش ہیں، وہ یہ ہے کہ: غزہ میں بچوں کو قتل کیا جا رہا ہے، اگر خدا ہے تو پھر کہاں ہے؟ بظاہر یہ سوال جذباتی معلوم ہوتا ہے، مگر جب اسے منطق کے ترازو پر تولا جائے تو ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ جب تمہارے نزدیک خیر و شر کا معیار میجورٹی کی رائے ہے، تو پھر غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک میجورٹی کے ہاتھوں ہو رہا ہے، اسی کی پشت پناہی سے ہو رہا ہے، اور اسی کی جانب سے اسے سیاسی، اخلاقی اور قانونی جواز بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔ تمہاری اپنی منطق کی رو سے تو یہ ظلم، ظلم ہی نہیں ٹھہرتا۔ پس ظلم کا مقدمہ قائم کرنے کے لیے پہلے تمہیں ایک "مطلق انصاف" کے وجود کو ماننا ہوگا، جو خدا کے وجود کو مانے بغیر ممکن نہیں۔ اور اگر اپنی ہی منطق سے روگردانی کرتے ہوئے تم اسے ظلم تسلیم کرتے ہو، تو پھر خدا کے وجود پر سوال اٹھانے سے پہلے انسانیت کے وجود پر سوال اٹھاؤ۔ اتنی سفاکیت، وحشت اور درندگی کے باوجود اگر انسانیت کا وجود مانا جاتا ہے، تو پھر وہ کہ...

Urop ki taqat

 موہاکس کی جنگ: وہ فیصلہ کن جنگ جس نے یورپ کی فوجی طاقت کا غرور خاک میں ملا دیا جب میں نے یہ واقعہ پہلی بار پڑھا تو مجھے لگا کہ شاید یہ کوئی کہانی ہے۔ لیکن جب میں نے مغربی ذرائع اور انٹرنیٹ سے اس کی تصدیق کی تو میں حیران رہ گیا۔ یہ واقعہ یورپ میں مشہور ہے کیونکہ اس میں ہنگری کا بادشاہ، ہزاروں نواب اور بے شمار فوجی مارے گئے تھے۔ آج بھی وہاں ان کی قبریں ہیں جنہیں لوگ دیکھنے جاتے ہیں۔ یہ ایک اصلی جنگ تھی جسے ہمارے سکولوں میں پڑھانا چاہیے تھا اور ہر سال اس کا ذکر ہونا چاہیے تھا۔ اسی جنگ سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ سلطنت عثمانیہ کو تاریخ میں کیوں برا بنا کر پیش کیا گیا۔ اور یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ تاریخ کو مسخ کر کے اسے "مرد بیمار" (ترکی) کی وراثت کیوں بتایا گیا۔ یہ کوئی عام جنگ نہیں تھی، بلکہ ایک بہت بڑی تباہی تھی! یہ تھیموہاکس کی جنگ۔ ایسی جنگ جسے یورپ آج تک بھول نہیں پایا۔ کیوں لڑی گئی جنگ؟ عثمانی سلطان سلیمان القانونی نے اپنا سفیر ہنگری کے بادشاہ کے پاس ٹیکس(جزیہ) لینے بھیجا۔ اس وقت ہنگری یورپ کی عیسائی طاقتوں کا مضبوط قلعہ تھا۔ پوپ (عیسائیوں کے بڑے پادری) کے کہنے پر ہنگری کے بادشاہ ...

Waqt

 مغل شہزادوں کی نیند، گورے کے دفاتر اور ہمارے بند بازار: زوال کی نفسیات تاریخ کے اوراق پلٹیں تو ایک عبرت ناک منظر ابھرتا ہے جو آج بھی ہمارے حال کا آئینہ ہے۔ مغل دور کے آخری ایام میں، جب زوال کی پرچھائیاں دہلی کی فصیلوں کو چھو رہی تھیں، شہزادے رات بھر کی محفلوں کی تھکن اتارنے کے لیے پو پھٹے "خمار" کی وادیوں میں پناہ لیتے تھے۔ عین اسی وقت، سات سمندر پار لندن کی دھند میں ایک برطانوی افسر سورج کی پہلی کرن کے ساتھ اپنے دفتر کا چراغ روشن کر چکا ہوتا تھا۔ یہ محض دو انسانوں کا فرق نہیں تھا بلکہ یہ دو متصادم رویوں کا ٹکراؤ تھا۔ ایک طرف وہ ذہن تھا جو کائنات کے فطری توازن یعنی "روشنی" کے ساتھ قدم ملا کر چلنا جانتا تھا، اور دوسری طرف وہ طبقہ جو رات کی تاریکی میں کھو کر دن سے آنکھیں چرا رہا تھا۔ یہی وہ نادیدہ لکیر تھی جس نے سلطنتوں کے مقدر بدل دیے۔ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں تب نہیں ہارتیں جب ان کے پاس وسائل ختم ہو جائیں، بلکہ تب ہارتیں ہیں جب وہ "وقت" کی قدر کھو بیٹھتی ہیں۔ 1. الہامی حکمت اور فطرت کا پکار اسلامی نقطہ نظر سے دیکھیں تو اللہ تعالیٰ نے سورۃ النباء میں فرمایا:...